خالق آرزو ۔۔۔ آہٹیں واہمہ ہیں

آہٹیں واہمہ ہیں ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو کس کی خوشبو فضا میں پھیلی ہے کون دیتا ہے دستکیں در پر کس کے لہجے کی دلنشینی کا سحر طاری ہوا سماعت پر عہدِماضی کے آشیانے سے فاختائیں حسین یادوں کی ذہن کی ملگجی فضاؤں میں پرکُشاہو گئی مسرت سے آہٹوں دستکوں کی شدت سے روح بیتاب ہوتی جاتی ہے ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو سانس بے ربط ہوتی جاتی ہے دھڑکنیں تیز تر ہیں سینے میں…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ جس کو احمد فراز کہتے ہیں (احمد فراز کے لیے نظم)

جس کے شعروں میں دل دھڑکتا تھا جس کی باتوں میں رنگ ہوتے تھے اُس کے لفظوں کے دائرے اندر ان گنت تتلیاں بھی ہوتی تھیں پھول ، خوشبو ، ہوا ، سبھی موسم دسترس میں وہ اپنی رکھتا تھا حرف اُس کے غلام تھے سارے وہ اُنھیں دم بدم پرکھتا تھا ظلمتوں کے خلاف بھی اُس نے روشنی کے پیام لکھے تھے جو صفِ دشمناں میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کے نام لکھے تھے عام لوگوں میں خاص تھا کوئی زندگی کی اساس تھا کوئی اُس کی یادوں میں…

Read More

دانش عزیز ۔۔۔ مرا نام لو کبھی

اُس نے کہا!کہ عشق کی تعریف توکرو!! میں نے کہا! کہ خیر ہے یہ کیا ہوا تمہیں؟ اُس نے کہا! بتاؤ نا ہوتا ہے کس طرح؟ میں نے کہا! یہ آسماں والے کی دَین ہے!! اُس نے کہا!کہ کوئی تو نکتہ بیان ہو!! میں نے کہا! کہ جب کوئی سَب سے حسیں لگے!! اُس نے کہا!کہ عشق کو لازم ہے ِاک حسیں؟ میں نے کہا! نہیں نہیں! یہ لازمی نہیں!! اُس نے کہا!نشانی کوئی اور بھی بتا؟ میں نے کہا!کہ چار سو وہ ہی دِکھائی دِے!! اُس نے کہا!کہ مان…

Read More

معین ناصر ۔۔۔ زندگی بھر خزاؤں میں رہنا

زندگی بھر خزاؤں میں رہنا کس لیے بے وفاؤں میں رہنا جا رہا ہوں ترے نگر سے، مجھے اب نہیں ان خداؤں میں رہنا مار ڈالے گی غم کی ارزانی کم کرو انتہاؤں میں رہنا یہ غزل آخری سمجھ کے سنو اور سیکھو بلاؤں میں رہنا اچھا لگتا ہے، ہر گھڑی ناصر یوں کسی کی دعاؤں میں رہنا

Read More

گلزار ۔۔۔ صبح صبح اٹھتے ہی ۔۔۔۔۔

Read More

مناجات ۔۔۔ لیاقت علی عاصم

مناجات ۔۔۔۔ دیارِ تشنہ کو ابرِ شمال دے مولا سلگتی آنکھ میں آنسو ہی ڈال دے مولا مری اُداس نظر مطمئن نہیں ہے ابھی فضا میں اور ستارے اُچھال دے مولا گذشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہو گی گذشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا وہ آ ملے مرا کردار ختم ہونے تک یہ اتفاق کہانی میں ڈال دے مولا لپیٹ دوں نہ کہیں میں یہ بسترِ امکاں اب اس قدر بھی نہ کربِ محال دے مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Read More

اشارے ۔۔۔ منیر نیازی

 اشارے ۔۔۔۔۔۔ شہر کے مکانوں کے سرد سائبانوں کے دل رُبا، تھکے سائے خواہشوں سے گھبرائے رہرووں سے کہتے ہیں رات کتنی ویراں ہے موت بال افشاں ہے اس گھنے اندھیرے میں خواہشوں کے ڈیرے میں دل کے چور بستے ہیں ان کے پاس جانے کے لاکھ چور رستے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: تیز ہوا اور تنہا پھول

Read More

بہار کی واپسی ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

بہار کی واپسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چپ چاپ بیٹھا ہوں اس رہگزر پر یہی سوچتا ہوں کہ خط لانے والا کہیں آج بھی کہہ نہ دے: کچھ نہیں ہے یہ کیا بات ہے لوگ اک دوسرے سے جدا ہو کے یوں جلد ہیں بھول جاتے وہ دن رات کا ساتھ ہنسنا ہنسانا وہ باتیں جنھیں غیر سے کہہ نہ پائیں اچھوتے سے الفاظ جو شاہراہوں پہ آتے ہوئے دیر تک ہچکچائیں کچھ الفاظ کے پھول جو اس چمن میں کھلے تھے جسے محفلِ دوش کہیے جو کچھ دیر پہلے ہی برہم…

Read More

سلسلے سوالوں کے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

سلسلے سوالوں کے ۔۔۔۔……۔۔۔۔۔۔۔ دن کے چہچہوں میں بھی رات کا سا سنّاٹا رات کی خموشی میں جیسے دن کے ہنگامے جاگتی ہوئی آنکھیں، نیند کے دھندلکوں میں خواب کے تصوّر میں اک عذابِ بیداری روز و شب گزرتے ہیں قافلے خیالوں کے صبح و شام کرتے ہیں آپ اپنی غم خواری ہم کہاں ہیں؟ ہم کیا ہیں؟کون ہیں مگر کیوں ہیں؟ ختم ہی نہیں ہوتے سلسلے سوالوں کے چشمۂ ہدایت ہے علم کے صحیفوں میں فن کے شاہکاروں میں اک چراغِ عرفاں ہے مرحمت کے ساماں ہیں ان کی…

Read More