ظہور چوہان ۔۔۔ اوّلیں اور آخری تنہا

اوّلیں اور آخری تنہا صاحبو ! ایک ہے ’’علی‘‘ تنہا رنگ سب اُڑ گئے ہَواؤں میں پھر تری یاد رہ گئی تنہا تیرگی میں بھی ہے شعاع ِ اُمید اِتنے غم اور اِک خوشی تنہا اُن مکانوں میں پھول کِھلتے ہیں دیکھتا ہے اُنہیں کوئی تنہا اُس سے بچھڑا تو پھر سمجھ آئی کیسے ہوتا ہے آدمی تنہا لوگ سب اپنے کام کاج میں گْم ہوتی جاتی ہے زندگی تنہا سب کو تنہائی سے بچانے لگا اور پھر ہو گیا وہی تنہا میرے چاروں طرف اندھیرا ہے بس یہاں پر…

Read More

طلعت شبیر ۔۔۔ دنیا دار

دنیا دار ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں  جلوہ کناں چاہت اِخلاص کی ساری حدت اِحساس کا تمام وزن جذبوں کے سارے پرتو جب میں نے جنون کے میزان پر رکھے تو تمہارا پلڑا بھاری تھا کہ تم نے ٹوٹ کر محبت کی اور میں احتیاط کے کرب میں اُلجھا صرف دُنیاداری کرسکا

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

کہہ دو دل و جاں سے کہ احد ہے اللہ محتاج کہاں ہے کہ صمد ہے اللہ اس کی احدیت پہ گواہی دیکھیں والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ ۔۔۔۔۔ دل سے نہ کسی شخص کے جُوفہ نکلا یہ ایک نیا اور شگوفہ نکلا ظاہر میں دکھائی دیا مگر لیکن اندر سے ہر اک شخص ہی کوفہ نکلا ۔۔۔۔۔۔ لب مدحتِ رحمن کرے مشکل ہے دشواریاں آسان کرے مشکل ہے کس طور سے جانے کوئی قاتل کا دوام اندازہ یہ انسان کرے مشکل ہے ۔۔۔۔ مت بھاگ یونہی…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ ڈیم

ڈیم ۔۔۔۔ اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے وسائل کی بقا ہوتے کوئی پانی کا ریلا سیل یا طوفان کیوں بنتا زمینوں کے لیے نقصان کیوں بنتا مویشی اور بندے ڈوب کر مرتے نہ لہروں میں پریشاں اس قدر ہر سوچ کا انسان کیوں بنتا ہزاروں ڈیم پبلک کی مدد سے رات دن تعمیر ہوتے ہیں طلاطم کے لیے ناقابلِ تسخیر ہوتے ہیں کمی بجلی کی پیش آتی نہ کوئی کارخانہ بندشوں کا سامنا کرتا تھپیڑے آزمائش کے مسلسل ارتقا ہوتے اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک

للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک پیر ہے جسم مگر طبع جواں ہے اب تک برف باری ہے مہ و سال کی سر پر لیکن خون میں گرمئ پہلوئے بتاں ہے اب تک سر پہ ہر چند مہ و سال کا غلطاں ہے غبار فکر میں تاب و تبِ کاہکشاں ہے اب تک کب سے نبضوں میں وہ جھنکار نہیں ہے پھر بھی شعر میں زمزۂ آبِ رواں ہے اب تک للہ الحمد کہ دربارِ خرابات کی خاک سرمۂ دیدۂ صاحب نظراں ہے اب تک زندگی کب…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔۔ راستی کا سفر

راستی کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں سامنے کس طرح کی بستی ہے سرنگوں شر کے سامنے دیکھی زندگی خیر کو ترستی ہے جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ ہے یہ پہچان کس قبیلے کی خود پرستی کے اس خرابے میں جرم ہے آئنہ دکھانا بھی جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا جب ہے انصاف خود کٹہرے میں

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ بہار

بہار ۔۔۔۔۔۔ کبھی میں نے محبت کے پرندوں کی نوا سنجی سے گھر خالی نہیں دیکھا کہاں کس نے دوامی مہربانی کا ہنر عالی نہیں دیکھا رہے غافل گلستاں سے کوئی بیدار خو خالی نہیں دیکھا لگائو ہے لگن رب کی صفاتی دلبری جس کو سدا میں نے بروئے کار دیکھا ہے محبت کو بہار آثار دیکھا ہے

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔۔ مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے

مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے سفر کا موسم ترے اشارے کا منتظر ہے اسی لیے ہم زباں پہ لائے ہیں ذکر تیرا بیان کا حسن استعارے کا منتظر ہے روا نہیں مصلحت پسندی تری طلب میں خلوص اپنے لیے خسارے کا منتظر ہے تری نظر کی تپش سے شعلے بھڑک نہ جائیں بدن کا ایندھن کسی شرارے کا منتظر ہے تلاش کرتے ہیں خواب تعبیر اپنی اپنی صدف گہر کا، سفینہ دھارے کا منتظر ہے تجھے تو گلزار پار کرنا تھا دوسروں کو مگر تو اپنے لیے کنارے…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے

نہ چھیڑ شاعر ربابِ رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگارِ فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمانِ پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیرِ فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیبِ نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریمِ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی

سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی فرازِ کوہ پہ ماہِ تمام ہے ساقی چنے ہوئے ہیں پیالے جھکی ہوئی بوتل نیا قعود نرالا قیام ہے ساقی بہ ناز ِمغچگان و بہ فیض نعرۂ ہو ہمائے ارض و سما زیرِ دام ہے ساقی فضا پہ نہر پرافشانِ تابِ حور و طہور غنا میں شہرِ قصور و خیام ہے ساقی یہ کون شاہدِ مستی فروش و نغمہ نواز نفس کے تار پہ گرمِ خرام ہے ساقی نہ اسم و جسم نہ حرف و نفس نہ سایہ و نقل یہ کیا…

Read More