سلام ۔۔ زیارت گاہِ چشم و دل بنا ہے شہرِ غم اپنا یہیں ہے ایک مشک اپنی یہیں ہے اک علم اپنا اِسی موسم میں سجتے ہیں عزا خانے دل و جاں میں انھی آنکھوں میں لیتی ہے شبِ گریہ جنم اپنا بس اک انکارِ جادہ ہے حسینی فکر لوگوں کا بس اک چوکھٹ پہ ہوتا ہے سرِ تسلیم خم اپنا تصدّق بر غمِ شبّیرؑ ہو کے بھی سلامت ہیں زمیں اپنی، زماں اپنے، وجود اپنا، عدم اپنا حبیب ابنِ مظاہر ہوں کہ حُر ہوں سب برابر ہیں مودّت دل…
Read MoreTag: Muharram 2026
محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے ۔۔۔۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی، ترجمہ: رئیس امروہوی
” محرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے” محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! یہی تقدیرِ یزدان تھی یہی سرِ مشئیت تھا مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا یہی فدیہ برائے بخششِ افرادِ ملت تھا شہادت کربلا والوں کی کیا تھی‘ رمزِ قدرت تھا محرم آ گیا امت کے شہزادے نہیں آئے! مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں حسینی قافلہ صحرا کی جن راہوں سے گزرا تھا وہ راہیں آج بھی اس قافلے کو…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ
ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﻭ ﻣﺤﺘﺸﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﻋﻠﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺳﺒﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺪﺭِ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺍﯾﮏ ﻏﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺟﮭﯿﻞ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺪﮦٔ ﻧﻢ ﭘﺮ ﺗﺮﺍ ﮐﺮﻡ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺍﻣﮉ ﭘﮍﯼ ﻣﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢِﺑﮩﺸﺖ ﮐﮧ ﺩﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﻣﺮﮮ ﺭﺥ ﺳﮯ ﻏﺒﺎﺭِ ﻏﻢ ترا ﻏﻢ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮩﺮ ﭘﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﮞ…
Read Moreسلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں مولا ترا غم کم نہيں ہوتا اس اجڑے ہوۓ گھر کی سخاوت نہيں رکتی وہ ہوں کہ نہ ہوں،ان کا کرم،کم نہيں ہوتا ديکھو سرِ نيزہ کہ قدِ اہلِ صداقت سر ہو بھی اگر جاۓ قلم، کم نہيں ہوتا يوں ہے کہ سلگتے ہيں وہ خيمے مرے اندر يوں ہے کہ مری آنکھ ميں نم ،کم نہيں ہوتا اس بات پہ کٹتی ہيں چراغوں کی زبانيں کيوں تذکرۂ شامِ الم ، کم نہيں ہوتا…
Read Moreاختر عثمان ۔۔۔ اشک آباد ” کے ایک طویل مرثیے سے اقتباسات
(3) مطلعِ دوم جب دشتِ کربلا میں دہم کی سحر ہوئی شرقی ورق پہ سطرِ خفی مشتہر ہوئی شمشیرِ سُرمہ سا سپرِ مہ کے سَر ہوئی گویا کہ درپئے شہِ جنّ و بشر ہوئی انصار اٹھ کھڑے ہوئے فرضِ نماز کو دیکھا تیمّمِ شہِ والا حجاز کو صیقل کچھ اور ہو گئے آئینہ رو تمام مٹّی سے تھے اَٹے ہوئے شب رشک مُو تمام اُن کے طواف میں تھے ادھر مشک و بُو تمام باہم جُھکے تھے سجدے میں فرق و گُلو تمام تسبیح میں چُنے ہوئے دارالسّلام کے سب…
Read Moreراشد عارف
علی کے لعل ، محمد کے چین زندہ باد سلام تجھ پہ شہِ مشرقین زندہ باد یزید آتا رہے گا ہر اک زمانے میں زمانہ کہتا رہے گا حسین، زندہ باد
Read Moreافتخار عارف ۔۔۔ صدائے استغاثہ
صدائے استغاثہ ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا صدیوں پہلے دشتِ بلا میں اک آواز سنائی دی تھی جب میں بہت چھوٹا ہوتا تھا مری امی کہتی تھی یہ جو صفِ عزا بچھتی ہے اسی صدا کی بازگشت ہے اسی صدا پر بستی بستی گریہ و زاری کا سامان کیا جاتا ہے اور تجدیدِ بیعتِ نصرت کا اعلان کیا جاتا ہے تب میں پہروں بیٹھ کے پیارے پیارے اچھے اچھے…
Read Moreادیب رائے پوری ۔۔۔ آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر
آیا نہ ہو گا اس طرح رنگ و شباب ریت پر گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا قطرۂ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر جتنے سوال عشق نے آلِ رسول سے کیے ایک سے بڑھ کے اِک دیا سب نے جواب ریت پر عشق میں کیا لُٹائیے عشق میں کیا بچائیے آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر تَرسے حسین آب کو، میں جو کہوں تو بے ادب لمسِ لبِ حسین کو ترسا ہے آب ریت پر…
Read Moreشاہد ذکی ۔۔۔ رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا
رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا ابنِ حیدرؑ کا حوالہ بھی ہے حیدرؑ جیسا بہتے دریاؤں نے جھک جھک کے سلامی دی تھی ظرف اس تشنہ دہن کا تھا سمندر جیسا اور کچھ دن مجھے زنجیر زنی کرنے دو زخم باہر نہیں آیا ابھی اندر جیسا یہ ستارے جو مجھے زخم نما لگتے ہیں آسماں لگتا ہے زینبؑ تری چادر جیسا پھر گئی ہی نہیں ویرانیِ باغِ دنیا پھول مہکا نہ دوبارہ کوئی اصغرؑ جیسا ڈھونڈتی پھرتی ہیں اب وقت کی بوڑھی آنکھیں کیا جوانوں میں جواں…
Read Moreجون ایلیا ۔۔۔ سلام
زاتِ محمدؐ و علیؑ اصل ھے ایک نام دو میکدۂ وجود میں بادہ ھے ایک جام دو پشتِ رسولِؐ پاک پر جلوہ نما امام دو مرکبِ خوش خرام ایک، راکبِ لالہ ٖفام دو نورِِ جبینِ مصطفیؐ ،ظلمتِ گیسوئے دوتا جلوہ گہِ حرم میں آج، صبح ھے ایک شام دو غارِِ حرائے احمدی ،خمِ غدیری حیدری مقصدِ فیضِ عام ایک ، منظرِ فیضِ عام دو طور و جمالِ کبریا ، دوشِ نبی و مرتضیؑ اھلِ نظر سے پوچھیے ، جلوہ ھے ایک بام دو روئے علیؑ پہ اک نگاہ ، جانِ…
Read More