کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں میں تیز گام چلی جا رہی تھی اُس کی سمت کشش عجیب تھی اُس دشت کی صداؤں میں وہ اِک صدا جو فریبِ صدا سے بھی کم ہے نہ ڈوب جائے کہیں تُند رو ہواؤں میں سکوتِ شام ہے اور مَیں ہوں گوش بر آواز کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں مری طرح یونہی گُم کردہ راہ چھوڑے گی تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں نقوش پاؤ ں…
Read MoreMonth: 2020 جولائی
ثمینہ راجہ ۔۔۔ چوتھی سمت
چوتھی سمت ۔۔۔۔۔۔۔۔ پرانے وقتوں کے شاہزادے سفر پہ جاتے تو لوگ اُن کو ہمیشہ ہی چوتھی سمت جانے سے روکتے تھے مگر انھیں اک عجب تجسس کشاں کشاں اُس طرف بڑھاتا اور ایک سنسان راستے پر ہوا کی بے چین سیٹیوں سے اُبھرتی آواز شاہزادوں کے نام لے کر پکارتی تھی پلٹ کے تکتے تو شاہزادے سیاہ پتھر میں ڈھلتے جاتے ہمارے بچپن نے یہ کہانی اماوسوں کی اندھیری راتوں میں کتنے شوق اور کس لگن سے ہزارہا مرتبہ سنی تھی ہمارا بچپن گزر چکا اب ہمیں بھی درپیش…
Read More