قابل اجمیری

ہم بے کسوں کی بزم میں آئے گا اور کون آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی

Read More

قابل اجمیری

احباب کے فریبِ مسلسل کے باوجود کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی

Read More

قابل اجمیری ۔۔۔ تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے

تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا…

Read More

قابل اجمیری

بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں تم کوئی آسرا نہ دے جانا

Read More