سید آل احمد ۔۔۔ اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ

اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ ٹھوکر بھی کھا کے آیا نہ جینے کا ہم کو ڈھنگ آتی نہیں ہے سطحِ یقیں پر وفا کی لہر رہتی ہے صبح و شام مزاجوں میں سرد جنگ ہر صبح دُکھ سے چور ملا زخم زخم جسم ہر شب تھرک تھرک گیا آہٹ پہ انگ انگ تھا جس سے میرے سچ کے تحمل کا ربطِ خاص اُترا اسی کے غم کا مری روح میں خدنگ ناآشنائے لذتِ لہجہ تھے سب ہی لوگ کیا کیا بساطِ لب پہ بکھیری نہ قوسِ…

Read More

پنجرہ … رشید امجد

بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اس دنیا کے اندر ایک اور دُنیا موجود ہے جس میں ہم جیسے لوگ رہ رہے ہیں اور ہم جیسے کام کررہے ہیں، ہم زادوں کی یہ دُنیا نظر تو نہیں آتی لیکن کبھی کبھی اپنا احساس ضرور کراتی ہے۔ ”تمہیں اس کا خیال کیسے آیا؟“ مرشد نے پوچھا ”بس یونہی، مجھے ایسا لگا جیسے جو کچھ میں کررہا ہوں، اسے پہلے بھی کرچکا ہوں۔“ وہ سوچتے ہوئے بولا۔ ”کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے میں خود کو دہرارہا ہوں۔“ مرشد سوچ میں پڑگیا، تادیر…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ بت کدہ نزدیک، کعبہ دور تھا

بت کدہ نزدیک، کعبہ دور تھا میں ادھر ہی رہ گیا مجبور تھا شام ہی سے ہم کہیں جاتے تھے روز مدتوں اپنا یہی دستور تھا وہ کیا جس میں خوشی تھی آپ کی وہ ہوا جو آپ کو منظور تھا کچھ ادب سے رہ گئے نالے ادھر کیا بتائیں عرش کتنی دور تھا جس گھڑی تھا اس کے جلوے کا ظہور عرش کا ہم سنگ کوہ طور تھا اک حسیں کا آ گیا جو تذکرہ دیر تک محفل میں ذکرِ حور تھا وصل کی شب تھی شبِ معراج کیا…

Read More

مرزا غالب … عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب…

Read More