یاسمین حمید ادبی دنیا میں یاسمین حمید کا پہلا تعارف شعری مجموعہ ’’پس آئینہ‘‘ (1988 ء) سے ہوا۔وہ بہت پہلے سے شعر کہہ رہی تھیں اور پختہ کار تھیں۔ لہٰذا فکری و اسلوبیاتی سطح پر پسِ آئینہ نے ادبی دنیا پر اپنا بھر پور تاثرقائم کیا۔ہم محدود مطالعے کے باعث نسائی شاعری کو ادا جعفری سے شروع کر کے پروین شاکر یا پھر شبنم شکیل پر ختم کر دیتے ہیں۔حالاںکہ اُن کی پیش رو شاعرات کے ابتدائی شعری مجموعے زیرِ مطالعہ لائیے، آپ اِس بات سے اتفاق کریں گے کسی…
Read MoreTag: یاسمین حمید
یاسمین حمید ۔۔۔ کہیں اک شہر ہے
کہیں اک شہر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں اک شہر ہے جو میری آنکھوں میں سما سکتا نہیں اُس شہر کی گلیاں ڈھلکتے آنسوئوں سی جسم و جاں پر جال پھیلائے ہوئے جانے کدھر کو جا رہی ہیں اُس کے گھر آنگن دریچے، در مری بینائی پر کب کھل سکے ہیں اُس کے سبزہ زار اپنے رنگ کب مجھ کو دکھاتے ہیں کبھی اس کے خس و خاشاک میں اُڑتی ہوئی سرگوشیاں گیلی ہوا میں جذب ہو کر دور اُفتادہ زمینوں پر بسیرا کرنے جاتی ہیں تو مجھ کو دھیان آتا ہے…
Read More