صحبتِ میکشی سرسری رہ گئی اور جو مینا بھری تھی بھری رہ گئی کیا غضب ہے نشیمن سلگتا رہا اور شاخِ نشیمن ہری رہ گئی آخرش کام آ ہی گئی خامشی لفظ و معنی کی پردہ دری رہ گئی ہر نظر بن گئی اپنے سینے کا تیر اک خلش بن کے دیدہ دری رہ گئی نسلِ آدم سے اتنے اٹھے کردگار اپنے لب سی کے پیغمبری رہ گئی آدمی کا خدا بن گیا آدمی داورِ حشر کی داوری رہ گئی میرا ہر نقشِ پا بن گیا سنگِ میل خضر کی…
Read MoreTag: Literature
اقبال عظیم
دن ابھی باقی ہے اقبال ذرا تیز چلو کچھ نہ سوجھے گا تمہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے
Read Moreیزدانی جالندھری
لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا
Read Moreصفی لکھنوی
جو بڑھے حدِ طریقت سے وہ تھک جائیں گے کفر و ایماں کے دو راہے پہ بھٹک جائیں گے
Read Moreابراہیم اشک
بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہدِ وفا کسی سے ہم نے پھر عہدِ وفا کیا ہی نہیں
Read Moreابراہیم اشک
نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے
Read Moreابراہیم اشک
تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا
Read Moreابراہیم اشک
خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا
Read Moreابراہیم اشک
مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو
Read Moreصفی لکھنوی
وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوۓ عالم نکلتا ہے شبِ فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے
Read More