عبداللہ حسین کا ایک افسانہ ”سمندر“ … انیس اکرام فطرت

”یہاں سمندر فیروز کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اس وقت جہاں تم موجود ہو وہاں و قت تھم گیا ہے۔ اور ایک ایک پَل پر سے تمہارا اختیار اُٹھ گیا ہے کہ یہاں میں حکومت کرتا ہوں۔ اس لےے نہیں کہ میں لافانی ہوں اور طاقت ور ہوں اور غصیل ہوں…. اس لےے کہ جب پَل پَل پر تمہارا اختیار تھا تو تم نے ہاتھ بڑھا کر کسی تک پہنچنا ہی نہ چاہا۔ اور آخر بے اختیار ہو کر بیٹھ گئے اور اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ…

Read More

مستنصر حسین تارڑ: ’’پیار کا شہر‘‘ سے شہرِ ویران تک۔۔۔۔ ڈاکٹر امجد طفیل

مستنصر حسین تارڑ ’’پیار کا شہر‘‘ سے شہرِ ویران تک مستنصر حسین تارڑ گذشتہ ساٹھ سال سے اپنی تصنیفی اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی ابتدائی شناخت تو بطور سفرنامہ نگار بنائی اور اس کی انفرادیت اور شہرت ان کے بائیس سفرناموں کے ساتھ مستحکم ہوئی ہے۔ تخلیقی اعتبار سے سب سے اہم صنف جس میں انھوں نے مسلسل اپنے تخلیقی تجربے کو بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے وہ ناول کی صنف ہے۔ ناول ایک ایسی نثری صنف ہے جس کا دامن بہت…

Read More

’’جبریل اُڈاری‘‘ اور تخلیقی ترجمہ نگاری ۔۔۔ جلیل عالی

’’جبریل اُڈاری‘‘ اور تخلیقی ترجمہ نگاری شعر و ادب کے ایسے مترجم تو بہت مل جائیں گے جو کسی ادارے کی فرمائش پر یا اپنی تخلیقی سرگرمیوں کے درمیانی وقفوں کے دوران تراجم کا کام نمٹانے بیٹھ جاتے ہیں۔مگر ایسے ترجمہ نگار کم کم پائے جاتے ہیں جو کسی غیر زبان کیے تخلیق کار کی تخلیقات سے تحریک پا کرایک اندرونی انگیخت سے ان کا ترجمہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیںاور پھر اپنی تمام تر تخلیقی و اکتسابی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی زبان میں منتقل کرتے…

Read More

اکیسویں صدی کے افسا نے میں تغیر پذیر سماجی اقدار ۔۔۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 بدلتے زمانے کے ساتھ ساتھ ہر شئے تغیر پذیر ہوتی جاتی ہے۔ ادب سماج کا عکاس ہو تا ہے لہٰذا سماج کی تبدیلی کے اثرات تو ادبی تخلیقات میں دکھائی دیتے ہیں۔ سماج در اصل انسانی گروہ کے اعمال و افعال کا آئینہ ہو تا ہے۔ سماج کی اپنی راہیں ہوتی ہیں۔ صحیح و غلط کے پیمانے ہوتے ہیں۔ اچھی باتیں اور اچھے کام سماج میں سکون، اطمینان، خوش حالی اور امن و امان کے قیام کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے بر عکس غلط باتیں اور غلط کام سماج…

Read More

زبان کے تیور … ڈاکٹر سلیم اختر

وقت کے بہاﺅ کو بالعموم دریا سے تشبیہ دی جاتی ہے واقعات کے لہر در لہر سلسلوں کی بِنا پر ، وقت غیر مرئی ہے اس لئے کہہ نہیں سکتے کہ یہ تشبیہ مناسب ہے یا نہیں لیکن زبان کے آغاز اور اس کے تشکیلی مراحل کے بارے میں دریا کی تشبیہہ کارآمد محسوس ہوتی ہے۔ ہمالیہ کے سلسلہ کوہ میں ایک گلیشیر گنگا کا منبع ہے۔ گنگا کی مناسبت سے اس گلیشیر کو ”گنگوتری“ کا نام دیا گیا ہے۔ صاف شفاف،موتی سادمکتا پانی، کوہستانی سفر ختم کرکے جب میدان…

