گاؤں کی دہلیز پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سماں میری یادوں میں محفوظ ہے گاؤں سے مَیں چلا میری ماں اور رشتے کی کچھ بھابھیاں کچھ بڑی بوڑھیاں کچھ اڑوسی پڑوسی چھوڑنے آئے تھے گاؤں کی آخری حد پہ امرود کے باغ تک آبدیدہ تھے سب اپنی امی کی بانہوں سے تم ہمک کر مری گود میں آ گئے تھے مسکراہٹ میں برفی گھلی تھی اور معصوم "غوں غاں” کہ تالاب…
Read MoreTag: ظفر
ظفر گورکھپوری ۔۔۔۔ دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا
دَر سے، دہلیز سے ، دیوار سے پہلے کیا تھا غار پہلے تھا مگر غار سے پہلے کیا تھا کل ہمیں اور تمھیں یاد بھی شاید نہ رہے ان مقامات پہ بازار سے پہلے کیا تھا نہ کوئی خوف تھا آندھی کا، نہ برسات کا ڈر گھر فصیلِ در و دیوار سے پہلے کیا تھا نہ یہ رنگوں کی زمیں تھی نہ سُروں کا آکاش تیرے اور میرے سروکار سے پہلے کیا تھا کل نہ ہو گا کوئی بچوں کو بتانے والا یہ جو دیوار ہے، دیوار سے پہلے کیا…
Read Moreظفر گورکھپوری
یہاں تو خیر ویرانی بہت ہے وہاں کیا ہے جہاں پانی بہت ہے
Read Moreظفر اقبال
چمک اٹھی ہے شبِ تار تیرے ہونے سے یہ روشنی ہے لگاتار تیرے ہونے سے
Read Moreظفر اقبال
فضا میں اور ہی تصویر بن رہی تھی کوئی مجھے اک اور تماشا دکھائی دینے لگا
Read Moreسراج الدین ظفر
بُت تو درحقیقت ہیں یادگارِ مے خانہ بچ رہے جو رندوں سے، برہمن کے کام آئے
Read Moreظفر اقبال
دریا ہے کہ آئینے بہے جاتے ہیں، دیکھو یہ کون سی لہروں پہ خرام اُس نے کیا ہے
Read Moreظفر اقبال
جہاں تہاں مرے ٹکڑے بکھرتے جاتے ہیں بُرا نہیں یہ مرا انتشار میں ہونا
Read More