حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ خاور اعجاز

لبوں پہ رہتی ہیں ہر دم جو مدحتیں اُس کی شمار کرتے ہیں ہم اِن کو نعمتیں اُس کی ہمیں نصیب ہے اِک عاجزی ، زمانے میں مکان اُس کا ہے ، در اُس کا ، دولتیں اُس کی کتاب ، ذاتِ محمدؐ ، یہ سانس کی ڈوری ہم عاصیوں پہ ہیں کیا کیا عنایتیں اُس کی مکانِ زیست میں ہم اِس طرح سے رہتے ہیں کہ فرشِ خاک ہمارا ہے اور چھتیں اُس کی رہِ یقین میں ہم ڈگمگاتے رہتے ہیں ہمیں سنبھالتی رہتی ہیں رحمتیں اُس کی

Read More

حمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔۔ واجد امیر

کیسے مرے محدود سے وجدان میں آئے کیسے وہ بھلا عقل کے جُزدان میں آئے بے شک نہ کبھی وہ مری پہچان میں آئے کچھ عکس کبھی دیدۂ حیران میں آئے انسان اگر سب ترا انکار بھی کردیں کچھ فرق نہ اللہ تری شان میں آئے تشکیک کا دھبہ نہ لگے دل کے وَرق پر کیوں نقص زرا سا مرے ایمان میں آئے اِک خوف رگوں میں جو اُتارے ہے تکاثر اِک کیف الگ سورۂ رحمٰن میں آئے دیتا ہے تسلّی کوئی ان دیکھا مسیحا وسواس اگر کچھ دلِ نادان…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

کہہ دو دل و جاں سے کہ احد ہے اللہ محتاج کہاں ہے کہ صمد ہے اللہ اس کی احدیت پہ گواہی دیکھیں والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ ۔۔۔۔۔ دل سے نہ کسی شخص کے جُوفہ نکلا یہ ایک نیا اور شگوفہ نکلا ظاہر میں دکھائی دیا مگر لیکن اندر سے ہر اک شخص ہی کوفہ نکلا ۔۔۔۔۔۔ لب مدحتِ رحمن کرے مشکل ہے دشواریاں آسان کرے مشکل ہے کس طور سے جانے کوئی قاتل کا دوام اندازہ یہ انسان کرے مشکل ہے ۔۔۔۔ مت بھاگ یونہی…

Read More

قاضی حبیب الرحمٰن ۔۔۔ حمدیہ قصیدہ

حمدیہ قصیدہ زوروں پر ہے چشمہء نور اپنا ظرف، اپنا مقدور! شمسِ حقیقت کے ہوتے سارے وہم و گُماں کافور ایک ہَوا کی آہٹ پر ناچ اُٹھا شہرِ مَزمور! کسی خیال کی لذّت میں رہتا ہے غم بھی مَسرور ایک خَلا کی نسبت سے دل ہے خَلوت سے مَعمور جیسے ہے ہر چیز، یہاں اپنے نشّے میں مَخمور سو بھی کم کم کُھلتا ہوں حسبِ استعدادِ ظُہور خود سے چھپتا پھرتا ہوں اپنے اندر اک مَفرور! پردے کا ہے سارا کھیل ورنہ ، میں کیا! کون حضور! اِک دریا کی…

Read More

حمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ حامد یزدانی

روشن ہے تجھ سے کُو بہ کُو، اللہَ جلَّ شانہٗ ہے نور تیرا چارسُو، اللہَ جلَّ شانہٗ اے خالقِ کون و مکاں، قدرت کا تیری ہے نشاں یہ کائناتِ رنگ و بُو، اللہَ جلَّ شانہٗ روزِ ازل سے تا ابد، گونجے سدا ’اللہ صمد‘ ہر سمت ہے: ’اللہَ ھُو‘ ، اللہَ جلَّ شانہٗ روح و دل و جاں کے مکیں، تو ہے رگِ جاں سے قریں پھر بھی ہے تیری جستجو، اللہَ جلَّ شانہٗ جاں سُکھ میں ہو دِل چین میں، حاضر ہوں ہم حرَمین میں ہے یہ دعا، یہ…

