خوابِ یوسف ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روشنی کی ضرورت سے باندھا گیا اور آنکھوں میں نور بھر کے دو نقطے تارِ تجلی کی ضوباریوں سے یوں گانٹھے گئے کہ وہ مہر و مہ کی رداے تحیر ّمیں لپٹے اجالےکی کومل گرہ دار کرنوں سے تاروں کے ٹانکے لگیں درخشانیوں نے سمندر کی تہ میں گرے چاند سورج کی تاب و تواں کی خبر پہاڑوں کی تابندہ برفوں کو دی تو رخشاں ہواؤں کے جھکڑ چلے آن کی آن میں کوہِ گماں پہ ٹکی آنکھ میں خوابِ یوسف ہویدا ہوا چاند، سورج،…
Read MoreTag: nazm
یزدانی جالندھری ۔۔۔ جھوٹ کی مہما گاؤ
جھوٹ کی مہما گاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ اک زہر ہے۔۔۔زہرِ ہلاہلدیکھو، زہر نہ کھاؤسچ کو نہ تم اپناؤجھوٹ بَلی ہے۔۔۔مہا بَلی ہےجھوٹ کو تم اپناؤجھوٹ کی مہما گاؤابراہیم نے سچ اپنایااس کا صلہ تھا جلتا الاؤسچ سقراط نے بھی بولا تھا اور جام ِ زہراب پِیاحق منصور کے لب پر آکرسرافرازِ دار ہوادشت ِ کرب و بلا میں حق تھاتشنہ دہن، مظلوم،برستے تِیروں کی بارش میں تنہادارو رسن سے کھیلنا چاہوتو سچ کو اپناؤہنس کر پی لو زہرِ ہلاہلہنس کر سر کٹواؤاور امر ہوجاؤورنہ میرا کہنا مانوسچ کے پاس نہ جاؤجھوٹ…
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ زمانہ
زمانہ ۔۔۔ کوئی سُر ہو یا کوئی ساز یا ہو سنگیت کا سرگم کوئی یا محبت کے مراسم کا ہو موسم کوئی کوئی کھوئی ہوئی صورت ، کوئی صورت کہیں سایہ کوئی کوئی اپنایایا پرایا کوئی جب کہیں کچھ بھی نہیں ہے تو مرے چارہ گرو! زیست کرنے کا کوئی اوربہانہ ڈھونڈو جس کا اس تلخ حقیقت سے تعلق بھی نہ ہو کوئی معصوم سا موہوم فسانہ ڈھونڈو کوئی کھویا ہوا خوشیوں کا خزانہ ڈھونڈو اپنا زمانہ ڈھونڈو
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ قیدی
قیدی ۔۔۔۔ ہر ایک خواہش ہر ایک کوشش ہر ایک اُلجھن ہمارے ذہنوں ہمارے جسموں سے پھوٹتی ہے کوئی بھی مجرم نہیں ہے شاید مگر سبھی جُرم کر رہے ہیں ہر ایک ذہن اپنی اُلجھنوں کی ہر ایک جسم اپنی خواہشوں کی ازل سے تکمیل کر رہا ہے ، وہ جی رہا ہے وہ مر رہا ہے دیارِ ہستی سے غم گزیدہ گزر رہا ہے یہ جتنے راہوں کے پیچ و خم ہیں یہ ظلم و جور و جفا ستم ہیں تمام ذہنوں کی اور جسموں کی اُلجھنیں ہیں ہم…
Read Moreحکیم خان حکیم ۔۔۔ اے دل!
اے دل! ۔۔۔۔۔۔ نظر نظر سے ملا عشق میں فنا ہو جا مسافرانِ محبت کا رہنما ہو جا سکوتِ شام و سحر سے کلام کرتے ہوئے ندائے کن کی حقیقت سے آشنا ہو جا متاعِ صبر سے دل میں وہ درد پیدا کر گلوں کا حسن چمن کے لیے صبا ہو جا نظامِ جبر کے آگے جھکا نہ سر اپنا صدائے حق و صداقت کا ہم نوا ہو جا نکل جہاں کے اندھیرے سے روشنی میں آ کسی نحیف سے دل کی کوئی دعا ہو جا ترا غرور نہ کر…
Read Moreمرزا آصف رسول ۔۔۔ شہِ خوباں!
شہِ خوباں! ۔۔۔۔ یہ دل جو عشق کا بھرتا ہے دم ،ہے تجھ پہ فدا ہو اِس پہ اور بھی لطف و کرم ،ہے تجھ پہ فدا وہ دل جو آپ کوئی پل بھی ذمہ دار نہیں وہ کس پہ ڈال کے بارِ ذِمم؟ ہے تجھ پہ فدا تری ثنا نے بھی دی ہے ترے عدوکو شکست وہ مدح جس سے کہ غارت ہو ذم ،ہے تجھ پہ فدا ہے تو وہ سیدِکونین اے شہِ خوباں! عرب نثار ہے تجھ پر، عجم ہے تجھ پہ فدا ہے تو وہ عزتِ…
Read Moreوسیم جبران ۔۔۔ اعتراف
اعتراف ۔۔۔۔۔ کیا تمہیں بھی یاد ہے ہم نے بھی تو پکڑی تھیں رنگ رنگ تتلیاں چند لمحوں کے لیے ہاتھ میں جو رہتی تھیں ہم یہی سمجھتے تھے مل گئی ہو جس طرح ہم کو ساری کائنات میری مٹھی میں دبا تھا تمہارا پیار بھی پر نجانے کس طرح تتلیوں سا پیار وہ قید رکھنے کے لیے بند تھی جو آج تک میری مٹھی کھل گئی
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ ذوقِ تعمیر
ذوقِ تعمیر ہم میں وہ شوقِ عبادت اب کہاں ہر محلے میں بناتے ہیں، مگر اے خدائے لامکاں، تیرا مکاں
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ میرا جی کے نام
میرا جی کے نام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا جی تم میرا جی ہو میراجی ہم جانتے ہیں تم صرف ثنااللہ تھے پہلے آخر اک دن میراسن کے عشق میں میرا جی کہلائے اور جب میرا جی کہلائے تم نے ثنا اللہ کے دل کی دھڑکن کو اپنے اندر مار دیا جانتے ہیں ہم تم اچھی نظمیں لکھتے تھے منٹو کے افسانوں جیسی کرشن کے سچے کرداروں میں ڈوبی نظمیں آدھے دھڑ کے انسانوں پر پوری نظمیں حیوانوں پر پوری نظمیں لیکن —سچ ہے منٹو نے اپنے خاکے میں جتنے رنگ بھرے تھے…
Read Moreیزدانی جالندھری ۔۔۔ پس منظر
پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔ وقت کا رخش ِ رواں ہے تیز گامسانس، لمحے، دِن، مہینے اور سالاتنی تیزی سے گزرتے ہیں کہ رہ جاتا ہے انساں دم بخودآج بھی اِک سال بِیتاتلخ و شیریں کتنی یادیںاور کتنے زخم دے کروقت کے گہرے سمندر میں گِرا اور مِٹ گیا اور ابھرا آفتاب ِ سال ِ نوکتنی امیدیں لئے، کتنے سنہرے خواب کرنوں میں سجائےاور میں۔۔۔اِس سوچ میں گُم ہوں کہ اِن کرنوں کے پس منظر میں کتنے زخم ہیں !
Read More