’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں کہ ایسے نوحے پہلے کم پڑھے ہیں تمہارے درد کے موسم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں یوں جیسے بیٹھ کر باہم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں تمہارے دل کے سارے غم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں حروف ِ نوحہ و ماتم پڑھے ہیں ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں ہماری چشمِ گریاں کو تو دیکھو ! ’’خطوطِ نم‘‘ بہ چشمِ نم پڑھے ہیں خدارا اَور مت ہم کو رُلاؤ !…
Read MoreTag: nazm
خالد علیم ۔۔۔ نیچے کون جائے … !!
رات کے بارہ …… نہیں! ….. شاید! ۔۔۔۔گھڑی کی سوئیاں اک دوسرے سے ۔۔۔۔چند لمحوں کی مسافت پر کھڑی ہیں ۔۔۔۔سیڑھیوں کے ساتھ کمرے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھوأں سا بھر گیا ہے ۔۔۔۔میز پر سگرٹ کے پیکٹ میں فقط، ۔۔۔۔اک آخری سگرٹ بچا تھا، ۔۔وہ بھی اب سلگا لیا ہے تیسری منزل سے نیچے سب دکانیں بند ہیں ۔۔اور سر کے اوپر، چھت پہ خالی آسماں ہے رات لمبی رات ہے، ۔۔۔۔سرما زدہ بستر میں ویرانی بچھی ہے آخری سگرٹ بھی آخر …… آخری ہے ہاتھ کی پوروں میں جلتی راکھ بھرتی…
Read Moreآصف شہزاد … چند لمحے وصال موسم کے
چند لمحے وصال موسم کے درد کی ایک بے کراں رُت ہے حبس موسم کا راج ہر جانب چند لمحے وصال موسم کے! وہ نشیلی غزال سی آنکھیں کوئی خوشبو سیاہ زلفوں کی لمس پھر وہ حنائی ہاتھوں کا کوئی سرخی وفا کے پیکر کی! پھر سے شیریں دہن سے باتیں ہوں دل کی دنیا اداس ہے کتنی کوئی منظر بھی اب نہیں بھاتا چند لمحے وصال موسم کے!
Read Moreارشد عباس ذکی … نظم
کہیں ملے تو اسے بتانا کہ زندگی میں بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں اگر کہوں کہ یہ زندگی ہی بدل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ غلط نہ ہو گا نئے سِرے سے میں اس کو ترتیب دے رہا ہوں مگر یہ کیسا طلسم ہے کہ میں جس سِرے کو بھی چھیڑتا ہوں اُلجھ رہا ہے ۔۔۔۔۔ میں زندگی کے اس امتحاں سے گزر رہا ہوں جہاں پہ ہر روز آرزوؤں کا خون اپنی جبیں پہ مَلنا نصیب ٹھہرا مگر میں پھر بھی ۔۔۔ کٹے پھٹے ہونٹ، منتشر سوچ، اداس آنکھوں میں…
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ تضاد
تضاد اہلِ اسلام میں نہیں طبقات اور فرما رہے تھے مولانا اہلِ ثروت پہ فرض ہے خیرات
Read Moreمحمد نوید مرزا ۔۔۔ غزل کے رنگ سچّے ہیں (شکیب جلالی کے ایک نظم)
غزل کے رنگ سچّے ہیں (شکیب جلالی کے ایک نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسے ہر شعر میں اپنے تخیل کو نئے مفہوم سے آراستہ کرنے کا یارا تھا وہ اک ایسا ستارا تھا کہ جس کی روشنی میں اک صدی کے بعد بھی کرنیں اُبھرنی تھیں غزل کو تازگی کے حسن سے اُس نے نوازا تھا بہت سے زخم تھے جو ذہن کی بھٹی میں ڈالے تو نئے اشعار نکلے تھے جو اُس کی روح تک پھیلے ہوئے ہر کرب کا اظہار نکلے تھے اُسی نے اس شکستہ زندگی میں بوجھ برسوں…
Read Moreجمیل یوسف ۔۔۔ دعا
مرے سفر کا یوں ہی اختتام ہو جائے ترے دیار سے گزروں تو شام ہو جائے یہ لطفِ خاص ہو مجھ پر بھی اے مرے آقاؐ ترے غلاموں میں میرا بھی نام ہو جائے کرم ہو آقاؐ! مرا دیس بھی مدینہ بنے جو کام ہو نہیں پایا ، وہ کام ہو جائے یہ سرزمین بھی جنت سے کم نہیں ہے اگر یہاں ہر آدمی کا احترام ہو جائے ہر ایک شخص ہو حضرت معاذؓ کی مانند تو حُسنِ فکر و عمل شاد کام ہو جائے وہی نظام جو سارے جہاں…
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ مساوات
مساوات زندگی بھر تو نہیں، ہاں مگر اِک وقتِ نمازاپنے ایماں کی سرِ عام نمائش کے لیے’ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز‘
Read Moreنعمان فاروق … سالگرہ
سالگرہ نہ تو ہجر کا سورج ڈھلنانہ ہی وصل کی رات ہے آنیآنکھوں کی دہلیز نہ چھوڑےاجڑے خوابوں کی ویرانیچاہت غم کا راج بھنور ہےسو باتوں کی ایک کہانیوہ اک سندر ناری جس کےدم سے ہے یہ ریت پرانیاس کو خبر یہ کب ہوتی ہےدھرتی کے سینے پر میریپہلی صدا کا پہلا دن تھااس کو خبر بھی ہو جائے تونہ سندیس کوئی بھیجے گینہ ہی اس کی کال ہے آنیپھر کیا سوچ کے یارو ہم نےاب سالگرہ کی شام منانی
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ آ، مِرا خواب ہو
آ_ مِرا خواب ہو زمانے! تِری آنکھ میں بھی کوئی خواب ہے یا نہیں کرب کی زرد آندھی نے میری تو دونوں ہی آنکھوں میں مٹی اُڑائی ہُوئی ہے مِرے راستے میں تو دُنیا ہی آئی ہُوئی ہے عجب بھیڑ ہے خواب کے قافلوں کی عجب بھیڑ ہے ہر طرف اِک الاؤ جلا ہے کہیں کوئی شعلہ کہیں بس دھواں اُٹھ رہا ہے کبھی اِس طرف کو جو تو آن نکلے مِرے دِل کے صحرا کا منظر تجھے جانے کیسا لگے گا زمانے! مِرے دِل کے صحرا میں آتے ہُوئے…
Read More