محمد علوی ۔۔۔ دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے

دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے تتلیوں کے پر سنہرے ہو گئے سامنے دیوار پر کچھ داغ تھے غور سے دیکھا تو چہرے ہو گئے اب نہ سن پائیں گے ہم دل کی پکار سنتے سنتے کان بہرے ہو گئے اب کسی کی یاد بھی آتی نہیں دل پہ اب فکروں کے پہرے ہو گئے آؤ علوی اب تو اپنے گھر چلیں دن بہت دلی میں ٹھہرے ہو گئے

Read More

اکبر الہ آبادی ۔۔۔ رباعی

بنگلوں سے نماز اور وظیفہ رخصت کالج سے امام ابو حنیفہ رخصت صاحب سے سنی ہے اب قیامت کی خبر قسطنطنیہ سے ہیں خلیفہ رخصت

Read More

عبدالحفیظ ظفر ۔۔۔ حفیظ ہوشیارپوری : ایک عمدہ غزل گو

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ غزل اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی مقبولیت میں گلو کارہ نسیم بیگم اور گلو کار مہدی حسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جس خوبصورتی سے اس غزل کو گایا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور پھر یہ فیصلہ کرنا بھی سہل نہیں کہ دونوں میں سے زیادہ اچھا کس نے گایا۔ یہ لازوال غزل حفیظ ہوشیار پوری کی ہے جنہوں نے اپنی…

Read More

خزاں گزیدہ … رشید امجد

قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہوگئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق کے بوجھ اور پاﺅں کی زنجیروں کی وجہ سے سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ نیم وا کمر جھکائے جھکائے اُس نے میز کے پیچھے بیٹھے شخص کو خالی آنکھوں سے دیکھا، نہ کوئی سوال نہ کوئی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شبہ طراز

شبہ طراز علم وادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے محترمہ شبہ طراز کا نام نیا نہیں ہے۔وہ شاعرہ، مصورہ، مدیرہ اور افسانہ نویس ہیں۔’اُن کی طبع شدہ کتب میں ’’جگنو ہنستے ہیں‘‘ (ہائیکو اور ماہیے)، ’’جھیل جھیل اداسی‘‘ (نظمیں)، ’’چاندنی میں رقص‘‘ (ہائیکو تراجم)، درد کا لمس (افسانے)، ریپنزل (نظمیں، غزلیں) شامل ہیں۔عذرا اصغر کے کراچی چلے جانے کے بعد ماہ نامہ تجدیدِ نو کو سہ ماہی جریدے میں بدل کر اس کا دوبارہ اجرا کیا لیکن کچھ مشکلات آڑے آئیں تو پرچہ بند کرنا پڑا۔کرشن چندر اِن کے…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ سیدہ حنا

سیدہ حنا ایک شاعرہ، افسانہ نگار اور مدیرہ تھیں۔اُنہوں نے اپنے بھائی حامد سروش کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا سے ایک کامیاب اور معیاری ادبی پرچہ ’’ابلاغ‘‘ کے نام سے جاری کیا تھا۔اِس پرچے نے کسی قسم کی مالی معاونت اور اشتہارات کے بغیر قومی سطح پر اپنی پہچان بنائی اور ایک عرصہ تک ادب کی بے لوث خدمت کی۔سیّدہ حنا کا پہلا افسانہ ۱۹۵۶ء میںمولانا صلاح الدین احمد کے مشہور پرچے’’ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوا۔مولانا نے افسانے پر مندرجہ ذیل نوٹ لکھ کر انہیں بے حد سراہا: ’’اُفقِ…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ زیتون بانو

زیتون بانو اُردو اور پشتو کی نام ورشاعرہ، ادیبہ، ڈراما نگار ۱۸؍ جون ۱۹۳۸ء کے روز پشاور میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد بھی اپنے زمانے کے معروف روشن خیال ادیب تھے۔وہ ابتدا میں فرضی ناموں سے ادبی جریدوں میں لکھتی رہیں۔پشتو اور اُردو میں اعلیٰ تعلیم کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں۔ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے ڈرامے لکھے۔ابھی طالبہ ہی تھیں کہ اُن کا پشتو افسانوں کا مجموعہ ہُنڈارہ (آئینہ ۱۹۵۸ء) شائع ہوا۔دوسرا مجموعہ مات بنگری (ٹوٹی چوڑیاں) شائع ہوا۔ مجموعی طور پر اُن کی پشتو میں آٹھ…

Read More