اک اک ابرو اشارہ تِیر ہوتا جا رہا ہے لب و لہجہ ترا شمشیر ہوتا جا رہا ہے وہ نکلا تھا جسے اپنی نگہ کا صید کرنے خود اُس کے حسن کا نخچیر ہوتا جا رہا ہے بدن کے زخم تو اعزاز کر لیتا ہوں لیکن مرا پندار بے توقیر ہوتا جا رہا ہے مرے سامان میں رکھا گیا اک خوف سایا مری رفتار کو زنجیر ہوتا جا رہا ہے گرفتِ داستاں گو میں نہیں رہنی کہانی کہ اب قصہ بہت گمبھیر ہوتا جا رہا ہے کتابوں میں بھلے جیسی…
Read MoreTag: Urdu Poetry
خالد احمد
عمر بھر دکھ رگوں میں بھرتا ہے جان لے کر ہی دل ٹھہرتا ہے
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ زمانہ
زمانہ ۔۔۔ کوئی سُر ہو یا کوئی ساز یا ہو سنگیت کا سرگم کوئی یا محبت کے مراسم کا ہو موسم کوئی کوئی کھوئی ہوئی صورت ، کوئی صورت کہیں سایہ کوئی کوئی اپنایایا پرایا کوئی جب کہیں کچھ بھی نہیں ہے تو مرے چارہ گرو! زیست کرنے کا کوئی اوربہانہ ڈھونڈو جس کا اس تلخ حقیقت سے تعلق بھی نہ ہو کوئی معصوم سا موہوم فسانہ ڈھونڈو کوئی کھویا ہوا خوشیوں کا خزانہ ڈھونڈو اپنا زمانہ ڈھونڈو
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ قیدی
قیدی ۔۔۔۔ ہر ایک خواہش ہر ایک کوشش ہر ایک اُلجھن ہمارے ذہنوں ہمارے جسموں سے پھوٹتی ہے کوئی بھی مجرم نہیں ہے شاید مگر سبھی جُرم کر رہے ہیں ہر ایک ذہن اپنی اُلجھنوں کی ہر ایک جسم اپنی خواہشوں کی ازل سے تکمیل کر رہا ہے ، وہ جی رہا ہے وہ مر رہا ہے دیارِ ہستی سے غم گزیدہ گزر رہا ہے یہ جتنے راہوں کے پیچ و خم ہیں یہ ظلم و جور و جفا ستم ہیں تمام ذہنوں کی اور جسموں کی اُلجھنیں ہیں ہم…
Read Moreارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں
ساغر یا پھر نینوں سے مے نوشی کی یار وجہ کچھ ہوتی ہے مدہوشی کی کل بھی بزمِ یاراں میں تھی بات چلی کل بھی میں نے اُس کی پردہ پوشی کی ملنا مشکل تھا تو مجھ کو بتلاتے تم نے جانے کیونکر یوں روپوشی کی سرد ہَوا کو لمس ملا جب آنچل کا اُس نے میرے کانوں میں سرگوشی کی کیا تھا اُس کا شعر ، کہ مارا جاؤں گا ” ہاں میں نے آواز سنی تھی دوشی کی تھوڑا سا ان ہونٹوں کو بھی جنبش دو چیخ سنائی…
Read Moreصائم شیرازی ۔۔۔ نکل کے دل سے آگئے ہیں کس عجب دیار میں
نکل کے دل سے آگئے ہیں کس عجب دیار میں دکھائی دے نہیں رہا کسی کو کچھ غبار میں خدا براجمان ہے کسی بڑے سے میز پر ہمیں بھی اس نے سامنے رکھا ہے گول جار میں مرے بغیر راستہ کٹے گا کس طرح بھلا تو رخ بدل کے رک گیا ہے کس کے انتظار میں مری طرح کا کوئی شخص مجھ کو مل نہیں رہا لگا دیا ہے تو نے مجھ کو کس عجب قطار میں تمھاری آنکھ کا نشہ دماغ سے گیا نہیں گھرا ہوا ہوں آج تک…
Read Moreمرزا آصف رسول ۔۔۔ شہِ خوباں!
شہِ خوباں! ۔۔۔۔ یہ دل جو عشق کا بھرتا ہے دم ،ہے تجھ پہ فدا ہو اِس پہ اور بھی لطف و کرم ،ہے تجھ پہ فدا وہ دل جو آپ کوئی پل بھی ذمہ دار نہیں وہ کس پہ ڈال کے بارِ ذِمم؟ ہے تجھ پہ فدا تری ثنا نے بھی دی ہے ترے عدوکو شکست وہ مدح جس سے کہ غارت ہو ذم ،ہے تجھ پہ فدا ہے تو وہ سیدِکونین اے شہِ خوباں! عرب نثار ہے تجھ پر، عجم ہے تجھ پہ فدا ہے تو وہ عزتِ…
Read Moreسہیل یار ۔۔۔ اُس کو ابد تلک یہ میسر ہے زندگی
اُس کو ابد تلک یہ میسر ہے زندگی جس کو خبر ہے دہر میں کیونکر ہے زندگی جیسے بھی چاہے دیکھ لو اس کو پرکھ کے تم سب موتیوں سے قیمتی گوہر ہے زندگی خوش فہم موج موج ہے، ظن ہے بھنور بھنور وہم و گماں کا ایک سمندر ہے زندگی مئے خانۂ حیات میں رہتے ہو اور تم اتنا نہ جان پائے کہ ساغر ہے زندگی بے جان کوئی چیز نہیں کائنات میں ذرّہ، کپاس، آئنہ، پتھر ہے زندگی آخر یہ زندگی ہے، المناک ہو تو کیا اک موت…
Read Moreوسیم جبران ۔۔۔ اعتراف
اعتراف ۔۔۔۔۔ کیا تمہیں بھی یاد ہے ہم نے بھی تو پکڑی تھیں رنگ رنگ تتلیاں چند لمحوں کے لیے ہاتھ میں جو رہتی تھیں ہم یہی سمجھتے تھے مل گئی ہو جس طرح ہم کو ساری کائنات میری مٹھی میں دبا تھا تمہارا پیار بھی پر نجانے کس طرح تتلیوں سا پیار وہ قید رکھنے کے لیے بند تھی جو آج تک میری مٹھی کھل گئی
Read Moreسید ضیا حسین ۔۔۔ اب تو بس یہ کمائیاں ہوں گی
اب تو بس یہ کمائیاں ہوں گی ہر جگہ خود ستائیاں ہوں گی آج محفل میں جا نہیں پایا آج میری بُرائیاں ہوں گی اِس وبا کو تو ختم ہونے دو ہر طرف رُونمائیاں ہوں گی ایسے جانے سے، اے مِری ہمدم! سوچ لے، جگ ہنسائیاں ہوں گی سوچ کر ہی یہ جان جاتی ہے کتنی لمبی جدائیاں ہوں گی سردیاں آ گئی ہیں اب جانم! خشک میوے، رضائیاں ہوں گی اِس بڑھاپے میں، ایسے موسم میں درد ہوں گے، دوائیاں ہوں گی کوند جائے گی ایک بجلی سی ہاتھوں…
Read More