کس نے آزادی کا مضموں لکھ دیا دیوار پر خون کے چھینٹے نظر آنے لگے دستار پر آ ہی جاتی ہیں لبوں پر دل میں پنہاں تلخیاں جتنی بھی پابندیاں عائد رہیں اظہار پر زندگی میں اور بھی ہیں کام، اے جانِ غزل! یہ نظر رہتی نہیں پیہم لب و رخسار پر سچ کہا تو داد دینے کے لیے کوئی نہ تھا جھوٹ جب بولا تو شہ سرخی بنا اخبار پر عشق کو تو ہر طرح ہے بے کلی کا سامنا وصل کے اقرار سے وہ آ گیا انکار پر…
Read MoreMonth: 2025 جولائی
ارشد محمود ارشد ۔۔۔ ہوائے سرد چلی ساتھ ہو لیا میں بھی
ہوائے سرد چلی ساتھ ہو لیا میں بھی مثالِ برگِ خزاں دیر تک اُڑا میں بھی کسی طرح سے تو ٹوٹے یہ تیرگی کا فسوں چراغ شب کو جلاتے ہوئے جلا میں بھی جدھر نگاہ پڑی ایک ہُو کا عالم تھا نجانے کونسے سگنل پہ رک گیا میں بھی سمے کی دھوپ نے جھلسا دیا مجھے ورنہ دکھائی دیتا تھا تجھ سا ہرا بھرا میں بھی بتا رہے ہو مجھے کون سی قیامت کا ہزار بار تو کرتا ہوں سامنا میں بھی گنوا کے زیست کی پونجی مجھے خیال آیا…
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی
یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی خواب میں خواب دکھانے کی ضرورت کیسی تم کو معلوم ہے کس سمت ہوا کا رخ ہے پڑ گئی خاک اُڑانے کی ضرورت کیسی رات دن ایک کیے میں نے اسی مقصد میں اب مجھے دیکھ کے ہے آپ کو حیرت کیسی عشق ورثے میں کہاں ملتا ہے معلوم ہے یہ آپ کا حق ہے … محبت میں اجازت کیسی مدتوں بعد سنورتے ہوئے دیکھا … تو کہا اف… روایت سے نکل آتی ہے جدت کیسی شعر کا وزن تو قائم ہے…
Read Moreامجد بابر ۔۔۔ گلوبل ورلڈ کے کمبل میں
گلوبل ورلڈ کے کمبل میں ۔۔۔۔ کوئی تو لپیٹ رہا ہے گلوبل ورلڈ کا کمبل کہیں سے نئے زمانے فضا میں اجنبی سی آہٹ ہمارے دل،ذہنوں میں خدشے گھولتی ہے ہم جو روایت اور اقدار سے جڑے معمولی ذرات سے بھی کمتر اپنے ہونے کی بے سود گواہی سے منحرف نجانے کتنے تجربات سینوں میں چھپائے مسلسل رائیگانی کے جلو میں چل رہے ہیں ابھی انسان بننے سے کوسوں دُور ہیں یہ دُنیا ہر لمحہ تبدیل ہونے کی کہانی ہے یہاں رنگوں کی بارش پھول موسم محبت کی ڈائری… سب…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گی
زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا دریا میں جتنا زور تھا پل میں اُتر گیا دیکھی جب اپنی ذات پہ آتی ذرا سی آنچ وہ بدقماش اپنے کہے سے مُکر گیا آخر کو کھینچ لایا وہ سورج سرِ افق جو جیش جگنوؤں کا بسوئے سحر گیا خود اُس کا اَوج اُس کے توازن کو لے اڑا نکلا ذرا جو حد سے تو سمجھو شجر گیا جس کو بقا کا راز بتانے گیا تھا میں سائل سمجھ کے وہ مری دستک سے ڈر گیا کربِ دروں…
Read Moreذکی طارق ۔۔۔ صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے
صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے دلوں میں لگتا ہے اب تک درار باقی ہے ملول کیوں ہے قیامت ابھی نہ آئے گی ابھی جہاں میں بہت سارا پیار باقی ہے تم آئے تو ہو بظاہر ہماری محفل میں مگر تمہارا ابھی انتظار باقی ہے یہ کیسے مان لیں ہے قحط سالی دنیا میں ہماری آنکھوں میں تو آبشار باقی ہے وبالِ جاں نہیں نعمت ہے مجھ کو بیماری تمہارے جیسا جو تیمار دار باقی ہے عجیب بات ہے ذکر ان کا ہو رہا ہے اور نظامِ گردشِ…
Read Moreنعتؐ ۔۔۔ جلیل عالی … जलील आली
جادہِ عشق میں تابندہ علم تیرے ہیں کیا بتائیں ہمیں کیا نقشِ قدم تیرےؐ ہیں دوسرا کون ہے اس شان کا ممدوح کوئی وصف جیسے سرِ قرطاس و قلم تیرے ہیں مالکِ کُل نے کیا والی و مختار تجھے یہ جہاں تیرا ہے فردوس و ارم تیرےؐ ہیں اک تریؐ دُھن ہے ہمارے لیے آہنگِ حیات شوق سینے میں بہم آنکھ میں نم تیرےؐ ہیں دل کسی موسم و ماحول کا محتاج نہیں ہوں کسی حال میں بھی ہم ہمہ دم تیرےؐ ہیں کیا مجال آنکھ اٹھے اپنی کسی اور…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی
جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی ہوں پیار کی باتیں بھی تو لذت نہیں ملتی آرام گھڑی بھر کسی کروٹ نہیں ملتا راحت کسی پہلو شب فرقت نہیں ملتی جب تک وہ کھنچے بیٹھے ہیں دل ان سے رکا ہے جب تک نہیں ملتے وہ طبیعت نہیں ملتی جیتے ہیں تو ہوتی ہے ان آنکھوں سے ندامت مرتے ہیں تو اس لب سے اجازت نہیں ملتی اس زہد پر نازاں نہ ہو زاہد سے یہ کہہ دو تسبیح پھرانے ہی سے جنت نہیں ملتی کیا ڈھونڈھتے ہیں گور…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے … गौहर होशियारपुरी
دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے زنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساں نیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دے یہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہو تصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی چاہے اک پل میں بدلتے ہیں خد و خال لہو کے آنکھ اپنے کسی خواب کی تعبیر بھی چاہے لہجہ تو بدل چبھتی ہوئی بات سے پہلے تیر ایسا تو کچھ…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اپنا دکھڑا کہتے ہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
اپنا دکھڑا کہتے ہیں اور تجھے کیا کہتے ہیں کچی کونپل ہوتا ہے پیار کا رشتہ کہتے ہیں دنیا کس کی اپنی ہے اہل دنیا کہتے ہیں اے دل یہ در ماندگیاں تجھ کو دریا کہتے ہیں اپنا سا بس لگتا ہے جس کو اپنا کہتے ہیں لوٹنے والے! دیر نہ کر لوٹ کے لے جا کہتے ہیں گوہرؔ لوگ تو بات نہیں بات کا سہرا کہتے ہیں
Read More