شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہے زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہے محبتوں…
Read MoreTag: اردو
سلامیہ ۔۔۔ پرویز ساحر
سلامیہ کرے نہ کیوں زمانہ احترام ‘ یا حُسَین ! بَلنـــد تر ہــے آپ کا مقام ‘ یا حُسَین ! کب اَصغر و سکینہ کے لبوں تکــ آ سکا فرات رہ گیا ہے تَشنہ کام ‘ یا حُسَین ! اُنھی دِنوں میں عام قتل و خُوں کِیا گیا کہ جن دِنوں میں جنگ ہے حرام ‘ یا حُسَین ! یہ آپ کے کلامِ خُوش اثر کا ہے کمال کہ حُر بھی آپ کا ہُوا غُلام ‘ یا حُسَین ! تمام تَشنگاں نے جام نوش کر لیے کہ جام بھی شہادتوں…
Read Moreسلام ۔۔۔ عرفان صدیقی
سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا صحرا کو شادکام کیا اس کی موج نے تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا تابندہ ہے رگوں میں لہو روشنائی سے دنیا کے نام نامۂ سرورؑ لکھا ہوا مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے کس کیلئے ہے چشمۂ کوثر…
Read Moreسلام بحضور شہدائے کربلا ۔۔۔ شین زاد
سلام بحضور شہدائے کربلا . میں یوں تو پڑھتا ہوں ہر روز بار بار سلام کرم حُسین کا ہو تو کہوں ہزار سلام . ہر ایک اشک میں آتا ہوا سلام اُن پر سلام اُن پہ سلام اور بے شمار سلام . برستی آنکھ پہ اصغر کے خشک ہونٹوں پر میں بھیجتا ہوں لب ِ خشک اشکبار سلام . ہزار کو تو جہنم رسید تو نے کیا سلام شاہ کی تلوار ذُولفقار سلام . سلام آپ کے جانے پہ یا حُسین مگر بہن کہے تو کہے کیسے دل فگار سلام…
Read Moreسلام ۔۔۔ توقیر تقی
سلام ۔۔ زیارت گاہِ چشم و دل بنا ہے شہرِ غم اپنا یہیں ہے ایک مشک اپنی یہیں ہے اک علم اپنا اِسی موسم میں سجتے ہیں عزا خانے دل و جاں میں انھی آنکھوں میں لیتی ہے شبِ گریہ جنم اپنا بس اک انکارِ جادہ ہے حسینی فکر لوگوں کا بس اک چوکھٹ پہ ہوتا ہے سرِ تسلیم خم اپنا تصدّق بر غمِ شبّیرؑ ہو کے بھی سلامت ہیں زمیں اپنی، زماں اپنے، وجود اپنا، عدم اپنا حبیب ابنِ مظاہر ہوں کہ حُر ہوں سب برابر ہیں مودّت دل…
Read Moreنذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! ۔۔۔ رحمان فارس
نذرانۂ عقیدت بحضورِ سیّدُ الشُہَدا، مظلومِ کربلا امامِ عالی مقام علیہہ السلام ! تمہیں خبر بھی ہے جو مرتبہ حُسین کا ہے ؟ فُرات چھیننے والو ! خُدا حُسَین کا ہے !!! کوئی سدا نہیں روتا بچھڑنے والوں کو ثباتِ رسمِ عزا مُعجزہ حُسَین کا ہے ازل سے تا بہ ابد نُور کے نشاں دو ہیں اک آفتاب ہے، اک نقشِ پا حُسَین کا ہے جہاں بھی ذکر ھو، اشکوں کے گُل برستے ھیں یہ احترام نبی کا ہے یا حُسَین کا ہے ذراسا غور سے دیکھو اُفق کی سُرخی…
Read Moreسلام ۔۔۔ منیر سیفی
کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائی بھُول گئی چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا موت اور سائل دستک کی خفّت سے بچ بھی سکتے ہیں اِک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا جب تک پیروکار نبی کے آنا بند نہیں ہوتے حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا کیا کیا ظُلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا ایک حسین…
Read Moreمحرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے ۔۔۔۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی، ترجمہ: رئیس امروہوی
” محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے” محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! یہی تقدیرِ یزدان تھی یہی سرِ مشئیت تھا مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا یہی فدیہ برائے بخششِ افرادِ ملت تھا شہادت کربلا والوں کی کیا تھی‘ رمزِ قدرت تھا محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو…
Read Moreسلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں مولا ترا غم کم نہيں ہوتا اس اجڑے ہوۓ گھر کی سخاوت نہيں رکتی وہ ہوں کہ نہ ہوں،ان کا کرم،کم نہيں ہوتا ديکھو سرِ نيزہ کہ قدِ اہلِ صداقت سر ہو بھی اگر جاۓ قلم، کم نہيں ہوتا يوں ہے کہ سلگتے ہيں وہ خيمے مرے اندر يوں ہے کہ مری آنکھ ميں نم ،کم نہيں ہوتا اس بات پہ کٹتی ہيں چراغوں کی زبانيں کيوں تذکرۂ شامِ الم ، کم نہيں ہوتا…
Read Moreاختر عثمان ۔۔۔ اشک آباد ” کے ایک طویل مرثیے سے اقتباسات
(3) مطلعِ دوم جب دشتِ کربلا میں دہم کی سحر ہوئی شرقی ورق پہ سطرِ خفی مشتہر ہوئی شمشیرِ سُرمہ سا سپرِ مہ کے سَر ہوئی گویا کہ درپئے شہِ جنّ و بشر ہوئی انصار اٹھ کھڑے ہوئے فرضِ نماز کو دیکھا تیمّمِ شہِ والا حجاز کو صیقل کچھ اور ہو گئے آئینہ رو تمام مٹّی سے تھے اَٹے ہوئے شب رشک مُو تمام اُن کے طواف میں تھے ادھر مشک و بُو تمام باہم جُھکے تھے سجدے میں فرق و گُلو تمام تسبیح میں چُنے ہوئے دارالسّلام کے سب…
Read More