وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا ہم کو بھی دوستی کے تقدس کا پاس تھا ٹھوکر لگی تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے اک سنگِ رہگزارِ وفا غرقِ یاس تھا پگھلا دیا تھا روح کو دوری کی آنچ نے تیرے دُکھوں کا رنگ بدن کا لباس تھا تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا نفرت کی تیز دھارنے شہ رگ ہی کاٹ دی اتنا خلوص تھا کہ سراپا سپاس تھا مدت ہوئی جسے پسِ حد نظر…
Read MoreTag: سید آل احمد کے اشعار
سید آل احمد ۔۔۔ ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ
ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ ہمیں نے رُخ پہ ملا خونِ گرم کا غازہ اُداسیوں کی کڑی دُھوپ مجھ پہ رحم نہ کھا گئے دنوں کی وفا کا یہی ہے خمیازہ ہے تار تار کچھ اتنا لباسِ حال مرا شعورِ ذات بھی کسنے لگا ہے آوازہ مجھے بھی دے گا کوئی شہر میں کبھی ترتیب ہے کوئی آنکھ کہ بکھرا ہوا ہے شیرازہ یہ اور بات کئی حسن دلفریب ملے کھلا نہ ہم پہ کسی کی ادا کا دروازہ ہر ایک دُکھ کو بڑے صبر سے سہا…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے
سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے شاید مجھ سے اب تک پگلی آس لگائے بیٹھی ہے میری کسک‘ یہ میری ٹیسیں‘ آپ کو کیوں محسوس ہوئیں؟ آپ کی آنکھوں میں یہ آنسو! دل تو میرا زخمی ہے نفس نفس اک تازہ سرابِ منزل خواب ہے یہ دُنیا نظر نظر قدموں سے خواہش سایہ بن کر لپٹی ہے چپ مت سادھو‘ جھوٹ نہ بولو‘ اب تو اطمینان سے ہو اب تو ہر دن سو جاتا ہے‘ اب تو ہر شب جاگتی ہے دل ایسا معصوم پرندہ‘ اپنے…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا
آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا ابر کا انتظار کتنا تھا اک الاو تھا رُوٹھنا اس کا مسکراتی تو پھول کھل جاتا دل کے در پر یہ کس نے دستک دی گونج اُٹھا ہے گھر کا سناٹا تیری قربت مری ضرورت تھی یوں تو تو نے بھی خواب دیکھا تھا دو قدم اور ساتھ دے لیتے حوصلہ آپ کا بھی کم نکلا کون صحرا میں دے تجھے آواز کون کھولے طلب کا دروازہ آو قانون کی کتاب پڑھیں اب صحافت میں کچھ نہیں رکھا میرے حصے میں غم کی…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے
دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے اک رنج رایگاں کی طلب بے حساب ہے لغزش کے سہو پر مجھے شرمندگی نہیں قربت کی ہر کجی مری گل آفتاب ہے پچھلے برس بھی نیکیاں سب ضائع ہو گئیں اب کے برس بھی جان! کڑا احتساب ہے بے شک وہ بے وفا ہے مگر اس کی راہ میں دل کی طرح چراغ جلانا ثواب ہے اے صبح نو! لہو کی حرارت بھی کر عطا ہیں برف حرف لب پہ یہی انقلاب ہے نفرت بھی وہ کرے تو کوئی…
Read Moreسید آلِ احمد
ناواقف و شناسا ذرا بھی نہیں لگی خوش بھی نہیں ہوئی وہ خفا بھی نہیں لگی
Read Moreسید آلِ احمد
کسی کے لب پہ چراغِ دعا نہیں جلتا ہر ایک شخص کی جیسے زبان کالی ہے
Read Moreسید آلِ احمد
یہ اور بات دل تھے کدورت کی خستہ قبر لہجوں میں نکہتوں سے بھرا بانکپن ملا
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں
غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں ہم دُکھی لوگ کسے اپنا کہیں سوچ میں ہیں جسم اور روح کے مابین کسک کس کی ہے ذہنِ ذی فہم کی کتنی ہی تہیں سوچ میں ہیں کوئی آواز‘ نہ پتھر‘ نہ تبسم‘ نہ خلوص اب ترے شہر میں ہم کیسے رہیں سوچ میں ہیں کیسا اخلاص کہ ہیں مصلحت اندیش تمام ہم بھی کیوں ان کی طرح خوش نہ رہیں‘ سوچ میں ہیں شہر بے خواب میں کب تک تن تنہا احمدؔ برگِ آوارہ کی مانند رہیں‘ سوچ میں…
Read Moreسید آلِ احمد
کون صحرا میں دے تجھے آواز کون کھولے طلب کا دروازہ
Read More