محسن اسرار

آوازہ کوئی کستا ہے ہم پہ تو کسے جائے کب ہوش میں رہتا ہے کوئی گھر سے نکل کے

Read More

محسن اسرار

بستر پہ کوئی اُس کی اداکاری تو دیکھے آیا ہو کوئی جیسے بہت دور سے چل کے

Read More

محسن اسرار

اُسے بھی ہوش میں رہنے کا خبط ہے محسنؔ وہ توڑ دیتا ہے جام و سبو ہماری طرح

Read More

محسن اسرار

مجھ کو حالات پہ قابو نہیں پانے دیتا دوسرے لمحے ہر اک پل کا گذشتہ ہونا

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ وہ ہدف ہے کہ زدِ تیر سے باہر ہی رہے

وہ ہدف ہے کہ زدِ تیر سے باہر ہی رہے جب بھی کھینچوں اُسے، تصویر سے باہر ہی رہے رشتۂ موجد و ایجاد کی منطق سمجھو یہ جہاں دستِ جہاں گیر سے باہر ہی رہے جبر مجبور ہے، چھپ کر بھی نہیں چھپ سکتا شور زنجیر کا زنجیر سے باہر ہی رہے یوں کہ کچھ عکس نمائی کا ہمیں شوق نہ تھا چشمِ آئینۂ تشہیر سے باہر ہی رہے وہ ارادہ مجھے دے، اے مری ترکیبِ وجود! جو عمل داریِٔ تقدیر سے باہر ہی رہے المیے میرے زمانے کے مجھے…

Read More

آفتاب اقبال شمیم ۔۔۔ الف اکائی کے رشتے سے کٹی ہوئی

الف اکائی کے رشتے سے کٹی ہوئی ایک زمیں اور سرحد سرحد بٹی ہوئی پاؤں میں گھمسان برستے پانی کا سر پر چھتری جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی ایک تماشا عالم گیر خسارے کا ہر پل دیکھوں جیون پونجی گھٹی ہوئی کل کی کالک دھو کر آج کی تختی پر لکھتے رہئے ایک ہی املا رٹی ہوئی نشّے میں ہے اور طرح کی یکسانی روز کی یکسانی سے قدرے ہٹی ہوئی

Read More

محسن اسرار

دنیا والوں کے منصوبے میری سمجھ میں آئے نہیں زندہ رہنا سیکھ رہا ہوں اب گھر کی ویرانی سے

Read More

محسن اسرار

ہم نے بھی حسبِ حال تری رائے کی طرح سچ بولنے کا اپنا طریقہ بدل دیا

Read More