زبیر خیالی ۔۔۔ حیات ایسے گزاری جارہی ہے … ज़ुबैर ख़याली

حیات ایسے گزاری جارہی ہے کہ یہ بیکار ساری جا رہی ہے مکانِ دل ہے گَرد آلود کتنا مگر صورت سنواری جارہی ہے اِرادے خودکشی کرنے لگے ہیں تمنا دل میں ماری جارہی ہے بڑا پرسوز عالم ہے وہاں کا جہاں تک آہ و زاری جا رہی ہے الٰہی! عدل کی میزانِ برحق زمیں پر کب اتاری جا رہی ہے زمانہ معترف جس کا کبھی تھا وہ رسمِ دوست داری جا رہی ہے اِسی رستے پہ منزل ہے خیالی جدھر اپنی سواری جا رہی ہے

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ سمن بروں سے چمن دولت نمو مانگے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

سمن بروں سے چمن دولت نمو مانگے ہوائے دامن گل گیسوؤں کی بو مانگے طراز شوخیٔ پا ہے گیاہ سبز کی مانگ خرام ناز کا انداز آب جو مانگے بکھرتی زلف سے ٹوٹے غرور شب کا طلسم سحر کا حسن فسون رخ نکو مانگے ورق ورق گل تر موج موج باد سحر بدن کا لمس ترے پیرہن کی بو مانگے شگاف کوہ نہ تھا تیشۂ وفا کی طلب یہ جوئے شیر ابھی اور کچھ لہو مانگے شکست شیشۂ پندار کی صدا بھی سن کرم کی بھیک جب اس سنگ دل…

Read More

رخسانہ فیض ۔۔۔ ہو چکا ہے جو ترے بعد پرانا دیکھے … रुख़साना फ़ैज़

ہو چکا ہے جو ترے بعد پرانا دیکھے آئے دنیا مری آنکھوں کا زمانہ دیکھے روشنی پھوٹ پڑی ہے تری حدت کے طفیل زندگی لوٹ کے آئے میرا شانا دیکھے چند لمحوں کی رفاقت میں بنایا ہے اسے کوئی آئے تری یادوں کا خزانہ دیکھے رونے لگتے ہیں نئے درد مرے سینے میں جب مری سمت کوئی رنج پرانا دیکھے

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون اب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کون یا جگر میں خوں کم تھا یا ابھی جنوں کم تھا دشت کے عوض کرتا ورنہ قصد گلشن کون اک نشاط آرائی اک سکون تنہائی ہجر یا وصال اچھا حل کرے یہ الجھن کون سلسلے محبت کے نام سے نہیں چلتے اپنی ذات جو تج دے شیخ کیا برہمن کون اک نئی لگن بخشے اک فقط تھکن بخشے مردم آزما نکلا رہنما کہ رہزن کون عشق بے خبر گزرے خیر و شر کے عقدوں…

Read More

افضل ہزاروی ۔۔۔ اُڑتے اُڑتے شام ہوئی تو گھر لوٹے … अफ़ज़ल हज़ारवी

اُڑتے اُڑتے شام ہوئی تو گھر لوٹے روشنی جب تمام ہوئی تو گھر لوٹے رسوائی کا دیکھا خواب تو آنکھ کھلی عزت جب نیلام ہوئی تو گھر لوٹے دھیرے دھیرے یاد آیا گھر کا رستہ دھیرے دھیرے شام ہوئی تو گھر لوٹے نام کمانے گھر سے نکلے تھے لیکن قسمت جب ناکام ہوئی تو گھر لوٹے سوچا تھا بِک جائیں گے ہم بھی افضل ہستی جب بے دام ہوئی تو گھر لوٹے ۔۔۔ حیرت کے امکان بناتا رہتا ہوں کچھ منظر ویران بناتا رہتا ہوں کوئی تو ان میں پھول…

Read More

گوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیں لیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیں اب سوچ لو قدم ہیں زیاں گاہ شوق میں کہنا نہ پھر کہ جذبۂ کامل بھی کچھ نہیں گہرا سکوت چاپ کی آواز بازگشت رہ میں بھی کچھ نہ تھا سر منزل بھی کچھ نہیں جز حرص منفعت تہ دریا بھی کچھ نہ تھا جز وہم عافیت لب ساحل بھی کچھ نہیں سب جذب آرزو کی تمازت کا کھیل ہے دل سرد ہو تو گرمئ محفل بھی کچھ نہیں بدلے تو اک نمونۂ‌ اعراض…

Read More

عثمان حنیف ۔۔۔ میری خاطر ترے ہونٹوں سے دعا ہو جاتی ۔۔۔ उस्मान हनीफ़

میری خاطر ترے ہونٹوں سے دعا ہو جاتی بخدا شہر میں اک جنگ بپا ہو جاتی بس اسی وجہ سے دو بار مَیں ناکام ہوا پاس ہوتا مَیں ، تو استانی جدا ہو جاتی ایک ثروت تھا سمندر میں گرا ، ڈوب گیا وہ نہ گرتا تو یہاں موت رہا ہو جاتی خودکشی کرتے سمے خط نہیں چھوڑا میں نے ایسا کرنے سے مری موت خفا ہو جاتی ایک طرفہ کی محبت میں بکھرنے والے سب یہی کہتے ہیں اے کاش عطا ہو جاتی یہ گزارش ہے سخن کی کہ…

Read More

گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ کیسے ڈوبا ڈوب گیا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

کیسے ڈوبا ڈوب گیا ڈوبنے والا ڈوب گیا کیسی نیک کمائی تھی! پیسہ پیسہ ڈوب گیا ناؤ نہ ڈوبی دریا میں ناؤ میں دریا ڈوب گیا لوگ کنارے آن لگے اور کنارہ ڈوب گیا بارش اس نے بھیجی تھی شہر ہمارا ڈوب گیا ساری رات بتا ڈالی تارہ تارہ ڈوب گیا گوہر پورا خواب سنا پانی میں کیا ڈوب گیا

Read More

ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ حمد باری تعالیٰ

تِرے ذکر سے لمحہ لمحہ فروزاں تِرے نور سے ساری دُنیا فروزاں تِرے حکم سے جب نکلتا ہے سورج تو ہوتے ہیں سب باغ و صحرا فروزاں تخیّل تِرا جلوہ گر جب ہُوا ہے شبِ تِیرہ کو ہم نے دیکھا فروزاں مِرے خانۂ قلب کا ذرّہ ذرّہ کِیا تو نے ہی میرے مولا فروزاں درخشاں تِرے نور سے کہکشائیں ہے خورشید میں تیرا جلوہ فروزاں فقط اپنی قدرت سے اے میرے مولا! یہ عالم کیا تو نے سارا فروزاں ندیمؔ اب دُعا اور کیا تجھ سے مانگے ہُنر مَیں نے…

Read More

شبہ طراز ۔۔۔ مون سون

پھر تمنا اُڑان بھرتی ہے خواب آنکھوں میں پھر مچلتے ہیں پھر پرندے ہرے سمندر پر رنگ سارے چھڑکتے جاتے ہیں پھر ہواؤں میں جاگتی ہے کسک پھر کسی یاد کی سیہ آندھی دل کے اطراف سے گزرتی ہے ایک لمحہ کہیں پہ روتا ہے زندگی زاویہ بدلتی ہے۔۔۔ دور کچھ پربتوں کے دامن میں ایک بستی میں شام ڈھلتی ہے۔۔!

Read More