حصارِ خواب سے باہر مرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…
Read MoreCategory: آج کی غزل
غلام حسین ساجد ۔۔۔ کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا
کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی مِرا…
Read Moreسجاد بلوچ ۔۔۔ دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ
دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ آ گئی رات اٹھانے مرا ڈھلتا سایہ تم نے اچھّا ہی کیا چھوڑ گئے ، ویسے بھی ایک سائے سے بھلا کیسے سنبھلتا سایہ میں وہی ہوں مرا سایہ بھی وہی ہے اب تک میں بدلتا تو کوئی رنگ بدلتا سایہ میں نے اس واسطے منہ کر لیا سورج کی طرف مجھ سے دیکھا نہ گیا آگے نکلتا سایہ میرا حاسد مرا ہمزاد نہیں ہو سکتا مجھ سے جلتا تو مرے ساتھ نہ چلتا سایہ آج بھی بیٹھا ہوں گم صم پسِ…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے
سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے کونین ہے اک لرزشِ صہبا مرے آگے ہر نجم ہے اک عارضِ روشن مرے نزدیک ہر ذرہ ہے اک دیدۂ بینا مرے آگے ہر جام ہے نظارۂ کوثر مرے حق میں ہر گام ہے گلگشتِ مصلےٰ مرے آگے ہر پھول ہے لعلِ شکر افشاں کی حکایت ہر غنچہ ہے اک حرفِ تمنا مرے آگے اک مضحکہ ہے پرسشِ عقبیٰ مرے نزدیک اک وہم ہے اندیشۂ فردا مرے آگے ہوں کتنی ہی تاریک شبِ زیست کی راہیں اک نور سا رہتا ہے جھلکتا مرے…
Read Moreانصر منیر ۔۔۔ ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا
ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا عشق پہلے تو یار ٹھیک لگا قید ہوتا گیا ترے دل میں دھڑکنوں کا حصار ٹھیک لگا میں نے پرکھا تھا بار بار اسے مجھ کو وہ بار بار ٹھیک لگا تیرے جیسا نہیں لگا پھر بھی کوئی مجھ کو ہزار ٹھیک لگا دائروں کا سفر ہی کرنا تھا مجھ کو اس کا مدار ٹھیک لگا رشک سے دیکھتا تھا وہ مجھ کو جو بھی دریا کے پار ٹھیک لگا
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد
اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد ختم ہوتا نہیں سورج کا سفر شام کے بعد توڑ دیتی ہیں خموشی کو چہکتی چڑیاں بولنے لگتے ہیں چپ چاپ شجر شام کے بعد اُس کو خورشید نظر تک نہیں آنے دیتا مرکزِ دید ٹھہرتا ہے قمر شام کے بعد بھول جاتی ہے اُنھیں خلق ضرورت کے بغیر یاد آتا ہے چراغوں کا ہُنر شام کے بعد راستہ کون دکھاتا ہے اندھیرے میں اسے کس طرح ڈھونڈتی ہے فاختہ گھر شام کے بعد پھول اُجلے سے کھلائے ہیں فلک پر…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اب کے برسات میں پانی آئے
اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل جیسی رنگ ہر کھیت پہ دھانی آئے پھول سا روپ لیے دن نکلے رات آئے تو سہانی آئے دھوپ آئے تو سہانی آئے چاندنی لے کے جوانی آئے شعر کہتے ہیں یونہی سے علوی کیا ہمیں بات بنانی آئے
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے
اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے تیرا عاشق، انجمن ہی کیوں نہ ہو، خلوت میں ہے جذب کر لینا تجلی روح کی عادت میں ہے حسن کو محفوظ رکھنا عشق کی فطرت میں ہے محو ہو جاتا ہوں اکثر میں کہ دشمن ہوں ترا دل کشی کس درجہ، اے دنیا! تری صورت میں ہے اف نکل جاتی ہے، خطرے ہی کا موقعہ کیوں نہ ہو حسن سے بیتاب ہو جانا مری فطرت میں ہے نور کا تڑکا ہے، دھیمی ہو چلی ہے چاندنی ہل رہا ہے…
Read Moreایک زمیں ۔۔۔ پانچ غزلیں۔۔۔ امید فاضلی ۔ محسن نقوی۔ جاذب قریشی ۔ احتشام بچھرایونی ۔ محسن احسان
امید فاضلی اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش میں جانے کہاں بھٹک جاؤں سفر میں دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورتِ دیوار و در بھی آتا ہے سکوں تو جب ہو کہ میں چھاؤں صحن میں دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہو کیا لوگو سفر میں لمحۂ ترکِ سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر سنگ دلوں کو ماجد…
Read More