Read More

Robert Browning

Robert Browning, (born May 7, 1812, London—died Dec. 12, 1889, Venice), major English poet of the Victorian age, noted for his mastery of dramatic monologue and psychological portraiture. His most noted work was The Ring and the Book (1868–69), the story of a Roman murder trial in 12 books. The son of a clerk in the Bank of England in London, Browning received only a slight formal education, although his father gave him a grounding in Greek and Latin. In 1828 he attended classes at the University of London but left after half a session. Apart from a journey to St. Petersburg in…

Read More

آج کی نظم اور اس کے انسلاکات … رفیع اللہ میاں

ہم اقداری صورتوں کے سریع تغیر سے عبارت وقت میں سامان زیست کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ لفظ ”جدید“ بھی تیزی سے اپنی قدر کھوتا محسوس ہوتا ہے۔ معنوی سطح پر یہ حرکی تغیر حیران بھی کرتا ہے اور پریشان بھی۔ ہمارے لیے ہر نئی چیز جدید ہوتی ہے اور اس جدید چیز کی موجودگی میں اس سے زیادہ جدید چیز سامنے آجاتی ہے۔ ان کے مابین وقت کا وقفہ اتنا کم ہوتا ہے کہ یہ صراحت کرنا مشکل ہوجاتی ہے کہ اِسے جدید کہا جائے یا اُسے۔ چناں چہ اس…

Read More

ارمان نجمی – شیکسپیئر کے تین ڈراموں کا رد تشکیلی مطالعہ

کئی دہائیوں کی بات ہے جب اپنے بچوں کو انگریزی پڑھانے کے دوران اُن کے نصاب میںشامل شیکسپیئر کے ڈراموں یا اُن پرمبنی قصوں کے قریبی مطالعہ سے کئی شہبات سر اُٹھانے لگے تھے۔لیکن میں اُن کو ذہن سے جھٹک دیتا تھا، یہ سوچ کر کہ شکسپئر ایسا عظیم منصنف تعصب یا تنگ نظری کا شکار کیسے ہو سکتا ہے اُس نے تو اپنے مختلف کرداروں کے ذریعہ اپنے وقت کے تعصبات اور ذہنی تحفظات کو زبان عطا کی ہے۔ لیکن مزید مطالعہ سے میرے اُن سوالات کو مزید تقویت…

Read More

قمر جمیل نیرنگیٔ حواس کا شاعر ۔۔۔ خواجہ رضی حیدر

”تذکرہ نگار کہتا ہے کہ وہ صرف ان شاعروں کا ذکر کرے گا جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اُن کی تکنیک نئی ہوگی اور اُن کی شاعری شہری زندگی سے طلوع ہوگی مگر اُن کے گھروں کے سامنے ”شجرة الکون“ ہوگا یا گو تم کا درخت۔ اُن کے لفظ کبھی بہار کے پتوں کی طرح سبز اور کبھی خزاں کے پتوں کی طرح زرد ہوں گے“۔ یہ قمر جمیل کی نثری نظم ”تذکرہ گلشنِ جدید“ ایک اقتباس ہے۔ اِس نظم پر گفتگو کرنے سے قبل آئیے ذرا قمر جمیل کے…

Read More

اسلوبیات کی افہام و تفہیم ۔۔۔۔ مرزا خلیل احمد بیگ

اس مقالے کا مقصد قارئین کو ادبی تنقید کے ایک نئے رجحان یا دبستان سے روشناس کرانا ہے جسے اسلوبیات کہتے ہیں۔ اس میں جو نکات پیش کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں: زبان، ادب کا ذریعہ اظہار ہوتی ہے۔ زبان اور ادب کے درمیان گہرا رشتہ پایا جاتا ہے۔ زبان کے مخصوص استعمال سے کسی ادیب کے اسلوب (Style)کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔اسلوب کا مطالعہ اور تجزیہ اسلوبیات کہلاتا ہے جسے ’اسلوبیاتی تنقید‘ بھی کہتے ہیں ۔ اسلوبیات کی بنیاد لسانیات (Linguistics)پر قائم ہے۔ اسلوبیاتی طریقہ کار معروضی،…

Read More