منظور حسین شور … صحبتِ میکشی سرسری رہ گئی

صحبتِ میکشی سرسری رہ گئی اور جو مینا بھری تھی بھری رہ گئی کیا غضب ہے نشیمن سلگتا رہا اور شاخِ نشیمن ہری رہ گئی آخرش کام آ ہی گئی خامشی لفظ و معنی کی پردہ دری رہ گئی ہر نظر بن گئی اپنے سینے کا تیر اک خلش بن کے دیدہ دری رہ گئی نسلِ آدم سے اتنے اٹھے کردگار اپنے لب سی کے پیغمبری رہ گئی آدمی کا خدا بن گیا آدمی داورِ حشر کی داوری رہ گئی میرا ہر نقشِ پا بن گیا سنگِ میل خضر کی…

Read More

اقبال عظیم

دن ابھی باقی ہے اقبال ذرا تیز چلو کچھ نہ سوجھے گا تمہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے

Read More

یزدانی جالندھری

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا

Read More