رحمان حفیظ ۔۔۔ اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!

اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!صاف کم تر نظر آتا ہے وہ بر تر مجھ میں آئنہ دیکھنا اب فرض ہُوا ہے مجھ پراب نظر آنے لگا ہے تیرا پیکر مجھ میں جس نے بھی دیکھا اسے چشمِ ہوس سے دیکھاباہر آئی جو تمناّ بھی، سنور کر مجھ میں جو کرن بن کے مِری آنکھ میں دَر آئی تھیآج بھی جیسے وہ ساعت ہے منوّر مجھ میں اوّل اوّل جو مِرے کان میں ٹپکائی گئیگونجتی ہے وُہی آواز برابر مجھ میں

Read More

انصر حسن ۔۔۔ مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے

مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے کوئی میری زندگی ہے کوئی میری جان ہے کس لئے کوئی نگارش میں زمانے کی پڑھوں بچپنے سے پاس میرے میر کا دیوان ہے جسم کے زندان سے آزاد کوئی ہو گیا یار مسجد میں کسی کی موت کا اعلان ہے رہ رہا ہوں ان دنوں میں ایک ریگستان میں شہر ہے برباد بستی بھی مری ویران ہے دل یہ کہتا ہے کہ آئیں گے مسافر لوٹ کر دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کا ابھی امکان ہے جو ترا…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں

بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں ہم اپنی جاں پہ کیا کیا آفات کاٹتے ہیں لطفِ سخن ہی اُن سے باقی نہیں رہا اَب ہم بات جوڑتے ہیں وہ بات کاٹتے ہیں کیا پوچھتے ہو ہم سے کیا لکھ رہے ہیں ، لیکن اِتنی خبر ہے جس پر یاں ہات کاٹتے ہیں اے آسماں تجھے کچھ معلوم ہے حقیقت ہم کس طرح سے اپنے اوقات کاٹتے ہیں تھم جائے گا بالآخر یہ زورِ گریہ خاورؔ چلیے اِک اور غم کی برسات کاٹتے ہیں

Read More

تنہائی سے آگے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

تنہائی سے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب بحثیں جو گھس پِٹ کے پرانی ہو جائیںجب کوئی رس نہ ہو دہرائی ہوئی باتوں میںمضمحل روحیں خموشی کا سہارا ڈھونڈھیںجب کوئی لطف نہ رہ جاۓ ملاقاتوں میں جب نہ محسوس ہو کچھ گرمئ آداب و سلامجی نہ چاہے کہ کوئی پرسشِ احوال کرےدور تک  پھیلی ہوئی دھند ہو، سنّاٹے ہوں سب کے سب بیٹھے ہوں اور کوئی نہ ہو کچھ نہ رہے ان خلاؤں سے نکل کر کہیں پرواز کریںآؤ کچھ سیر کریں ذہن کی پہنائی میں!کیوں نہ دریافت کریں ایسی گزر گاہوں کوبات…

Read More

قابل اجمیری

خود اہلِ کشتی کی سازشیں ہیں کہ نا خدا کی نوازشیں ہیں وہیں تلاطم کو ہوش آیا جہاں کناروں نے ساتھ چھوڑا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ  گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت  سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…

Read More

کرامت بخاری ۔۔۔ حسرت و ناصر و عدم تو نہیں

حسرت و ناصر و عدم تو نہیں پھر بھی چرچا ہمارا  کم تو نہیں کوئی مقتل ہو یا کوئی دربار سر ہمارا کہیں پہ خم تو نہیں میرے ہاتھوں میں ہے قلم اب تک ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں میں قلم کو زباں سمجھتا ہوں ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں اے مسافر ترے مقدر میں جامِ حسرت ہے جامِ جم تو نہیں دفترِ دہر پڑھ کے دیکھ لیا تم ہی تم ہو کہیں پہ ہم تو نہیں ہے کرامت غزل میں اور بھی کچھ صرف لہجے کا زیر…

Read More

یزدانی جالندھری ۔۔۔ جھوٹ کی مہما گاؤ

جھوٹ کی مہما گاؤ       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ اک زہر ہے۔۔۔زہرِ ہلاہلدیکھو، زہر نہ کھاؤسچ کو نہ تم اپناؤجھوٹ بَلی ہے۔۔۔مہا بَلی ہےجھوٹ کو تم اپناؤجھوٹ کی مہما گاؤابراہیم نے سچ اپنایااس کا صلہ تھا جلتا الاؤسچ سقراط نے بھی بولا تھا  اور جام ِ زہراب پِیاحق منصور کے لب پر آکرسرافرازِ دار ہوادشت ِ کرب و بلا میں حق تھاتشنہ دہن، مظلوم،برستے تِیروں کی بارش میں تنہادارو رسن سے کھیلنا چاہوتو سچ کو اپناؤہنس کر پی لو زہرِ ہلاہلہنس کر سر کٹواؤاور امر ہوجاؤورنہ میرا کہنا مانوسچ کے پاس نہ جاؤجھوٹ…

Read More