ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے
Read MoreCategory: ہ
راحت اندوری
ہمارے میر تقی میر نے کہا تھا کبھی میاں یہ عاشقی عزت بگاڑ دیتی ہے
Read Moreنجیب احمد
ہم تو سمجھے تھے کہ چاروں در مقفل ہو چکے کیا خبر تھی ایک دروازہ کھلا رہ جائے گا
Read Moreاحمد فراز
ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر پاؤں بھی ہیں شل، شوقِ سفر بھی نہیں جاتا
Read Moreمولانا حسرت موہانی
ہے مشقِ سخں جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
Read Moreمحسن اسرار
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں مگر نہیں ہیں ہم ہمارا گھر ہے مگر اس میں کیا ہمارا ہے
Read Moreاحمد فراز
ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر جا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے
Read Moreخالد احمد
یہ شعر خالد احمد کی گہرے جذباتی شعور اور کربِ مسلسل کا نچوڑ ہے، جس میں زخم خوردہ دلوں کے لیے الفاظ کی اذیت ناک تاثیر کو بیان کیا گیا ہے۔
Read Moreمحسن اسرار
ہم کو تو آئنے کی ضرورت نہیں مگر اک آدمی سے گہرے مراسم ہیں، کیا کریں
Read Moreادا جعفری अदा जाफ़री
ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی پھول بالوں میں اک سجانے کو हाथ काँटों से कर लिए ज़ख़्मीफूल बालों में एक सजाने को
Read More