انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read MoreCategory: م
عبدالحمیدعدم
مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ کوئی آفت ادھر نہیں آتی
Read Moreمقبول عامر
مجھے خود اپنی نہیں اس کی فکر لاحق ہے بچھڑنے والا بھی مجھ سا ہی بے سہارا تھا
Read Moreظفر اقبال
مسائل اپنے اپنے تھے ، ضرورت اپنی اپنی تھی نہ میں ممنون ہوں اس کا ، نہ وہ مشکور ہے میرا
Read Moreظفر اقبال
مجھ سا بزدل جائے گا بزمِ عدو میں کیا ظفرؔ میں تو مدت ہوگئی اپنے بھی گھر جاتا نہیں
Read Moreظفر اقبال
میرے حصے کی ملاوٹ یہی کیا کم ہے کہ میں شور میں شعر ملانے کے لئے زندہ ہوں
Read Moreظفر اقبال
محبت واجبی اچھی ہے ، اے دل! اسے اعصاب پہ طاری نہ کرنا
Read Moreمحسن اسرار
میں نے دیکھا ہے اُس کی آنکھوں میں میری اپنی ضرورتیں بھی ہیں
Read Moreمحسن اسرار
مجھ کو حالات پہ قابو نہیں پانے دیتا دوسرے لمحے ہر اک پل کا گذشتہ ہونا
Read Moreاقبال کوثر
مری تمثیل مرے دیکھنے والوں کو دِکھا میں ہوں آگے مرے کردار کے پیچھے کیا ہے
Read More