روش ہے سہل کہ دشوار دیکھ لیتے ہیں سفر سے قبل ہی آثار دیکھ لیتے ہیں نگاہ دیکھتی ہے سامنے کے منظر کو شعور سے پسِ دیوار دیکھ لیتے ہیں مراد ، ذوق و طلب سے چھپی نہیں رہتی طیور شاخِ ثمردار دیکھ لیتے ہیں سوال ٹھیک نہیں ہر چراغ سے لَو کا دیا ہے کس کا ، طلب گار دیکھ لیتے ہیں خریدنے کے لیے کچھ گرہ میں ہو کہ نہ ہو گزر کے گرمیٔ بازار دیکھ لیتے ہیں تعلقات میں غفلت روا نہیں گلزار کسی سے کیا ہے…
Read MoreMonth: 2025 جولائی
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ گلزار بخاری
کیا کیا ہیں گہر دامنِ بحرین میں دیکھیں اوصافِ نبی سیرتِ حسنین میں دیکھیں پوچھیں پرِ جبریل سے پرواز نبی کی معراج ہے کیا منزلِ قوسین میں دیکھیں ہو گا نہ جُدا شہر درِ علم سے ہر گز مضبوط ہے کیا ربط فریقین میں دیکھیں سایہ نہ ہو جس ذات کا ثانی ہو تو کیسے ایسا کوئی انسان ہے کونین میں دیکھیں ڈھونڈے نہ کہیں اور ملے گا وہیں گلزار ہاں بو ذر و سلمان کے نعلین میں دیکھیں
Read Moreمحمد نور آسی ۔۔۔ دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں
دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں ہم ترا دیکھنا سمجھتے ہیں اس لیے ہم برے ہیں بتلاؤ ہم برے کو برا سمجھتے ہیں ہم پرندوں کو ساتھ لے آئے جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں عشق تھا ، صبر تھا کہ قربانی ہم کہاں کربلا سمجھتے ہیں وصل کیا ہے ؟ تمھیں نہیں معلوم! چل ، کسی روز آ ، سمجھتے ہیں قربتیں تو اسی کا پرتو ہیں ہم جسے فاصلہ سمجھتے ہیں لوگ منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں ہم جسے راستہ سمجھتے ہیں تیرے قدموں کی لڑکھڑاہٹ کو ہم ،…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے
میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے پھر نگاہِ غور سے قانونِ قدرت دیکھیے سیرِ مہتاب و کواکب سے تبسم تابکے رو رہی ہے وہ کسی کی شمعِ تربت دیکھیے آپ اک جلوہ سراسر میں سراپا اک نظر اپنی حاجت دیکھیے میری ضرورت دیکھیے اپنے سامانِ تعیش سے اگر فرصت ملے بیکسوں کا بھی کبھی طرزِ معیشت دیکھیے مسکرا کر اس طرح آیا نہ کیجے سامنے کس قدر کمزور ہوں میں، میری صورت دیکھیے آپ کو لایا ہوں ویرانوں میں عبرت کے لیے حضرتِ دل دیکھیے اپنی حقیقت دیکھیے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ رضااللہ حیدر
قسم خدا کی وہ حسن و جمال دلکش ہے نبی کے روضے کا منظر کمال دلکش ہے رسول اعظم و آخر کا خُلق قرآں ہے ہماری ماں نے جو دی ہے مثال دلکش ہے وہ جس کو سُن کے ملائک بھی وجد کرتے تھے وہی اذان میں طرزِ بلال دلکش ہے گرے گا اب درِ خیبر بھی اور مرحب بھی خُدا کے شیر علی کا جلال دلکش ہے ربیعہ مانگ رہے ہیں ہے حضور کی سنگت جواب اچھوں سے اچھا سوال دلکش ہے طریقِ ہجرتِ نبوی پہ چل کے جاؤں…
Read Moreمحمود کیفی ۔۔۔ ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں
ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں اِک کُنویں سے وہ نِکل کر ہے گِرا دوسرے میں باغِ دِل میں کبھی اپنے یہ کلی کِھلنے نہ دی ہم نے ڈھونڈی ہے ہمیشہ ہی وفا دوسرے میں ہم گریبان میں اپنے نہیں دیکھا کرتے ہم کو آتی ہے نظر ساری خطا دوسرے میں اپنی خامی بھی نہیں مانتے ناکامی پر یہ نہیں دیکھتے ہم خُوبی ہے کیا دوسرے میں مذہبی لوگ ہیں ہم اور یہی جانتے ہیں اِک جہاں میں ہے فنا اور بقا دوسرے میں ایک ہی وقت…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے
اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے حالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہے جب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کو دنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اِتراتا ہے اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کا گردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ ذکر اچھا نہیں برائی کا
ذکر اچھا نہیں برائی کا تذکرہ تم کرو بھلائی کا چار دن کے بخاری جیون میں فائدہ کیا کسی ، لڑائی کا اس جوانی کے دور میں اکثر شوق ہوتا ہے خود نمائی کا اپنی سنتا تو کوئی کیا سنتا تیری جانب تھا رخ خدائی کا نوکری بھی ہے نوکری لیکن لطف اپنا ہے اک پڑھائی کا وقت نے بادشہ بنایا ہے پاس کچھ تو کرو خدائی کا جرم عاصم ہمارا تھا اتنا شکوہ ہم سے ہوا نہ بھائی کا
Read Moreزبیر خیالی ۔۔۔ تِیرگی بے لباس ، کمرے میں
تِیرگی بے لباس ، کمرے میں بن گئی ہے ہِراس کمرے میں قید احساسِ گل نہیں ہوتا پھیل جاتی ہے باس کمرے میں جو مُقَفَّل رہا یہ دَر یوں ہی گھر بنا لے گی گھاس کمرے میں نِصف شب ، خواب میں خیال ترا آگیا بے قیاس کمرے میں اِک دریچے سے جِھلملاتا ہے روشنی کا نِکاس کمرے میں لب تھے محروم لب کشائی سے جسم تھا بے حواس کمرے میں سانس تازہ ہَوا کا طالِب تھا حَبس آیا نہ راس کمرے میں گَرد آلود ہیں کتابیں سب مَر رہی…
Read Moreعقیل رحمانی ۔۔۔۔ گر ہے ہمت ظلم کے بازار پر اُنگلی اُٹھا
گر ہے ہمت ظلم کے بازار پر اُنگلی اُٹھا جو ڈبوئے خوں میں اُس دَستار پر اُنگلی اُٹھا شب کے رُخ پر روشنی کے ہاتھ سے تحریر لکھ حوصلہ کرکے ذرا دو چار پر اُنگلی اُٹھا پہلے اپنی گفتگو سے لفظ پتھریلے نکال پھر کسی کے لہجہ و گفتار پر اُنگلی اُٹھا راکھ کر دیتی ہیں یہ بارود کی بیساکھیاں اِن کے شعلوں میں چُھپے اَسرار پر اُنگلی اُٹھا ذہن میں رکھ لے یزیدِ ظُلم کے انجام کو پھر غلامِ حیدرِؓ کرار پر اُنگلی اُٹھا کیوں جلانا چاہتا ہے جسم…
Read More