تُو ازل سے ہے ، ابد تک ہیں زمانے تیرے جِن و انسان و ملک ، سب ہیں دِوانے تیرے تجھ کو دیکھا تو نہیں ، پھر بھی سبھی جانتے ہیں ہر حقیقت سے حقیقی ہیں فسانے تیرے تُو کہ لوٹاتا نہیں خالی کبھی بندوں کو پھر بھی ہر دم بھرے رہتے ہیں خزانے تیرے تُو ہے وہ بحر ، نہیں جس کا کنارہ کوئی اپنے بندوں کے مگر دل ہیں ٹھکانے تیرے ذرّہ ذرّہ ہے تِری حمد و ثنا میں مصروف کیسے گونجیں نہ دو عالم میں ترانے تیرے…
Read MoreCategory: حمد
ابتدا ۔۔۔ خالد علیم
اِبتدا ۔۔۔۔۔۔ تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقۂ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر…
Read Moreزاہد فخری ۔۔۔ عقیدت (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023)
ہزار شکر کہ شاعر بنا دیا تو نے اور اس پہ نعت بھی کہنا سکھا دیا تو نے سلیقہ تو نے دیا مجھ کو حمد لکھنے کا کہ شکر کرتے ہیں کیسے بتا دیا تو نے ترے کرم نے مجھے چھاؤں بانٹنی بخشی زمینِ فکر پہ برگد اگا دیا تو نے میں دشمنوں کو بھی دل سے دعائیں دیتا ہوں لہو میں خیر کا چشمہ بہا دیا تو نے مٹا دیئے مری دوری کے جتنے صدمے تھے مرے تو دل میں مدینہ بسا دیا تو نے درود پڑھ کے میں…
Read Moreحمد ۔۔۔ حسن عسکری کاظمی (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023)
وہ پھول جو وجدان کے صحرا میں کھلا ہے اس پھول کی خوشبو کے تعاقب میں ہوا ہے کہیے کہ قریبِ رگِ جاں ہے وہی جاناں وہ شوخ ہے ایسا جسے دیکھا نہ سُنا ہے کلیوں کا تبسم بھی تو مسکان ہے اس کی دیکھا تو وہی پھول کے پردے میں چھپا ہے ادراک کی لہروں میں رواں ہے وہ ازل سے وہ خون میں شامل ہے مگر پھر بھی جدا ہے پہنچا ہے سرِ عرش تصور کا پرندہ یہ قوتِ پرواز بھی خالق کی عطا ہے یہ سوچ کے…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی ( ماہنامہ بیاض ستمبر ۲۰۲۳)
خالد علیم ۔۔۔ حمدﷻ
حمدﷻ جو تیری حمد کو ہو خوش رقم، کہاں سے آئے وہ روشنائی، وہ نوکِ قلم کہاں سے آئے گناہ گار ہوں اے میرے مہربان خدا! اگر گناہ نہ ہوں، چشمِ نم کہاں سے آئے اگر نہ تارِ نفس کا ہو سلسلہ تجھ سے یہ مجھ سے خاک نژادوں میں دم کہاں سے آئے تری رضا سے علاوہ، تری عطا کے بغیر بدن میں طاقت ِ رفتار و رَم کہاں سے آئے ترے کرم کے ترشُح بغیر دھوپ میں بھی ہَوا میں تازگیِ نم بہ نم کہاں سے آئے رجوعِ خیر…
Read Moreحمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ خالد علیم
محمد انیس انصاری … حمد باری تعالیٰ
حمد باری تعالی ۔۔۔ خالد علیم
ﷻ جو تیری حمد کو ہو خوش رقم، کہاں سے آئے وہ روشنائی، وہ نوکِ قلم کہاں سے آئے گناہ گار ہوں اے میرے مہربان خدا! اگر گناہ نہ ہوں، چشمِ نم کہاں سے آئے اگر نہ تارِ نفس کا ہو سلسلہ تجھ سے یہ مجھ سے خاک نژادوں میں دم کہاں سے آئے تری رضا سے علاوہ، تری عطا کے بغیر بدن میں طاقت ِ رفتار و رَم کہاں سے آئے ترے کرم کے ترشُح بغیر دھوپ میں بھی ہَوا میں تازگیِ نم بہ نم کہاں سے آئے رجوعِ خیر…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔۔ رخشندہ نوید
شمارِ رحمتِ ربیّ ہو وہ عدد نہیں ہے میں حمد کیسے لکھوں اتنا میرا قد نہیں ہے پناہ دیتا ہے وہ ذوالجلال والاکرام کہ اس جناب میں تفریقِ نیک و بد نہیں ہے وہ سب کی جھولیاں بھرتا ہے سب کا رب جو ہوا اُسی کا در ہے جہاں مانگنے کی حد نہیں ہے وہی ہے رازق و مالک‘ نہیں کوئی ذی روح کہ جس کے واسطے اللہ کی مدد نہیں ہے تجھی کو زیبا ہیں مالک تمام ذات و صفات الٰہ کیسے وہ ہو گا کہ جو صمد نہیں…
Read More