آج قابلؔ میکدے میں انقلاب آنے کو ہے اہلِ دل اندیشۂ سود و زیاں تک آ گئے
Read MoreTag: qabil Ajmeeri
قابل اجمیری
ٹھنڈے پڑے ہیں انجمنِ رنگ کے چراغ اک نغمۂ بہار بطرزِ فغاں سہی
Read Moreقابل اجمیری
جلوہ گاہِ یار سے بھی تشنہ کام آئے ہیں لوگ جانے امیدیں زیادہ ہیں کہ جلوے کم رہے
Read Moreقابل اجمیری
رخصتِ دوست پہ قابلؔ دلِ مایوس کو دیکھ اک سفینہ ہے کہ ساحل سے جدا ہوتا ہے
Read Moreقابل اجمیری
گرتے سنبھلتے جھومتے دارورسن کو چومتے اہلِ جنوں تیرے حضور آ ہی گئے کشاں کشاں
Read Moreقابل اجمیری
آؤ اب ایک نئے دور کا آغاز کریں عہدِ رفتہ کی کوئی بات نہیں یاد مجھے
Read Moreقابل اجمیری
رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبۂ خاموشِ عشق وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے
Read Moreقابل اجمیری
اختیاراتِ محبت کو سمجھتا ہوں میں آپ بے وجہ بھی کر سکتے ہیں برباد مجھے
Read Moreقابل اجمیری
چشمِ میگوں پہ ہیں سیہ پلکیں یا گھٹائیں شراب خانے پر
Read Moreقابل اجمیری
راہ پرخار ہے اور رات اندھیری قابلؔ دور تک کوئی چراغِ رخِ زیبا بھی نہیں
Read More