Read More

حمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ نسیمِ سحر

اَور کوئی نہیں چار سُو ، تُو ہی تُو ہر طرف ایک آوازِ ہُو ، تُو ہی تُو وجہِ تخلیق و وجہِ نُمُو تُو ہی تُو سینۂ سنگ میں آبجُو تُو ہی تُو ہوں ازل تا ابد مَیں سفر در سفر ہر سفر میں مِری جستجو تُو ہی تُو ! تخلیے میں ہے افضل تِرا تذکرہ بزم میں حاصلِ گُفتگُو تُو ہی تُو! میرے رُخ پر خجالت کی زردی بھی ہے مُجھ کو رکھتا بھی ہے سرخرو تُو ہی تُو دُور ہم تُجھ سے ہیں، تُو تو ہم سے نہیں…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

حمد صبح طائر جو چہچہاتے ہیں تیری تسبیح گنگناتے ہیں اے خدا تجھ سے عرض کرتے ہوئے اشک آواز بنتے جاتے ہیں عرش کے آخری کناروں تک پرچمِ حمد لہلہاتے ہیں ورد ہوتا ہے‘‘الصمد’’جن کا ناز دنیا کے کب اٹھاتے ہیں ماند پڑتے ہیں سب سخن کے پھول جب گلِ حمد کھلکھلاتے ہیں ان کے مرقد میں روشنی ہوگی مشعلِ ذکر جو جلاتے ہیں آؤ سرور کہ حجرۂ جاں میں بندگی کا دیا جلاتے ہیں

Read More

حمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ خاور اعجاز

آئی ہے زمانے کی ہَوا آس لگائے پہلو میں لیے دل کا دِیا ، آس لگائے جاتے ہیں تِرے در سے سبھی جھولیاں بھر کے آتے ہیں تِرے در پہ سدا آس لگائے ہم عاصیوں پر نظرِ کرم اے مِرے مولا ہم بھی ہیں کھڑے روزِ جزا آس لگائے تجھ سے جو بندھی ہے ہر ِاک احساس کی ڈوری اِس دہر سے بندہ تِرا کیا آس لگائے مانگے پہ تو دُنیا بھی ہمیں دے گی بہت کچھ ہم تجھ سے ہیں کچھ اِس سے سوا آس لگائے نظریں ہیں طوافِ…

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

اُتری مرے خیال پہ مشکِ ختن تمام سوچا خدا کا نام تو مہکا بدن تمام طائر نسیمِ صبح کے ہمراہ صبح دم ذکرِ خدائے پاک میں دیکھے مگن تمام لکھا مرے قلم نے جب’’ ایاک نستعیں‘‘ خوشبو مثال ہو گئے حرف و سخن تمام نبضِ حیات اس کے ہی دم سے رواں دواں ٹھہرا ہے جس کے ِاذن سے چرخِ کہن تمام طاقت تمام دین کے رستے میں صرف ہو کام آئے اس کی راہ میں ضعفِ بدن تمام سانسوں میں اس کے ذکر کی نوبت کی گونج ہے تسبیح…

Read More

حمد باری تعالیٰ … سید ریاض حسین زیدی

ربِ کریم! تیری عنایت ہے بے بہا بے خانماں کو گھر جو دیا تو نے خوش نما بے مثل کیسا حقِ رفاقت ہوا ادا دیکھے نہ مصطفی ؐ کہیں تجھ سے کبھی جدا ہریالیوں نے روحِ جہاں کو سجا دیا شاداب تیرا گھر ملا ، گنبد ملا ہرا دکھلائی تو نے راہ جو ہے راہِ مستقیم سمجھا دیا کہ کام نہ ہرگز ہو ناروا تو چاہے کائنات اندھیروں میں جا گھرے تیرا کرم ہے تو  نے اندھیروں کو دی ضیا عہد ِستم میں غیرتِ ایماں خطر میں تھی ہے تیرا…

Read More