ادا جعفری

اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔

Read More

رضا اللہ حیدر ۔۔۔ بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے

بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے شاخِ احساس پہ تنویر سجا کر نکلے اور پھر بارشِ انوار سے بھر دے دامن تھامے بادل کی کلائی کوئی رہبر نکلے وہ جو گردابِ بلا ٹھیل گئے جھیل گئے بحرِ ہستی کے تلاطم میں شناور نکلے جن کے سینے میں دھڑکتا نہیں ریزہ کوئی دوست ایسے ہی مری راہ کے پتھر نکلے وہ کہ جو قوتِ بازو پہ بہت نازاں ہے آج آ جائے مقابل مرے ، باہر نکلے بد گمانی نے کئی چہرے بجھا رکھے تھے آزمائے تو رضا سرو…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک خاموش نظم

ایک خاموش نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرنوں کی بارش نہ خوشبو ہَوا کی نہ موسم کے آثار میں زندگی کا سماں ماتمِ حبس میں ایک خاموش آواز کا نغمہ ٔ خامشی سُن کے آنسو بہاتی ہوئی رات کی جیب سے جب سسکتا ہوا چاند نکلا تو آنکھوں نے چپکے سے  محرومیوں سے یہ پیماں کیا آج کی رات سوجائیں ہم

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ گدازِ دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا

یہ غزل باطن کی تجلی، روح کی بیداری، اور محبت کی معنوی تطہیر کا شعری مظہر ہے، جہاں ہر شعر اک اشکِ فکر، اک صداے دل معلوم ہوتا ہے۔
جوشؔ نے اپنے مخصوص خطیبانہ آہنگ میں حسن، وفا، اور معاشرتی اقدار پر نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ انہیں روحانی کشف و جذب کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔
اشعار میں اندیشہ و وجد کی وہ چنگاری موجود ہے جو دل کو لرزاں و ترساں رکھتی ہے—خصوصاً جب نویدِ عیش کے پیچھے نئی مصیبت کی آہٹ سنائی دے۔
شاعر حسن کے تغافل، ضبطِ شوق کی زہرناکی، اور اہلِ دنیا کی بے حسی پر شعلہ بیانی کے ساتھ اظہارِ افسوس کرتا ہے۔
یہ غزل جوشؔ کی عشقِ آگیں، فکرِ دروں بیں، اور سچ کہنے کی بیباک روایت کا درخشندہ استعارہ ہے، جہاں ہر لفظ بجائے خود تپش رکھتا ہے۔

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ اقبال سروبہ

ہے باعثِ سکون اطاعت رسولؐ کی دل پر ہے میرے نقش محبت رسولؐ کی آوازِ حق بلائے تو قربانیاں بھی دو کہتی ہے بار بار یہ الفت رسولؐ کی ہیں مطمئن جو کفر کے باطل نظام سے اُن کو کہاں نصیب شفاعت رسول کی اس کے سوا نہیں ہے کوئی ظلم کا علاج نافذ کرو جہاں میں شریعت رسولؐ کی فیضِ نبی سے خاک کے ذرے تھے آفتاب اک شانِ امتیاز تھی سنگت رسولؐ کی روشن رہے گا محسنِ انسانیت کا نام اول سے تا ابد ہے رسالت رسولؐ کی…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں

یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں نہر کی بولی سے مَیں سیکھی ہے دریا کی زباں عیش و عشرت میں کمیداں ہُوئے ایسے مصروف طاقِ نسیاں پہ دھری رہ گئیں شمشیر و سناں اِس میں ظاہر ہُوئے کچھ تازہ شگوفے تو کھُلا میرے گلدان پہ تہمت تھی یہ تصویرِ خزاں مجھے آتا ہے حریفوں کو بھی تابع رکھنا میرا سکہ ابھی بازار میں چلتا ہے میاں سب کو معلوم نہیں کوچۂ جاناں کا پتا کوئی کوئی ہے جسے اذنِ رسائی ہے یہاں

Read More

عقیدت ۔۔۔ آصف ثاقب

مدینے کا ہے جلوہ سبز گنبد مری آنکھوں کا سبزہ سبز گنبد اٹھی ہیں اس کی جانب سب کی نظریں جہانوں کا اجالا سبز گنبد اسی سے سب کا ہے ایماں مکمّل یہ جنت کا اشارہ سبز گنبد سبھی اچھّوں سے اچھّا سبز گنبد نہایت شان والا سبز گنبد اسی سے آئے گا مجھ کو بلاوا امیدوں کا سہارا سبز گنبد مجھے ثاقب تسلّی ہو رہی ہے جو خوابوں میں ہے دیکھا سبز گنبد

Read More