ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا ہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا کیا اُن نے نشے میں مجھ کومارا اتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا دشنوں سے کسی کا اتنا ظالم ٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا اب دل کے تئیں دیا تو سمجھا محنت زدوں کے جگر نہ ہوگا (ق) دنیا کی نہ کر تو خواست گاری اس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا آ خانہ خرابی اپنی مت کر قحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا پھر نوحہ گری کہاں جہاں میں ماتم زدہ میر…
Read MoreMonth: 2024 جون
میر تقی میر ۔۔۔ اُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا ہم رہروانِ راہِ فنا ہیں بہ رنگِ عمر جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا اپنے شہیدِ ناز سے بس ہاتھ اُٹھا کہ پھر دیوانِ حشر میں اُسے لایا نہ جائے گا اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا ہم…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے
جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے سامنا اِک عمر سے ہے اُس اندھیری رات سے مطمئن کیا ہو بھلا بچّوں کی نادانی سے وہ ماں جسے فرصت نہیں اک آن بھی خدشات سے کر لئے بے ذائقہ وہ دن بھی جو آئے نہیں درس کیا لیتے بھلا ہم اور جھڑتے پات سے ابنِ آدم اب کے پھر فرعون ٹھہرا ہے جسے مل گیا زعمِ خدائی آہنی آلات سے جس کے ہم داعی ہیں ماجد ضَو نہیں، ظلمت ہے وہ پھوٹتی ہے جو ہمارے جسم کے ذرّات سے
Read Moreآغا بابر ۔۔۔ پھیلتا ہوا کاجل (افسانہ)
’’اس وقت کا خیال کرو جب عورت کا بال سفید ہوجاتا ہے، جب عورت کے پھل پک کر سڑ جاتے ہیں اور معاشرے کی خود کار مشین اس کو اگلی قطار سے پھٹک کر پچھلی قطار میں پھینک دیتی ہے۔ اتنی دیر میں اگلی قطاروں میں نئی لڑکیاں آجاتی ہیں۔‘‘ ’’آجاتی ہوں گی۔‘‘ سلیمہ بغیر کسی ر د عمل کے بولی۔ چہرہ کورے کا کورا۔ جوار نہ بھاٹا۔ جیسے جامد پانی میں کنکر تک نہ گرے۔ یہ بات نصر ہی نے نہیں کہی تھی۔ ایسی باتیں کئی لڑکے اور کہہ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اندھیرے کی دیوار بن کے گرا
اچانک تری یاد کا سلسلہ اندھیرے کی دیوار بن کے گرا ابھی کوئی سایہ نکل آئے گا ذرا جسم کو روشنی تو دکھا پڑا تھا درختوں تلے ٹوٹ کر چمکتی ہوئی دھوپ کا آئنا کوئی اپنے گھر سے نکلتا نہیں عجب حال ہے آج کل شہر کا میں اس کے بدن کی مقدس کتاب نہایت عقیدت سے پڑھتا رہا یہ کیا آپ پھر شعر کہنے لگے ارے یار علوی یہ پھر کیا ہوا
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ کشور ناہید
کشور ناہید کشور ناہید کی ابتدائی شاعری میں رومان انگیزی، محبت کی خواب ناک کیفیات اور کسی حد تک جنسی محرومیاں نمایاں تھیں۔بعد ازاں ’’عروسی‘‘ اور ’’رات آتی ہے‘‘ جیسی نظموں میںعورت کی تشنہ آرزوئیں جھلکتی محسوس ہوتی ہیں۔گویا تجربات و مشاہدات میں اضافے کے ساتھ انہوں نے عورت کی نفسیاتی گتھیوں کو بھی سمجھاجو اُن کی تخلیقات کا اہم موضوع بھی بنا۔کشور ناہید کا تخلیقی کینوس اکثر ہم عصروں سے زیادہ وسیع ہے، اِس لیے کہ مغربی ادب پر بھی اُن کی نظر ہے مگر وہ مشرقی ذہن سے…
Read Moreمحسن اسرار
تم روایت سمجھ رہے ہو جسے صورتِ حال یہ ابھی کی ہے
Read Moreمحسن اسرار
تمھیں تو اور بہت کام زندگی کے ہیں وصال کی نہ کرو آرزو ہماری طرح
Read More