یوں بہاروں کو سزا دیتے ہیں لوگ سبز شاخوں کو جلا دیتے ہیں لوگ تاکہ اک طوفاں اُٹھایا جا سکے بات کو کتنی ہوا دیتے ہیں لوگ اک اچھوتا وار کرنے کے لیے ہاتھ سے خنجر گرا دیتے ہیں لوگ مدعی کا خوں بھی لے لیتے ہیں سر کب کسی کو خوں بہا دیتے ہیں لوگ دیدنی ہے مصلحت کی انتہا مسئلے زندہ دبا دیتے ہیں لوگ پھاند کر پرواز سناٹے کی حد گاہے گاہے سر کٹا دیتے ہیں لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہنستے ہیں لوگ ہم سے ہی کیسا مذاق ہے…
Read MoreMonth: 2025 جولائی
جیا قریشی ۔۔۔ رنگِ مزاجِ یار سے جو متصف نہ ہو
رنگِ مزاجِ یار سے جو متصف نہ ہو محبوب کیا جہان سے جو مختلف نہ ہو اوڑھی نہ ہو جو صبر و رضا کی بدن پہ شال بے شک محبتوں کا کبھی معترف نہ ہو یہ ذہن و دل کے سلسلے ملتے نہ ہوں جہاں ایسی گلی میں جا کے کبھی معتکف نہ ہو حاصل رسائی منزلِ دل تک نہ کر سکے دنیا کے قاعدوں سے اگر منحرف نہ ہو سمجھے گا یار خاک تقاضے وفائوں کے جس پر رضائے دل ہی جیا منکشف نہ ہو
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی
یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی کہ ملے نہ زندگی بھر مجھے دادِ خوش نوائی بخدا عظیم تر ہے شہدا کے خون سے بھی مرے سینۂ قلم میں جو بھری ہے روشنائی یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدیوِ ہفت قلزم طرف سراب دوڑے پئے قسمت آزمائی فلک اور اسے جھکائے سرِ منزل سفیہاں ملک آئیں جس کے در پر بہ ہوائے جبہ سائی چمنِ شعور نو کو جو لہو سے اپنے سینچے کبھی اس کو سکھ نہ بخشے کوئی پنجۂ حنائی ہمہ ساز ہوں بظاہر ہمہ سوز ہوں بہ…
Read Moreدانش عزیز ۔۔۔۔ تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو
تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو سامنے والا تو چاہے گا کہ آدھا کھیلو وصل کی شرط پہ شطرنج وہ ہاری تو کہا میں نہیں کھیلتی تم مجھ سے دوبارہ کھیلو کپکپاتی ہوئی پوروں کو سنبھالو اپنی موت کے کھیل کو اچھے سے مسیحا کھیلو اس لیے آج تلک جیت سے واقف نہیں میں حکم صادر تھا کہ ہر کھیل ہی تنہا کھیلو فائدہ کیا حدِ فاصل سے تجاوز کر کے ٍجتنا آتا ہے تمہیں کھیلنا اتنا کھیلو آخری سانس تلک ہجر نبھاؤ یارو جاں ہتھیلی…
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ میں زندگی ہوں
میں زندگی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں مسافتوں کی میں دھول مٹی سے اٹ گئی ہوں میں مر رہی ہوں مگر تھا عزم صمیم میرا کہ منزلوں تک ہے مجھ کو جانا سو عزم و ہمت سے سوئے منزل میں جا رہی ہوں مجھے نہ روکو کہ مجھ کو شاید عداوتوں سے محبتیں ہیں ہے شدتوں سے نباہ میرا یہ غم ہے میرا کہ نفرتوں میں گھری ہوئی ہوں میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں اگر کسی کو گمان…
Read Moreمرزا آصف رسول ۔۔۔ فداک امی و ابی
نہ صرف حسن بہ ہر کیف و کم ہے تجھ پہ فدا ہے جو بھی عشق بہ شانِ اتم ہے تجھ پہ فدا نہ بس فداک ابی ، نے فداک امّی بس ہے اور بھی جو کوئی محترم ہے تجھ پہ فدا ہے بندگی تو وہی جس میں پیروی ہو تری کہ ہر ثواب و جزاء و کرم ہے تجھ پہ فدا طوافِ کعبہ و سعی و سجود و عمرہ و حج سبھی فدا ہیں حرم پر، حرم ہے تجھ پہ فدا تو شمعِ محفلِ یزداں تو رونقِ ہستی ہر…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم
کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم یا فقط داستاں ہے کیا معلوم کیا حدودِ یقیں میں ہے خلاق یا سراسر گماں ہے کیا معلوم آرزو تھی خدا کو یا حاجت کیوں وجودِ جہاں ہے کیا معلوم لہو یا خود میں نقص کا احساس علتِ انس و جاں ہے کیا معلوم اضطراراً کہ بعدِ فکرِ دقیق خلعتِ ایں و آں ہے کیا معلوم کس لئے کس طرف بہر ساعت رخشِ ہستی رواں ہے کیا معلوم کس خلائے نظر کے بھرنے کو یہ زمیں آسماں ہے کیا معلوم ہے کہیں آفتابِ ذات…
Read Moreایوب خاور ۔۔۔ ہر دل عزیز امجد اسلام امجد کے لیے
اے پیارے امجد! ہمارے امجد! کہاں گئے ہو ہم اپنی اپنی روانیوں میں کہاں پہ پہنچے تم اپنی دھن میں کہاں چھپے ہو یہ کس سے پوچھیں تھکن سفر کی ہمارے پیروں سے دل تک آئی تو مڑ کے دیکھا مڑ کے دیکھا تو تم نہیں تھے ، کہاں چھپے ہو! اے پیارے امجد! ہمارے امجد سبھی کے امجد تم تو بھائی یہیں کہیں اس ہجومِ یاراں کے بیچ بیٹھے کوئی لطیفہ سنا رہے تھے نہ جانے کس شام کی اتھا میں اتر گئے ہو بھلا کوئی اس طرح بھی…
Read Moreگوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…
Read Moreاحمد جلیل ۔۔۔۔ رہتا ہے قربتوں کا وہ احساس ہر گھڑی ۔۔۔ अहमद जलील
رہتا ہے قربتوں کا وہ احساس ہر گھڑی وہ دور جا کے بھی ہے مرے پاس ہر گھڑی تنہا کٹیں گے کیسے یہ جیون کے راستے ڈستا ہے یہ جدائی کا احساس ہر گھڑی رہتی ہے اس کی خوشبو سے ہر لحظہ گفتگو بکھری ہے اس کی چاروں طرف باس ہر گھڑی مجھ سے خفا خفا ہیں یہ محفل کی رونقیں پیچھے پڑا ہے میرے یہ بن باس ہر گھڑی مایوسیوں کے گھور اندھیروں کے باوجود جگنو سی ٹمٹماتی ہے اک آس ہر گھڑی ہر لحظہ خیمہ زن ہے یہاں…
Read More