اکرم کنجاہی ۔۔۔ سیمیں کرن

سیمیں کرن گلبرگ،فیصل آباد میں مقیم سیمیں کرن حالیہ دور کی فکشن نگار ہیں۔ماضی قریب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر فکشن کے منظر نامے میں انہوں نے بہت سرعت اور محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ادبی جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف اُن کوسنجیدہ قارئین کی ایک بڑی تعداد میسر ہے بلکہ صاحبانِ نقد و نظر پر بھی انہوں نے اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ اُن کا ادبی تخلیقی اثاثہ معیاراور…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ جمیلہ ہاشمی

جمیلہ ہاشمی جمیلہ ہاشمی ۱۷؍ جنوری ۱۹۲۹ء کے روز امرتسر (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئیں۔تقسیمِ ہند کے بعدساہیوال میں آ کر آباد ہوئیں۔اُن کے افسانوی مجموعے ’’اپنا اپنا جہنم‘‘ میں تین افسانے زہر رنگ، لہو رنگ اور شبِ تار رنگ شامل ہیں۔ اپنا پنا جہنم کو ناولٹ بھی کہا جاتاہے۔ اِس کے علاوہ آپ بیتی جگ بیتی اور رنگ بھوم شامل ہیں۔اُن کے افسانوں کی چند اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:سماجی شعور میں وسعت،شہروں اور دیہاتوں میں پرورش پانے والے کرداروں کی ذہنی کیفیات، مسائل اور الجھنوں کا بیان،جنسی موضوعات…

Read More

داغ دہلوی ۔۔۔ اب دل ہے مقام بے کسی کا

اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا کس کس کو مزا ہے عاشقی کا تم نام تو لو بھلا کسی کا پھر دیکھتے ہیں عیش آدمی کا بنتا جو فلک مری خوشی کا گلشن میں ترے لبوں نے گویا رس چوم لیا کلی کلی کا لیتے نہیں بزم میں مرا نام کہتے ہیں خیال ہے کسی کا جیتے ہیں کسی کی آس پر ہم احسان ہے ایسی زندگی کا بنتی ہے بری کبھی جو دل پر کہتا ہوں برا ہو عاشقی کا ماتم…

Read More

خالد احمد ۔۔۔ دو غزلہ (وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے)

وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے وہ مصرع تھا کہ اِک گل رنگ چہرہ ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے ہم اُن آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں یہ ہاتھ ، اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے یقینی ہے اَب اِس دل کی تباہی یہ قریہ ، راہ سے بھٹکا ہوا ہے گلوں کے قہقہے ہیں، چہچہے ہیں چمن میں اِک چمن چٹکا ہوا ہے گلہ اُس کا کریں کس دل سے، خالد! یہ دل کب ایک چوکھٹ کا ہوا ہے…

Read More

رضی اختر شوق ۔۔۔ کیسے جیئیں قصیدہ گو، حرف گروں کے درمیاں

کیسے جیئیں قصیدہ گو، حرف گروں کے درمیاں کوئی تو سر کشیدہ ہو، اتنے سروں کے درمیاں ایک طرف میں جاں بہ لب ، تارِ نَفس شکستنی بحث چھڑی ہوئی اُدھر، چارہ گروں کے درمیاں ہاتھ لئے ہیں ہاتھ میں، پھر بھی نظر ہے گھات میں ہمسفروں کی خیر ہو، ہمسفروں کے درمیاں اُس کا لکھا کچھ اور تھا، میرا کہا کچھ اور ہے بات بدل بدل گئی، نامہ بروں کے درمیاں جامِ سفال و جامِ جم، کچھ بھی تو ہم نہ بن سکے اور بکھر بکھر گئے ، کُوزہ…

Read More

شہرت بخاری ۔۔۔ ہر چند سہارا ہے ، تیرے پیار کا دل کو

ہر چند سہارا ہے ، تیرے پیار کا دل کو رہتا ہے مگر ، ایک عجب خوف سا دل کو وہ خواب کہ دیکھا نہ کبھی ، لے اڑا نیندیں وہ درد کہ اٹھا نہ کبھی ، کھا گیا دل کو یا سانس کا لینا بھی ، گذر جانا ہے جی سے یا معرکہِ عشق بھی ، اک کھیل تھا دل کو وہ آئیں تو حیران ، وہ جائیں تو پریشان یارب کوئی سمجھائے ، یہ کیا ہوگیا دل کو سونے نہ دیا شورش ہستی نے گھڑی بھر میں لاکھ…

Read More