دلوں پر کر رہے ہیں بادشاہی ہمارے محترم اقبال راہی سدا سے سوچ ہے ان کی فلاحی بہت سے کام ہیں ان کے رفاہی یہ ذہن و دل کو رکھتے ہیں منور مِٹاتے ہیں یہ سینوں کی سیاہی کھلا ہے آستانہ اِن کے دل کا نہ قدغن ہے نہ ہے کوئی مناہی جواباً بانٹتے ہیں مسکراہٹ کوئی جتنی بکے واہی تباہی قیادت میں اِنہی کی سربکف ہیں سُخن کی فوج کے اکثر سپاہی حقیقت میں یہی ہیں مغلِ اعظم حقیقت میں یہی ظِلِّ الٰہی عطا ان کو ہوئی ہے ایسی…
Read MoreTag: nazm
دانش عزیز ۔۔۔ مقدمہ
عجب بھگدڑ ہے، شُورش ہے دماغ و قلب اْلجھے ہیں یہ آنکھیں ہاتھ اور بازو سبھی کیوں سہمے سہمے ہیں اِنہیں کیا خوف لاحق ہے زمینِ دل پہ ہر جانب اگرچہ ہْو کا عالم ہے مگر یہ شور کیسا ہے یہ منظر حشر جیسا ہے بگل بجتا ہے اور جیسے بدن کے سارے اعضا کو کڑا اِک حکم ملتا ہے نظر نیچی رہے تیری سِلے ہوں ہونٹ آپس میں کوئی ہچکی، کوئی سسکی، کوئی آواز بھی ابھرے نہ ہونٹوں کو دلاسے کا تیقن ہو فقط خاموشی، چاروں سَمت خاموشی قطار…
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ 16 دسمبر 1971ء(سقوطِ مشرقی پاکستان) کی یاد میں ایک نظم
جو میرے پیارے دُلارے وطن کا حصہ تھا جو میرا بازو تھا، میرے بدن کا حصہ تھا جُدا ہوا ہے تو اُس کا ملال کیوں نہ کروں؟ تباہ کِس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… جُدا ہوا جو مِرے دُشمنوں کی سازش سے اور اِس کے ساتھ کچھ اپنوں کی بھی نوازش سے بھلا بیان مَیں یہ سارا حال کیوں نہ کروں؟ تباہ کس نے کِیا، یہ سوال کیوں نہ کروں؟ …………… اُگیں گی نفرتیں ایسا گماں کہاں تھا کبھی محبتوں کا سمندر رواں دواں تھا کبھی مَیں…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ سفر کی شاخ پر ( جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے)
سفر کی شاخ پر ( جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سفر کی شاخ پر کِھلی تھیں ملگجی بشارتیں کُشادِ حرفِ ذات سے،سوادِ زخمِ خواب تک سفید جھاڑیوں میں تھیں شفق کی خشک بیریاں کہ جگنوؤں نے روشنی کا پیرہن اتار کر قدیم آسماں کے دائروں میں دفن کر دیا نواحِ جاں میں سرمئی سی بادلوں کی ڈھیریاں فرازِ برف زار سے،نشیب ِ ماہتاب تک غروبِ شامِ رفتگاں کی جل بجھی وصیّتیں ہجومِ رنگ میں گھرے، اُڑے اُڑے جواب تک پسِ غبارِ آئنہ کوئی سوال رہ گیا کہِیں بس…
Read Moreازہر ندیم ۔۔۔ اُداسی بھی معطر ہے
اداسی بھی معطر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوائے دل! متاعِ جاں! تمہاری داستاں میں کرب ہے خوشبو کے موسم کا کہ جب بھی پھول کھلتے ہیں زمیں پر ناتمامی کا عجب دکھ پھیل جاتا ہے یہاں رنگوں کے پیراہن سدا مغموم رہتے ہیں تماشائی فروزاں حسن کے باطن کے جلووں سے خود اپنی بدنصیبی کے سبب محروم رہتے ہیں ہوائے دل! فضائے درد میں کوئی فسوں سا ہے تمہاری بے بسی میں بھی جمالِ حزن بستا ہے دیارِ خواب میں اترو تو پھرمردہ گلابوں کی مہک آواز دیتی ہے تمہاری سرخوشی بیتی…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ کوئی ہے ……!!
