بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں
کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے ہیں
چھوٹے حضرتؑ سے ہی سیکھا ہے بزرگوں کا ادب
کورنش اِس لیے پرچم کو بجالاتے ہیں
بچ کے چلتی ہے سدا بادِ حوادث اُن سے
اِس علم کے جو پھریرے کی ہَوا پاتے ہیں
مدحتِ آلِ محمّدؐ ہے فریضہ اپنا
جن کا کھاتے ہیں فقط اُن کے ہی گُن گاتے ہیں
چوم لے بڑھ کے قدم ہائے علمدارِ حُسینؑ
علقمہ دیکھ! ترے روحِ رواں آتے ہیں
کھینچتا ہے ہمہ دم حیدرِ کرّارؑ کا عشق
تذکرے غیروں کے مومن کو نہیں بھاتے ہیں
شام والوں کی تاسّی میں کئی دین فروش
وقت بے وقت اذاں آج بھی دلواتے ہیں
کیوں نہ ہم اُن کے مصائب پہ رہیں گریہ کُناں
جو ہمیں بحرِ مصیبت سے نکلواتے ہیں
علی اکبرؑ نہیں، یہ آخری حُجّت کے لیے
قلبِ لشکر میں رسولِ عربیؐ آتے ہیں
میرے بچّے! تری قسمت میں نہیں تھا پانی
لاشِ بے شِیر سے شبّیرؑ یہ فرماتے ہیں
کتنی انمول ہیں اِس دور میں ایسی آنکھیں
کربلا ہی کے جنھیں خواب نظر آتے ہیں
اُلفتِ آلِ پیمبرؐ نہ ہو جن کا باعث
دوستانے وہ مجھے راس نہیں آتے ہیں
رشک آتا ہے مجھے اُن پہ ہمیشہ جوہر
شاعرِ عترتِ اطہارؑ جو کہلاتے ہیں
