بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا "اک دیا تم سے محبت کا جلایا نہ گیا” دیکھتے دیکھتے ہوتے گئے یوں رستے جدا تم سے روکا نہ گیا مجھ سے بلایا نہ گیا ہم سے گر تم ہو گریزاں تو گریزاں ہی رہو فاصلہ ہم نے بڑھایا بھی، بڑھایا نہ گیا آج بھی رات میں سناٹے ڈراتے ہیں مجھے آج بھی دل سے اس آسیب کا سایا نہ گیا تم نے سوچا ہے کبھی کیسے گزرتی ہے مری تم نے پوچھا نہیں اور ہم سے بتایا نہ گیا
Read MoreMonth: 2025 ستمبر
راحت اندوری
اجنبیت کی بستی میں بقا کی تمنا لیے، شاعر نے دشمنوں کے درمیان دل تھام کر قدم رکھا ہے۔
جہاں ہمدردوں کی گنتی انگلیوں پر ہو، وہاں ہر سانس بھی گویا جرأتِ اظہار کا استعارہ بن جاتی ہے۔
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اے بہ رخ مصحف گلزار و چراغ حرم غنچگی و آیۂ گل باری و قرآن بہار
یہ غزل جوش ملیح آبادی کی خطیبانہ جولانی، استعارہ ساز فطرت، اور آتش بیانی کی درخشندہ مثال ہے۔
زبان میں ایک طرف فصاحت و بلاغت کی روانی ہے تو دوسری طرف فکر و جذبہ کی طغیانی۔
شاعر نے بہار کو محبوبِ خوابیدہ، پیامبرِ نشاط، اور روحِ جہاں کی صورت مخاطب کیا ہے۔
موضوع میں کائناتی افسردگی، تہذیبی جمود، اور حیاتِ نو کی پکار نمایاں ہے۔
یہ کلام محض غزل نہیں، بلکہ نثرِ مسجع کا نغماتی ارتعاش اور جوشیانہ سرشاری کا آئینہ دار ہے۔
محمد انیس انصاری ۔۔۔ دو غزلیں
میں حرف حرف ہوا ہوں گریز پائی سے تجھے کمال میسّر ہے آشنائی سے میں کب تلک یونہی لڑتار ہوں حقوق کی جنگ شکست کھائے چلا جائوں نارسائی سے رقابتوں کا یہ دیرینہ کھیل ختم بھی ہو کہ تھک گیا ہوں میں اس پنجہ آزمائی سے سمیٹ لوں میں ابھی ذات کی توانائی پھر ایک حشر اٹھے گا مری اکائی سے انیس! جھیل رہا ہوں مسافتوں کے عذاب کہ منزلیں ہیں عبارت شکستہ پائی سے ۔۔۔۔ پسِ مژگاں اذیّت سہہ رہا ہے سمندر قطرہ قطرہ بہہ رہا ہے دریچے میں…
Read Moreبرق دہلوی
کنجِ قفس سے ہائے رہائی نہ ہو سکی ہر چند عندلیب نے مارے ہزار پر
Read Moreخالد احمد
فصل تو نے بوئی تھی ، لیکن اسے کاٹیں گے ہم دیکھ تو حدِّ نظر تک لہلہاتی دوریاں
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ دو غزلیں
حل نہیں تھا کوئی ، احباب کی رائیں تھیں بہت اِک دِیا طاق میں تھا اور ہوائیں تھیں بہت زندگی ! کیسے مقابل تِرے آ سکتا تھا مَیں اکیلا تھا تِرے ساتھ بلائیں تھیں بہت بعض کو زہر ہی تریاق ہے ، جیسے کہ ہمیں عشق نے شانت کیا، ورنہ دوائیں تھیں بہت واں مِرے جبہ و دستار بھلا کیا کرتے محفلِ شوق میں رنگین قبائیں تھیں بہت دل کی بیماری ہی لاحق ہُوئی ، اچھا ہی ہُوا ورنہ تو اور بھی جاں لیوا وبائیں تھیں بہت جرمِ اُلفت میں…
Read Moreباقر آگاہ ویلوری
سینہ کاوی میں اپنے ناخن سے رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں
نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں بہار رت میں شجر پیرہن بدلتے ہیں ڈرا نہ پائے گا یہ ہجر تیرگی سے ہمیں ہماری پلکوں پہ شب بھر چراغ جلتے ہیں رہِ سفر میں کوئی ہم سفر نہیں، لیکن میں مطمئن ہُوں کہ چھا لے تو ساتھ چلتے ہیں مقام ملتا نہیں ہے صعوبتوں کے بغیر مجھے خبر ہے کئی لوگ ہاتھ ملتے ہیں ہمیشہ فکر ستاتی ہے دشمنوں کو اب کہاں پہ گرتے ہیں اور ہم کہاں سنبھلتے ہیں مگر ہمیشہ انہیں مسکرا کے ملتی ہُوں مجھے خبر ہے…
Read Moreعقیدت ۔۔۔ آصف ثاقب
میری آنکھوں میں منّور خانہ کعبہ اور اشکوں کا ہے محور خانہ کعبہ اس کے ارماں ہی مرے دل میں بسے ہیں یاد رکھتے ہیں وہ اکثر خانہ کعبہ اس سے ایماں کی خبر سب کے لیے ہے اس کو جانو ہے مبشر خانہ کعبہ دیکھنے کی یہ تمنا جو مری ہے مجھ سا پائے گا قلندر خانہ کعبہ خانہ کعبہ ہے سہارا ، میرا ثاقب ہر قدم پر ہے مظفر خانہ کعبہ
Read More