ہم بے کسوں کی بزم میں آئے گا اور کون آ بیٹھتی ہے گردشِ دوراں کبھی کبھی
Read MoreTag: qabil Ajmeeri
قابل اجمیری
احباب کے فریبِ مسلسل کے باوجود کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی
Read Moreقابل اجمیری
بہت ہیں میکدے میں لڑکھڑانے جھومنے والے وقارِ لغزشِ پیرِ مغاں کچھ اور ہوتا ہے
Read Moreقابل اجمیری
ہنسی معلوم ہوتی ہے فغاں معلوم ہوتی ہے محبت زندگی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
Read Moreقابل اجمیری ۔۔۔ تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا…
Read Moreقابل اجمیری
بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں تم کوئی آسرا نہ دے جانا
Read Moreقابل اجمیری
جمالِ دوست کو پیہم نکھرنا ہے، سنورنا ہے محبت نے اٹھایا ہے ابھی پردہ کہاں اپنا
Read Moreقابل اجمیری
رات تاریک، راہ نا ہموار شمعِ غم کو ہوا نہ دے جانا
Read Moreقابل اجمیری
بصد رشک قابل کی آوارگی کو غزالانِ دیر و حرم دیکھتے ہیں
Read Moreقابل اجمیری
مقاماتِ فکر و نظر کون سمجھے یہاں لوگ نقشِ قدم دیکھتے ہیں
Read More