ادا جعفری

یہ شعر ادا جعفری کی لطیف تخیلاتی پرواز اور نسوانی شعری حسیّت کا ایک حسین استعارہ ہے، جس میں جذبۂ محبت، اضطرابِ دروں، اور نگاہ کی جادوگری کو نہایت پراسرار اور باوقار پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔

Read More

شاہین عباس

کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیا یوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں

Read More

شاہین عباس

کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آباد میں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس  کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…

Read More

ظفر اقبال

کچھ نہ کچھ آثار رہ جاتے ہیں اُس کے جابجا وہ یہاں سے جائے بھی تواِس قدر جاتا نہیں

Read More