اُس پار ۔۔۔ جہاں تصویر بنواتے ہوئے جو مسکراہٹ ہے وہی چہرے پہ سچ مچ ہو جہاں یہ سر مئی شامیں پہاڑوں سے الجھتی ہوں جہاں یہ چاندنی شبنم کے سائے میں ٹہلتی ہو جہاں امید کی سب کشتیاں دل کے سمندر میں اترتی ہوں جہاں آنکھوں کے خوابوں کو حسیں تعبیر ملتی ہو جہاں خاموشیوں نے آسماں کے راز کھولے ہوں جہاںان موسموں پہ دھوپ کا پہرا نہیں ہوتا جہاں سینے میں کوئی درد اُٹھتا ہو مگر گہرا…
Read MoreCategory: آج کی نظم
احمد جلیل ۔۔۔ انتظار
انتظار ۔۔۔ سہانے موسموں کی راہ تکتے مری آنکھیں بھی اب پتھرا گئی ہیں مری آشاؤں کی کلیوں کے اوپر خزائیں ہی خزائیں چھا گئی ہیں سہانے موسموں کے راستوں میں ابھی تو دور تک پتھر پڑے ہیں ابھی تو دور تک خنجر گڑے ہیں مگر اب بھی ہیں تیری راہ تکتے مری پتھرائی آنکھوں کے جھروکے کبھی تو آئیں گے مجھ کو منانے دلِ ویران کا گلشن کھلانے کبھی تو ختم ہو گی یہ اذیت یہ لمبی انتظارِ یار کی رت۔۔۔!
Read Moreمہر علی ۔۔۔ صبح کی پہلی کرن
صبح کی پہلی کرن ۔۔۔ صبح کی پہلی کرن۔۔۔ شام اتر ی آسماں کی سیڑھیوں سے تو تری یاد آئی ہے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ دیکھ میری ذات کے تاریک بن میں کس قدر تنہائی ہے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ باغِ نادیدہ سے یوں گم نامیوں کے پھول چننا چھوڑ دے گیلی گیلی سبز سی اس گھاس پر یوں ٹہلنا چھوڑ دے رات کا در توڑ دے صبح کی پہلی کرن۔۔۔ جلدی جلدی آسماں کی سیڑھیاں نیچے اتر اور میری ذات کے تاریک بن کی سیر کر ڈھونڈ اس میں…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ روزہ
روزہ ۔۔۔۔ بھوکا پیاسا ہی اک نہیں کافی آنکھ بھی روزہ دار ہو تیری کر تلاوت مگر سمجھ کے تو صوم کیا فلسفہ ہے کیا اس کا وہ مخاطب ہے تجھ سے قرآں میں مت سنیں کان کچھ غلط صاحب ہاتھ بھی روزہ دار ہوں تیرے کر ملاوٹ نہ کوئی چیزوں میں مہنگے داموں نہ بیچ ،رب سے ڈر پیدا اشیا کی یوں نہ قلت کر وہ ہے حاضر بھی اور ناظر بھی وہ تو باطن سے بھی ترے واقف رحم کر خود پہ ہوش کر بندے اپنی حد سے…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی
بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی ۔۔۔۔ بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی شرم کی بھی ہے کچھ حیا کی بھی بات حیرت کی بھی ہے سوچیں تو زیب دیتا ہے کیا ہمیں بولو چاند آتے نظر ہی رمضاں کا مہ مبارک کا پاس کیا رکھا روزہ داروں کو اس کے پیاروں کو بیچ کے مہنگے داموں اشیا سب عازمِ عمرہ آخری عشرے کچھ تو خوفِ خدا کیا جائے دھوکاخود کو نہ یوں دیا جائے دل کی تسکین کا سنو ساماں اس کے بندوں کے کام آنے میں…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی
بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی نہیں بھولتے کسی کو مہ و سالِ آشنائی یہی خواب ہے سفر میں رہے تو سدا نظر میں ہمیں جس طرف اڑائیں پر و بالِ آشنائی کریں جاں نثار تجھ پر کہ فدا ہیں یار تجھ پر جنھیں علم ہے گراں ہے زر و مالِ آشنائی سبھی تجھ پہ مر رہے ہیں یہ گلہ بھی کر رہے ہیں تجھے پاسِ دوستی ہے نہ خیالِ آشنائی کبھی اس سے واسطہ ہے کبھی اُس سے رابطہ ہے ترے زاویے سے ٹھہرا ہے کمالِ آشنائی کس رخ…
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ دنیا دار
دنیا دار ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں جلوہ کناں چاہت اِخلاص کی ساری حدت اِحساس کا تمام وزن جذبوں کے سارے پرتو جب میں نے جنون کے میزان پر رکھے تو تمہارا پلڑا بھاری تھا کہ تم نے ٹوٹ کر محبت کی اور میں احتیاط کے کرب میں اُلجھا صرف دُنیاداری کرسکا
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ ڈیم
ڈیم ۔۔۔۔ اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے وسائل کی بقا ہوتے کوئی پانی کا ریلا سیل یا طوفان کیوں بنتا زمینوں کے لیے نقصان کیوں بنتا مویشی اور بندے ڈوب کر مرتے نہ لہروں میں پریشاں اس قدر ہر سوچ کا انسان کیوں بنتا ہزاروں ڈیم پبلک کی مدد سے رات دن تعمیر ہوتے ہیں طلاطم کے لیے ناقابلِ تسخیر ہوتے ہیں کمی بجلی کی پیش آتی نہ کوئی کارخانہ بندشوں کا سامنا کرتا تھپیڑے آزمائش کے مسلسل ارتقا ہوتے اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔۔ راستی کا سفر
راستی کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں سامنے کس طرح کی بستی ہے سرنگوں شر کے سامنے دیکھی زندگی خیر کو ترستی ہے جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ ہے یہ پہچان کس قبیلے کی خود پرستی کے اس خرابے میں جرم ہے آئنہ دکھانا بھی جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا جب ہے انصاف خود کٹہرے میں
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ میں زندگی ہوں
میں زندگی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں مسافتوں کی میں دھول مٹی سے اٹ گئی ہوں میں مر رہی ہوں مگر تھا عزم صمیم میرا کہ منزلوں تک ہے مجھ کو جانا سو عزم و ہمت سے سوئے منزل میں جا رہی ہوں مجھے نہ روکو کہ مجھ کو شاید عداوتوں سے محبتیں ہیں ہے شدتوں سے نباہ میرا یہ غم ہے میرا کہ نفرتوں میں گھری ہوئی ہوں میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں اگر کسی کو گمان…
Read More