زمانے بھر کے غم اور اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے
Read MoreTag: Urdu adab
سید آل احمد
آخرِ شب ہے‘ مری ذات سے نظریں نہ چرا اے غمِ ہجر! ترے قد کے برابر ہوں میں
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ وقت کے طشت میں رکھا ہوا پتھر ہوں میں
وقت کے طشت میں رکھا ہوا پتھر ہوں میں حرف کا دشت ہوں معنی کا سمندر ہوں میں کون جانے کہ یہ خوشبو ہے عبارت مجھ سے کیسے سمجھاؤں کہ پھولوں کا مقدر ہوں میں مجھ کو آتا نہیں کاندھے پہ جنازہ رکھنا منجمد شہر! حرارت کا پیمبر ہوں میں اب بھی آتی ہے ترے قرب کے ایام کی آنچ اب بھی احساس کا ذخار سمندر ہوں میں آخرِ شب ہے‘ مری ذات سے نظریں نہ چرا اے غمِ ہجر! ترے قد کے برابر ہوں میں شہر میں حفظِ مراتب…
Read Moreحنیف فوق
ایک ساعت اک صدی ہے اک نظر آفاق گیر اب نظام گردش شام و سحر کافی نہیں
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے
اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے کہیں گے لوگ کہ دو دن نباہ کر نہ سکے ہمیں جو دیکھ لیا جھک گئی حیا سے آنکھ ادھر ادھر سرِ محفل نگاہ کر نہ سکے خدا کے سامنے آیا کچھ اس ادا سے وہ شوخ کہ منہ سے اف بھی ذرا داد خواہ کر نہ سکے ترے کرم کا بھروسا ہی زاہدوں کو نہیں اسی لیے تو یہ کھل کر نگاہ کر نہ سکے رہا یہ پاس ہمیں آپ کی نزاکت کا کہ دل کا خون ہوا، منہ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں
دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوں آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں یہ سب تری مہکی ہوئی زلفوں کا کرم ہے اک سانس میں اک عمر کے دکھ بھول گیا ہوں تو جسم کے اندر ہے کہ باہر ہے، کدھر ہے علوی مری جاں کب سے تجھے ڈھونڈ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے
دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے تتلیوں کے پر سنہرے ہو گئے سامنے دیوار پر کچھ داغ تھے غور سے دیکھا تو چہرے ہو گئے اب نہ سن پائیں گے ہم دل کی پکار سنتے سنتے کان بہرے ہو گئے اب کسی کی یاد بھی آتی نہیں دل پہ اب فکروں کے پہرے ہو گئے آؤ علوی اب تو اپنے گھر چلیں دن بہت دلی میں ٹھہرے ہو گئے
Read Moreعادل اسیر دہلوی
باقی ہے اب بھی ترکِ تمنا کی آرزو کیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھے
Read Moreاکبر الہ آبادی ۔۔۔ رباعی
بنگلوں سے نماز اور وظیفہ رخصت کالج سے امام ابو حنیفہ رخصت صاحب سے سنی ہے اب قیامت کی خبر قسطنطنیہ سے ہیں خلیفہ رخصت
Read Moreعبدالحفیظ ظفر ۔۔۔ حفیظ ہوشیارپوری : ایک عمدہ غزل گو
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ غزل اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی مقبولیت میں گلو کارہ نسیم بیگم اور گلو کار مہدی حسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جس خوبصورتی سے اس غزل کو گایا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور پھر یہ فیصلہ کرنا بھی سہل نہیں کہ دونوں میں سے زیادہ اچھا کس نے گایا۔ یہ لازوال غزل حفیظ ہوشیار پوری کی ہے جنہوں نے اپنی…
Read More