صفدر صدیق رضی ۔۔۔ نظم

نظم ۔۔۔۔۔۔ میں نظم کی انگلی پکڑ کر جب چلا تو راستے میں مجھ کو میری کمسنی کے دن اچانک مل گئے معصومیت کے رنگ میں لتھڑے ہوئے مہکے ہوئے وہ دسترس کو آزماتی تتلیوں کے پیار میں بہکے ہوئے پھر نظم کچھ آگے بڑھی میں بھی ڈرا آگے بڑھا میری جوانی کے شب و روز آ گئے سب معصیت کی آگ سے لپٹے ہوئے بے رہروی کی لو بڑھاتے گل رخوں کے عشق میں بہکے ہوئے پھر نظم کے اصرار پر میں رُک گیا آگے نہ کوئی رنگ تھا…

Read More

سید عارف معین بَلّے … عقیدت (عازمین حج کے نام)

عقیدت (عازمین حج کے نام) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میسر جو نہیں مجھ کو یہاں اِملاک لے آنا مدینے کی گلی سے تْم،اْٹھا کرخاک لے آنا مِری تسبیح بن جائیگی ، موتی کام آئیں گے بچا لینا کچھ آنسو ، دیدۂ نم ناک لے آنا لگایا تھا نبی نے جو کبھی ، خود اپنے ہاتھوں سے جو ممکن ہوتو ، تم اس پیڑ کی مسواک لے آنا مجھے بھی اِن اندھیروں میں اْجالوں کی ضرورت ہے تجلیات ِ دربار ِ رسول ِ پاک لے آنا سنو ، میرے لئے بھی واپسی پر شہر…

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ عداس

عداس …….. تجھے سلام! اے انگوروں کے شیریں خوشوں سے لہکتی ڈالی اے طائف کے باغ کے مالی لہو لہو منظر، پتھریلے موسم، وحشی جذبوں اور سلگتے لمحوں میں گھائل بدنوں کے اور غریب الوطنوں کے دَمسازِ عالی پتھر برساتی بستی کے خنک مقالی میں نے تجھے آقاؐ کے حضور سخن کرتے، دم بھرتے، محبت کرتے دیکھا ہے حُسنِ عقیدت سے آقاؐ کے ہاتھ اور پاؤں چومتے، وادیٔ عشق میں گھومتے دیکھا ہے دلجوئی کی گیلی ساتعوں میں اکرام وتواضع کرتے، صورتِ بادِ شمال گزرتے، زینہ چارہ گراں سے اُترتے…

Read More

غلام مرتضیٰ ۔۔۔ دامن میں اک پہاڑکے۔۔۔۔۔۔

دامن میں اک پہاڑکے۔۔۔۔۔ (SAMUEL ROGERSکی نظم ’’A WISH ‘‘ کا آزاد ترجمہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن میں اک پہاڑ کے کٹیا بناؤں گا میں چھوڑ کر نگر، کوئی جنگل بساؤں گا ہر صبح بھیرویں مجھے گا کر سنائے گی کانوں میں رس پڑے گا، مگس بھنبھنائے گی چکّی مری چلائے گی بہتی ہوئی ندی جھرنوںکے نیلے جل سے، ہری گھاس سے بھری اس چھت کے نیچے رہنے ابابیل آئے گی گارے کے گھونسلے میں بہت چہچہائے گی مہمان تحفہ لائے گا اک جانماز کا کھائے گا ساتھ کھانا وہ زائر حجاز…

Read More

سرور حسین نقشبندی ۔۔۔ گستاخی

گستاخی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے ذہنوں پہ بت پرستی کے اب بھی تالے پڑے ہوئے ہیں تمہیں تمہاری ہی بے یقینی نے ڈس لیا ہے جکڑ لیا ہے تمہیں تمہاری ہی بے حسی نے خدا سے دوری نے تم سے بینائی چھین لی ہے دلوں پہ غفلت کی سرخ مہریں لگی ہوئی ہیں اسی لئے تو یہ کر رہے ہو زباں درازی تمہارے اندر جو بغضِ احمد کے تیز شعلے بھڑک رہے ہیں جو ان سے نفرت کا گرم لاوہ دہک رہا ہے اسی میں جلنا ہے تم نے آخر نہ ان…

Read More

فرح شاہد ۔۔۔ ریت

ریت ………. میں نے آخری وقت تک اس کا رستہ دیکھا تھا اور نجانے کتنے سالوں سے اس کی منتظر میں اب بھی ہوں اس نے ساتھ دینے اور چھوڑ جانے دونوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔۔۔ کہ اس کی فطرت وفا شناس نہ تھی۔۔۔ یوں مری نظروں کے سامنے ہی وہ غیر کا ہاتھ تھام کر مری وفا پر مٹی ڈال کے مجھے زندہ ہی دفن کر گیا…. میں نے آخری وقت تک اس کا رستہ دیکھا تھا کیوں بھول گئی ؟…… وہ شخص ریت…

Read More

یہاں بیٹھیں،رُکیں دم بھر … ستیہ پال آنند

یہاں بیٹھیں رُکیں دم بھر،   ٹھہر کر سانس لیں سستائیں دو گھڑیاں کہ یہ لمحہ ، ہمارے ماضی  ؑ مطلق سے حال ِ پا گریزاں تک دبے پائوں چلا آیا ہے اپنے ساتھ چپکے سے یہاں بیٹھیں، ٹھہر کر سانس لیں،سستائیں دو گھڑیاں کہ اس سے پیشتر یہ لمحہ ؑ موجود مستقبل کی جانب اک قدم آگے بڑھے، تحلیل ہو جائے کہیں لا وقت کے ازلی تواتر میں یہاں بیٹھیں، رُکیں دم بھر۔ٹھہر کر سانس لیں،  سستائیں دو گھڑیاں بہت پہلے ہتھیلی پر لیے اُجلی لکیریں ہم چلے تھے…

Read More

امجد بابر ۔۔۔ شکست کا بین الاقوامی چارٹر

شکست کا بین الاقوامی چارٹر ………… دائرے میں نجانے کتنے دُکھ رقص کرتے ہیں ذہنوں سے چپکے چند فراموش شدہ خواب وقت کی آگ میں جلتے ہیں غموں سے چھینے ہوئے چند قہقہے خوشیوں کے بھیس میں دل کی گلی میں گشت کرتے ہیں ہم زخمی سانسیں لیے (چند سائنسی توجیہات کی بدولت) اپنے سہارے جب چلتے ہیں تو رُکنے کے تیز و تند اشارے پاؤں کے جوتے کاٹتے ہیں ہم ایک سفر کی کہانی کے پلاٹ میں نجانے کتنے کرداروں کے سنگِ میل حادثوں کی چارج شیٹ کڑوے بادام…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ خالد احمد کی یاد میں

میرا احساس، مرا فکر و فن آراستہ تھا اک سخن وَر تھا کہ جس سے سخن آراستہ تھا اک جہانِ سمن و نسترن آراستہ تھا گل نما، نجم ادا، سیم تن آراستہ تھا نطق و گفتار کا صد رنگ طلسمِ معنی اِن فضائوں میں کبھی نغمہ زن آراستہ تھا طلعتِ غنچۂ فن پر تھی طراوت اس کی نو بہ نو رنگِ نوا پیرہن آراستہ تھا ایسا فن کار کہ گل رنگ ہوئی بزمِ فنون ایسا گل کار کہ سارا چمن آراستہ تھا دل کے احوال میں بھی، رنگ ِ خد…

Read More