حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا سنے فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ لیکن نہ گل نہ غنچہ نہ باد صبا سنے خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورشِ حیات! درد آشنا کی بات نہ درد آشنا سنے شاہوں کے دل تو سنگ ہیں شاہوں کا ذکر کیا یہ بھی نہیں کہ حال گدا کا گدا سنے عالم ہے یہ کہ گوشِ…
Read MoreTag: جوش ملیح آبادی کی غزل
جوش ملیح آبادی ۔۔۔ فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر خوباں کیوں نہ ہو
فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو خاک ہونا ہے تو خاکِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیر دل اسیرِ حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نام عقل والو پھر طوافِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو جب نہیں مستوریوں میں بھی گناہوں سے نجات دل کھلے بندوں غریقِ بحرِ عصیاں کیوں نہ ہو جب خوش و ناخوش کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ہاتھ ہم نشیں پھر بیعتِ جامِ زر افشاں…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے
نہ چھیڑ شاعر ربابِ رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگارِ فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمانِ پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیرِ فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیبِ نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریمِ…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے
اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے حالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہے جب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کو دنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اِتراتا ہے اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کا گردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے…
Read Moreجوش ملیح آبادی
کسی کا عہدِ جوانی میں پارسا ہونا قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی
Read More