کوئی ہے ۔۔۔۔ !!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ہے! کوئی ہے! کی صدائیں،لگاتے ہوئے،میں سراپا صدا بن گیا،لوگ آنکھوں کے گہرے گڑھوں سےمجھے گھورتے،ایک کیچڑ بھری لہر اُٹھتی شناسائی کی،میری جانب لپکتی،مگر ایک جھپکی میں معدوم پڑتیوہ پھر اپنی گدلی خموشی سمیٹے،کہاں، کس طرف آتے جاتے،خبر کچھ نہیں تھی، برسوں پہلے اسی شہر میں،بوڑھے پیڑوں تلے آگ روشن تھی اور،ایک خوشبو گواہی میں موجود تھی،وہ کہ عہدِ مقدس کی تقریب تھی،ساتھ دینے کا اک عہد تھا، اپنی چاہت کے اقرار میں،کہہ کے لبیکآواز سے دستخط کر دیےاور پھر ایک دناپنے اقرار کو بھول کرمیں…
Read Moreاکرم کنجاہی … مرگِ آرزو
مرگِ آرزو …………… اے دل! مرگِ آرزو کا تم کبھی ماتم نہ کرنا یہ وہ اندوہِ پنہاں ہے کہ جس پر کوئی بھی اظہارِ تعزیت نہیں کرتا یہ مانا کارِ ہستی لینے کچھ دینے سے چلتا ہے مگر دنیا میں پیارے لوگ ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو دنیا سے کسی بھی جنس کی صورت کچھ نہیں لیتے وہ خود تقسیم کرتے ہیں اپنی محنت کے ثمر اور صلے کی آرزو مندی نہیں کرتے اِس لیے، دل درد آشنا میرے اندوہِ ناکامی کا مداوا کر لینا ہی بہتر ہے تم…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ بکھرنے سے ذرا پہلے
بکھرنے سے ذرا پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آنکھیں سلامت ہیں ابھی ان آئنوں میں روشنی کا عکس بنتا ہے سمندر، آسماں، پتے، دریچے، بیل بوٹے پھول، گھر، جنگل، ستارے بستیوں کے کھوج میں نکلے مسافر (کہ جتنے بھی ہیں سارے روشنی کے استعارے ہیں) ابھی موجود ہیں اور اک عجب آسودگی کی لَو سے روشن ہیں ابھی وہ آگ جلتی ہے جو اندھے آئنوں میں عکس کی تعمیر کرتی ہے ابھی مَیں دیکھ سکتا ہوں لہو کی نرم رَو سے پھوٹتے موسم کی مٹھی میں وہ آنکھیں، جن کے دم سے…
Read Moreامجد بابر ۔۔۔ رشتوں کی لوٹ سیل
رشتوں کی لوٹ سیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشتے اب کاغذی تعلق کی ردی میں مفت ملتے ہیں رشتے جو کبھی خون کی طرح بہتے تھے اس وقت شریانوں میں کلاٹ دھبوں کی نیلی دیواریں ہیں رشتے افسوس اور بین مل کر موت کی فتح کا اعلان آنسو بہاتے ہوئے بے چارگی کے موسم میں کرتے ہیں دو چار دنوں کے بعد سب کچھ سوکھ جاتا ہے اب رشتوں کی سیل دکھاوے کی مارکیٹ میں سارا سال جاری رہتی ہے ہم رشتوں کی اذیت کے زخموں کی مرہم پٹی کرتے کرتے کبھی تھک…
Read Moreخورشید رضوی ۔۔۔ زمانے سے باہر
زمانے سے باہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانی تسلسل میں مَیں کام کرتا نہیں ہوں زمانے سے باہر کی رَو چاہیے میرے دل کو زمانہ تو اِک جزر ہے مَد تو باہر کسی لازماں، لامکاں سے اُمڈتا ہے قطاروں میں لگنے سے حاصل نہیں کچھ کہ وہ لمحۂ مُنتظر تو کسی اجنبی سمت سے آتے دُم دار تارے کی صورت ۔۔۔ جو صدیوں میں آتا ہے۔۔۔ آئے گا اور اِن قطاروں میں بھٹکے مداروں کو مقراض کے طور سے جانبِ عرض میں قطع کرتا نکل جائے گا زمانے کے اِس بانجھ پَن کا…
Read More