عزیز فیصل ۔۔۔ دل کو دل سے رہ ہوتی ہے (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

دل کو دل سے رہ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک دن اس نے فون پہ پوچھا: ’’کیسے ہو؟‘‘ میں ششدر حیران ہوا تھا زندہ کیا امکان ہوا تھا؟ وہ پھر بولی: ’’میں نے پوچھا کیسے ہو کیا ویسے کے ویسے ہو؟‘‘ لفظ کہاں تھے جو دل کے ارمانوں کی تصویر بناتے اور بتاتے تنہائی کے اک گھنٹے میں کتنے سال سما جاتے ہیں روح میں کیسے درد پرانے در آتے ہیں وہ پھر بولی: ’’ کیسے ہو بولو، فیصل !اور بتاؤ دس برسوں کا لمبا عرصہ کیسے گزرا ، کیونکر کاٹا‘‘…

Read More

مجید امجد ۔۔۔ التماس

التماس مری آنکھ میں رتجگوں کی تھکاوٹ مری منتظر راہ پیما نگاہیں مرے شہرِ دل کی طرف جانے والی گھٹاؤں کے سایوں سے آباد راہیں مری صبح تیرہ کی پلکوں پہ آنسو مری شامِ ویراں کے ہونٹوں پہ آہیں مری آرزوؤں کی معبود! تجھ سے فقط اتنا چاہیں، فقط اتنا چاہیں کہ لٹکا کے اک بار گردن میں میری چنبیلی کی شاخوں سی لچکیلی بانہیں ذرا زلفِ خوش تاب سے کھیلنے دے جوانی کے اک خواب سے کھیلنے دے

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ صور اسرافیل

اب تو بستر کو جلدی سے تہہ کر چکو لقمہ ہاتھوں میں ہے تو اسے پھینک دو اپنے بچوں کی جانب سے منھ پھیر لو اس گھڑی بیویوں کی نہ پروا کرو راہ میں دوستوں کی نظر سے بچو اس سے پہلے کہ تعمیل میں دیر ہو سائرن بج رہا ہے ۔ چلو دوستو!

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ دوسری جلاوطنی

جب گیہوں کا دانا جنس کا سمبل تھا، اس کو چکھنے کی خاطر، میں جنت کو ٹھکرا آیا تھا۔ اب گیہوں کا دانہ، بھوک کا سمبل ہے ۔ جس کو پانے کی خاطر، میں اپنی جنت سے باہر ہوں !

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ مشرقی چیخیں

عرفی، مرا چہیتا چالیس دن کا بیٹا، آغوش میں ہے میری۔ آنکھیں گھما گھما کر، لاتیں چلا چلا کر جذبے ابھارتا ہے ۔ ہنس کر، ہمک ہمک کر کلکار مارتا ہے ۔ لیکن ذرا سنو تو! کلکار کے عقب سے یہ کون چیختا ہے ۔ عصّو ، مری نہایت خدمت گار بیوی، میں جس کی ہر ادا پر، دل سے فریفتہ ہوں ، عرصے کے بعد، گھر کے جنجال سے بچا کر تھوڑا سا وقت، میرے بستر پہ آ گئی ہے ، سرگوشیوں میں ، پچھلے بارہ برس میں پل…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی : جھولنا حاتم کے سر کا۔۔۔

اور حاتم طائی نے جب، اسم اعظم پڑ ھ کے ، ان پر دم کیا۔ پیڑ پر لٹکے ہوئے سر، گر پڑے تالاب میں ، اپنے جسموں سے گلے مل کر، نہایت خوش ہوا پریوں کا غول۔ مہ لقاؤں میں جو سب سے خوب تھی، شکریے کے طور پر حاتم سے ہم بستر ہوئی۔ یہ بدن ہی سے بدن کا تھا ملاپ، جسم اور سر کا نہیں ۔ اس واسطے ، اسم اعظم کا اثر جاتا رہا، تب سے ، حاتم طائی کا سر، جھُولتا ہے پیڑ پر۔ اور، دھڑ…

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ رِستا ہوا بوسہ

میں نے اس کے تھر تھراتے ہونٹ پر، کچھ اس طرح آہستگی سے ، رکھ دیے تھے ہونٹ اپنے ، جیسے چوڑی پر کوئی چوڑی بٹھائے ۔ ذہن میں ہلکی سی شیرینی کا خوش کن ذائقہ ہے ۔ سانس میں خوشبو گھلی ہے ، شہد میں دوبی ہوئی چمپا کی پنکھڑیوں کا عالم، پھر مرے احساس میں کیوں …….. کانچ کا ٹکڑا سا چبھ کر رہ گیا ہے ، میرے ہونٹوں پر، یہ سُرخی کس لیے ہے ؟!

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔ فیڈنگ پرابلم

شہر میں کرفیو لگا ہے ۔ میری ہمسایہ کے گھر طوفاں بپا ہے ۔ دودھ اس کی چھاتیوں سے بہہ رہا ہے بھوک سے بے حال اس کا بچہ کپڑے نوچتا ہے دودھ کا ٹِن اس طرف خالی پڑا ہے ۔ شہر میں کرفیو لگا ہے

Read More

ڈاکٹر مظفر حنفی ۔۔۔۔ ہابیل کی منطق

کوٹھے سے ، حوّا کی بیٹی جھانک رہی تھی۔ اس نے اپنا بٹوہ دیکھا۔ ٹھنڈے دل سے غور کیا۔ پہلے جانے میں پیسے زائد لگتے ہیں ، اور سمَے بھی کم ملتا ہے ۔ لہجے میں ایثار سمو کر، وہ اپنے ساتھی سے بولا: پہلا حق تو تیرا ہے ، بھائی قابیل!

Read More

مظفر حنفی ۔۔۔ ڈوبنے جاؤں تو دریا…….

کرارے نوٹ چھن چھن بولتے سکّے ، شیئر، ہُنڈی، چمکتی میز، الماری، نگر کے سیٹھ، افسر اور پھر ان کے حواری، کلرکوں کی زبان پر موٹے موٹے ہندسے جاری، قلم بھاری۔ فضا میں بینک کی ہر سمت اک سنجیدگی طاری۔ نہ جانے کیسے چوکیدار کی آنکھیں بچا کر، نیم خبطی اک بھکاری، کب بڑے صاحب کے کمرے میں در آیا، لگا تھا پیٹھ سے جو پیٹ، دکھلایا۔ کہا: سرکار مل جائے اگر اک نوٹ دس کا، میں چنے لے کر چبا لوں ، پیٹ کا دوزخ بجھا لوں ۔ جواباً…

Read More