آشفتہ چنگیزی ۔۔۔ خدا کی جگہ خالی ہے

شنکر ڈمرو کا متبادل تلاش کر چکا گوپیاں اب کسی اودھو کی محتاج نہیں ٹرنک کال ان کی سمسیاؤں کا حل ہے عزرائیل! ایٹم اور ہیلیم کے حق میں دست بردار ہونے کی فکر میں ہے اسرافیل کی جمالیاتی حس کو جلا مل گئی اب وہ کسی میوزک اسکول میں داخلہ لے لے گا فوڈ کارپوریشن کا مطالبہ: ‘میکائیل کا رٹائرمنٹ’ مان لیا گیا ہے وائرلس ٹیلی گراف کا محکمہ افسرِ اعلی کے عہدہ کے لیے جبرئیل کی درخواست پر غور کر رہا ہے ‘خدا کی جگہ خالی ہے، متمنی…

Read More

ن م راشد ۔۔۔ رقص

اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں مَیں ڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے میرا اور جرمِ عیش کرتے دیکھ لے! اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے رقص کی یہ گردشیں ایک مبہم آسیا کے دور ہیں کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا جاتا ہوں مَیں! جی میں کہتا ہوں کہ ہاں، رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر کلفتوں کا سنگ…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ ناٹک

رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا آج سے تم آزاد ہو پروازوں کی ساری سمتیں تمھارے نام ہوئیں جاؤ جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اُڑو بادل کے ہم راہ ستارے چھو آؤ خوشبو کے بازو تھامو اور رقص کرو رقص کرو کہ اس موسم کے سورج کی کرنوں کا تاج تمھارے سر ہے لہراؤ کہ ان راتوں کا چاند تمھاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دعا لکھے گا گاؤ ان لمحوں کی ہوائیں تم کو تمھارے گیتوں پر سنگیت دیں گی پتے کڑے بجائیں گے اور پھولوں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔   خاک کی کیمیا

خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے قضیے سے کیا مجھے تو زمیں پر بدلتے ہوئے موسموں سے غرض ہے درختوں کے کٹنے کا غم ہے ہوا گرم ہونے لگی ہے کبھی آگ کے دائرے کھینچتی ہے کبھی ریت کی چادریں تانتی ہے وہ ننھے پرندے جو اپنے لڑکپن میں دیکھے تھے،معدوم ہیں شہر تو پھیلتے جا رہے ہیں مگر سانس لینے کا رقبہ سمٹنے لگا ہے ندّیاں سوکھتی جا رہی ہیں سمندر بپھر نے لگے ہیں کہ وہ صاف پانی…

Read More

اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام

شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے لگی گُل عذار کو سینے لگایا ماں نے دُرِ آبدار کو تکنے لگا وہ چرخِ تغیّر شعار کو فاقوں سے شیرِ مادرِ معصوم خُشک تھا کافور دودھ ہو گیا اور آب مُشک تھا نہرِ فرات قبضۂ غاصب سرشت میں بٹتے تھے جام صُحبتِ بد عہد و زشت میں پیاسے گئے عزیز و اقارب بہشت میں پانی نہیں تھا ساقیِ کوثر کی کشت میں سیراب فوجِ وحش و چرند و پرند تھی پانی کی راہ…

Read More

شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا

دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو دائیں بائیں بھر کر بیٹھ جاتاہو ں قیامت بازیوں کا گھاگ لپکا ہے یہ دائیں بائیں کا ٹپکا میں دو چھینٹوں کا اِک چھینٹا بناتا ہوں قیامت اور قیامت کے تناسب سے یہ چھینٹا مجھ پہ پڑتا ہے تو خانہ دار، اُدھر اُس پار تم بھی بھیگ جاتے ہو ! درازی لہر کی ہو ، قہر کی ہو ہونٹ سے پھر ہونٹ جا چپکا اِدھر آدھا ابال آدھا اُدھر حلقوم میں حلقوم کا دھارا…

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد

حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ اپنی اناؤں کا قتلِ عام چہروں پہ نقش ہوتی سیاہی کو بھول کر دوڑے چلے ہی جاتے ہیں بے سمت ، بے لگام یہ سارا اہتمام وہ کرتے ہیں کس لیے؟ ہیں ان کے جتنے خیر طلب اُن کو چھوڑ کر سایوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کس لیے؟ یہ بھی نہیں کہ ان کو نہیں انت کی خبر دن رات ان کے سامنے جاتے ہیں ان سے لوگ زیرِ زمین ڈھیر سی مٹی…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا

اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں جس میں ڈھل گیا کہ میرے خد و خال ہیں، وہی جو تھے مگر مرا نظام انہضام اب بدل گیا میں اپنے وقت کا ہوں کوئی اژدھا اگر نہیں تو گزرے وقت کا میں کوئی ڈائنوسار ہوں میں دشت میں لگے ہوئے اک ایک پیڑ کی ہر ایک شاخ تک کو کھا گیا پیٹ پھر نہیں بھرا تو کوئلے کی کان بھی جو راہ میں پڑی ہر اک چٹان بھی چبا گیا ہزارہا جتن…

Read More

نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)

یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر تو اِسی میں اِک دن عذاب راتوں کے قافلوں کو صبحِ منزل اُجال لے گی تلاشِ منزل کی اِس لگن میں، اگرچہ پائوں پہ آبلے ہیں مگر یقیں ہے، مجھے یقیں ہے کہ حشر تک بھی وہ ساری آنکھیں کھلی رہیں گی جنھیں سحر کی کسی تمنا نے رَت جگوں کا ملال بخشا مجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے یہ خوں کے دریا رواں نہ ہوں گے دیارِ اقدس کے زرد آنگن میں بسنے…

Read More