پروین شاکر ۔۔۔ احمد جلیل

پروین شاکر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس کے نام کی بکھری نگر نگر خوشبو ادب سے روٹھ گئی آج وہ مگر خوشبو ہر ایک رنگ تھا اس کے سخن اجالے میں دھنک گلاب شفق تتلیوں کے پر خوشبو اسے قرینہ تھا ہر ایک بات کہنے کا سماعتوں کے وہ سب کھولتی تھی در خوشبو وہ خود کلامی تری تیرا جبر سے انکار ہیں تیری سوچ کے صد برگ نامہ بر خوشبو جو تیرے پھول سے بکھری ہے ان ہوائوں میں ہمیشہ کرتی رہے گی وہ اب سفر خوشبو نہ جانے اتریں کہاں…

Read More

محترمہ بے نظیر بھٹو کی نذر ۔۔۔ خالق آرزو

محترمہ بے نظیر بھٹو کی نذر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ذوالفقار رب نے تجھے دی وہ ذوالفقار فوجِ غنیم کو جو کرے پل میں تار تار ٹھہرا نہیں ہے سامنے جس کے کوئی عیار جس نے وطن کی شان پہ کنبہ دیا ہے وار جس کی جہاں میں ملتی نہیں کوئی بھی نظیر وہ دخترِ عظیم ، ہماری ہے بینظیر اپنے وطن سے اس کو نکالا دیا گیا اُس چاند کو بھی خون کا ہالہ دیا گیا اہلِ وطن کو جھوٹا سنبھالا دیا گیا ہم کو سیاہ رنگ اُجالا دیا گیا بیٹی…

Read More

Slvester’s Dying Bed by Langston Hughes

I woke up this mornin ’Bout half-past three All the womens in town Was gathered round me Sweet gals was a-moanin “Sylvester’s gonna die” And a hundred pretty mamas Bowed their heads to cry I woke up little later Bout half-past fo The doctor ‘n’ undertaker’s Both at ma do Black gals was a-beggin “You can’t leave us here” Brown-skins cryin’, “Daddy Honey! Baby! Don’t go, dear” But I felt ma time’s a-comin And I know’d I’s dyin’ fast I seed the River Jerden A-creepin’ muddy past But I’s still…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ ہبوط

ہبوط ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانے! تِری لوح پر خواب لِکھا ہُوا ہے مِرا اِس زمیں سے مگر چاند لگتا ہے وہ تیرے ماتھے پہ جھومر کی صورت چمکتا ہے آدھی جوانی اور آدھے بڑھاپے میں لپٹی ہُوئی خاک پر جب دمکتا ہے تصویر پانی کی، نیلے سمندر کی البم سے باہر اُچھلتی ہے مٹی کی عینک لگائے کنارے پہ بیٹھے ہُوئے آدمی کے قدم چومتی ہے۔ زمیں گھومتی ہے تو تصویر رہتی ہے پانی نہ وہ آدمی سارا منظر پھسل کر کسی دائمی بیکرانی کے جَل میں سما جاتا ہے آسمانی پہاڑی…

Read More

ظہور چوہان ۔۔۔ بولتی تصویریں

بولتی تصویریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جذبہ و احساس سے خالی اِن میں محبت نام کی کوئی چیز نہیں ہے چلتی پھرتی، جیتی جاگتی، بولتی ہیں تصویریں انسانوں کے روپ میں ہیں اور سینوں میں ہیں پتھر دل کا کام دھڑکنا جبکہ پتھر ہے اک بوجھ جسے اُٹھا کر پھرتے رہنا سَر ٹکراتے رہنا لیکن میرے کمرے میں ہیں کچھ ایسی تصویریں گھر میں رہنے والے جب سَو جاتے ہیں اُن کے رات کو نقش نمایاں ہو جاتے ہیں پھر وہ کاغذ کی تصویریں بولنے لگتی ہیں اور مرے دکھ درد ٹٹولنے لگتی…

Read More

نظم ۔۔۔ زعیم رشید

یہ چادر کیوں نہیں ہٹتی نہ جانے کیوں بڑی ماں کو جنوں تھا حکمرانی کا مِرے گھر کے سبھی کردار کہتے تھے انھی کی حکمرانی ہے انھی کی راجدھانی ہے انھی کا یہ وتیرہ ہے حویلی بھر کی جتنی چابیاں تھیں اُن کے پلو سے بندھی رہتی تھیں اور کس میں یہ جرأت تھی کہ اُن کو چھو بھی سکتا ہو یہ خوش بختی مقدر تھی تو میرا تھی کہ وہ صندوق جب کھولیں تو کمرے میں فقط مجھ کو بلاتی تھیں تو میں یوں بے نیازی میں کچھ ایسے…

Read More

اک کتھا انوکھی ۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا

اک جنگل تھاگھنی گھنیری جھاڑیوں والابہت پرانا جنگلجس کے اندر اک کُٹیا میںاپنے بدن کی چھال میں لپٹااپنی کھال کے اندر گم صُمجانے کب سےکتنے جگوں سےپھٹے پرانے چوغے پہنےوہ اک خستہ بیج کی صورتبے سُدھبے آواز پڑا تھا! بادل آتےکڑک گرج کر اُسے بلاتےبِن برسے ہی پچھم کی جانب مڑ جاتےہوا دہکتی آنکھیںٹھنڈی پوریں لے کراس کے چاروں جانب پھرتیپر کیا کرتیگیدڑ، مور، ہرن اور بندرسب کُٹیا کے باہر ملتے، سبھا جماتےاس سے کہتے:’’اب تو اُٹھ جاآخری جُگ بھی بیت چکاسورج میں کالک اُگ آئیچاند کا ہالہ ٹوٹ گیادیکھ…

Read More

سید آلِ احمد ۔۔۔ اے مرے پیارے سپاہی!

سید آلِ احمد اے مرے پیارے سپاہی! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے مرے پیارے سپاہی! مرے جوشیلے جواں! میری دھرتی کے محافظ! مرے انمول سپوت! میرے خوابوں، مرے جذبے کے تقدس کے امیں! تو نے بدلا ہے مرے دیس کی مٹی کا مزاج میں ترے واسطے لایا ہوں عقیدت کا خراج ۔۔ ایک لمحہ کو مری قوم پہ بجلی بن کر ایسے آیا تھا کہ جیسے ہوں خزاں کا موسم سرخ پھولوں کی مہکتی ہوئی خوشبو کا حریف سبز پتوں سے لہکتی ہوئی شاخوں کے خلاف چہچہاتی ہوئی چڑیوں کی خوشی کا قاتل…

Read More

صفدر صدیق رضی ۔۔۔ نظم

نظم ۔۔۔۔۔ میں نظم کی انگلی پکڑ کر جب چلا تو راستے میں مجھ کو میری کمسنی کے دن اچانک مل گئے معصومیت کے رنگ میں لتھڑے ہوئے مہکے ہوئے وہ دسترس کو آزماتی تتلیوں کے پیار میں بہکے ہوئے پھر نظم کچھ آگے بڑھی میں بھی ڈرا آگے بڑھا میری جوانی کے شب و روز آ گئے سب معصیت کی آگ سے لپٹے ہوئے بے رہروی کی لو بڑھاتے گل رخوں کے عشق میں بہکے ہوئے پھر نظم کے اصرار پر میں رُک گیا آگے نہ کوئی رنگ تھا…

Read More