ایوب خاور ۔۔۔ ہر دل عزیز امجد اسلام امجد کے لیے

اے پیارے امجد! ہمارے امجد! کہاں گئے ہو ہم اپنی اپنی روانیوں میں کہاں پہ پہنچے تم اپنی دھن میں کہاں چھپے ہو یہ کس سے پوچھیں تھکن سفر کی ہمارے پیروں سے دل تک آئی تو مڑ کے دیکھا مڑ کے دیکھا تو تم نہیں تھے ، کہاں چھپے ہو! اے پیارے امجد! ہمارے امجد سبھی کے امجد تم تو بھائی یہیں کہیں اس ہجومِ یاراں کے بیچ بیٹھے کوئی لطیفہ سنا رہے تھے نہ جانے کس شام کی اتھا میں اتر گئے ہو بھلا کوئی اس طرح بھی…

Read More

امجد بابر ۔۔۔ گلوبل ورلڈ کے کمبل میں

گلوبل ورلڈ کے کمبل میں ۔۔۔۔ کوئی تو لپیٹ رہا ہے گلوبل ورلڈ کا کمبل کہیں سے نئے زمانے فضا میں اجنبی سی آہٹ ہمارے دل،ذہنوں میں خدشے گھولتی ہے ہم جو روایت اور اقدار سے جڑے معمولی ذرات سے بھی کمتر اپنے ہونے کی بے سود گواہی سے منحرف نجانے کتنے تجربات سینوں میں چھپائے مسلسل رائیگانی کے جلو میں چل رہے ہیں ابھی انسان بننے سے کوسوں دُور ہیں یہ دُنیا ہر لمحہ تبدیل ہونے کی کہانی ہے یہاں رنگوں کی بارش پھول موسم محبت کی ڈائری… سب…

Read More

شبہ طراز ۔۔۔ مون سون

پھر تمنا اُڑان بھرتی ہے خواب آنکھوں میں پھر مچلتے ہیں پھر پرندے ہرے سمندر پر رنگ سارے چھڑکتے جاتے ہیں پھر ہواؤں میں جاگتی ہے کسک پھر کسی یاد کی سیہ آندھی دل کے اطراف سے گزرتی ہے ایک لمحہ کہیں پہ روتا ہے زندگی زاویہ بدلتی ہے۔۔۔ دور کچھ پربتوں کے دامن میں ایک بستی میں شام ڈھلتی ہے۔۔!

Read More

امجد بابر ۔۔۔ فروٹ کیک

تُم کاٹو گے میرے راستے کو تمھارے پاس کالی بلی بھی نہیں کہاں سے نحوست کے آکٹوپس روایات کی زنجیریں لے آئے ہو میں صدیوں سے آنسوؤں کے سمندر پہ بہہ رہی ہوں مجھے خوابوں کی سبز ڈولی میں بٹھا کر فروخت کیا جاتا ہے کبھی گندے ہاتھوں سے میرے حْسن کی توہین ہوتی ہے کبھی بانجھ مرد کی بے ثمر ساعتوں سے سمجھوتہ کرتی ہوں کبھی اکلاپے سے لپٹ کر جاگتی ہوں کبھی شوہر کی غیر موجودگی میں رات کے دروازے پہ کھڑے بہکے سایوں کی دستک سنتی ہوں…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک آشوبیہ​ (بارگاہِ خدا میں)

ایک آشوبیہ​ (بارگاہِ خدا میں)​ ……… تجھ سے میرے خدا کہوں کیا حالِ دلِ مبتلا کہوں کیا جس حال میں ہوں، تجھے خبر ہے بندہ ہوں میں ترا، کہوں کیامیں ایک حصارِ عقل میں ہوں تو سوچ سے ماورا، کہوں کیا آتی ہے صدا پرندگاں کی دیتی ہے ترا پتا، کہوں کیا میں عجز سرشت، سر بہ خم ہوں ہے عجز مری انا، کہوں کیا تو لامتناہی و دوامی زیبا ہے مجھے فنا، کہوں کیا بے مایہ و کم نظر ہوں لیکن تو جانتا ہے، بھلا کہوں کیا! جیسا ہوں…

Read More

امیر خسرو ۔۔۔ گیت

میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے گھر ناری کنواری کہے سو کرے میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے سوہنی صورتیا ، موہنی مورتیا میں تو ہریزے کے پیچھے سما آئی گھر ناری کنواری کہے سو کرے میں تو پیا سے نین لڑا آئی رے

Read More

وزیر آغا ۔۔۔ ایک خواب

ایک خواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھندلکوں کے باریک دھاگوں میں لپٹی ہوئی مطمئن بے خبر میں نے دیکھا وہ مجھ پر جھکی تھی وہ چشمِ حسیں جس کے ہر انگ میں مامتا تھی مجھے یوں لگا تھا وہ چشمِ حسیں تو مجھے بس مجھے گھورتی ہے کسی اور کو دیکھنے کی اسے نہ تو فرصت نہ ہمت نہ خواہش فقط مرکزِ ہست کو دیکھتی ہے مجھے دیکھتی ہے میں اس آنکھ کی جھیل میں تیرتے سبز بجرے کی درزوں سے رِستے ہوئے گرم سیال سونے کی بوندوں کے پیچھے لپکتا رہا جگنوؤں…

Read More

وزیر آغا ۔۔۔ دعا

دعا ۔۔۔۔۔۔ بیاضِ شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں بدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائے فلک پر گرجتا ہوا گرم بادل ترے تن کی قوس قزح کا لرزتا دمکتا ہوا کوئی منظر دکھائے تجھے ہر قدم پر ملیں منزلیں ہوا ایک باریک سے تیز چابک کی صورت تری بند مٹھی میں دبکی رہے سدا تجھ کو حیرت سے دیکھے زمانہ تو بہتے ہوئے تیز دھاروں کی منزل بنے بادباں سارے تیری ہی جانب کھلیں اور افق کی منڈیروں پہ…

Read More

وزیر آغا ۔۔۔ اک تنہا بے برگ شجر

اک تنہا بے برگ شجر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کون مجھے دکھ دے سکتا ہے دکھ تو میرے اندر کی کشت ویراں کا اک تنہا بے برگ شجر ہے رت کی نازک لانبی پوریں کرنیں خوشبو چاپ ہوائیں جسموں پر جب رینگنے پھرنے لگتی ہیں میرے اندر دکھ کا ننگا پیڑ بھی جاگ اٹھتا ہے تنگ مساموں کے غرفوں سے لمبی نازک شاخیں باہر آ کر تن کی اندھی شریانوں میں قدم قدم چلنے لگتی ہیں شریانوں سے رگوں رگوں سے نسوں کے اندر تک جانے لگتی ہیں پھر وہ گرم لہو میں…

Read More

وزیر آغا ۔۔۔ ڈھلوان

ڈھلوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ننگی چیختی آواز پھر چابک کا شور کھڑکھڑاتے زنگ آلودہ سے پہیوں کی صدا اور میں آواز کے آگے جتا میری آنکھوں پر نقاب میرے منہ میں خار دار آہن کی جیب میرے بازو سخت چمڑے کے سیہ رسوں کے برہم جال میں جکڑے ہوئے اور میرے سم مرے چاروں رفیق گھاٹیوں سے پتھروں سے بے خطر خندقوں سے بے نیاز

Read More