PYTHAGORAS by Bertrand Russell

PYTHAGORAS  PYTHAGORAS , whose influence in ancient and modern times is my subject in this chapter , was intellectually one of the most important  that ever lived , both when he was wise and when he was unwise . Mathematics , in the sense of demonstrative deductive argument , begins with him , and in him is intimately connected with a peculiar form of mysticism . The influence of mathematics on philosophy , partly owing to him , has , ever since his time , been both profound and unfortunate…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شہناز شورو (مضمون)

شہناز شورو یہ الفاظ افسانہ نگار ڈاکٹر شہناز شورو کے ہیں: ’’افسانہ ابتدا ہے، افسانہ انتہا ہے،افسانہ قاتل ہے، افسانہ مقتول ہے، افسانہ بنائے زندگی، افسانہ بقائے زندگی، افسانہ راز، افسانہ بے خودی، افسانہ ہوش مندی، افسانہ نگاہ، افسانہ نشتر، افسانہ واردات، افسانہ خلق اور افسانہ خدا ہے۔‘‘ اِن الفاظ سے افسانہ نگار کی سوچ اور فکر کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔یہ ایک ایسے تخلیق کار کی سوچ ہے جو افسانہ نگاری کوکارِ بیکارخیال نہیں کرتا۔اُن کے نزدیک افسانہ زندگی اور بقائے زندگی ہے۔ افسانہ ہوش مندی سے ناسوروں…

Read More

نوید صادق ۔۔۔ اعجاز گل کی شخصیت: ایک تاثر

اعجاز گل کی شخصیت: ایک تاثر ………………………………………… ’’بھائی! تم کس کی طرف ہو؟ ‘‘ اعجاز گل صاحب نے پوچھا۔ ہم نے جواب میں عرض کیا: ’’دونوں طرف!‘‘ رات کے دو بج چکے تھے۔فیس بک پر جنابِ ظفر اقبال اور جنابِ اختر عثمان کی شاعری کے حوالے سے ہم کچھ دوستوں سے الجھ رہے تھے۔ دونوں طرف سے آرا سامنے آ رہی تھیں۔ ہم اکیلے تھے، دوسری طرف تین صاحب مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے۔ہوا کچھ یوں کہ حلقہ اربابِ ذوق، لاہور نے ظفر اقبال صاحب کے ساتھ ایک شام منائی۔…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ شمع خالد (تعارفی نوٹ)

شمع خالد شمع خالد ۳؍ اپریل ۱۹۴۷ ء کے روز راول پنڈی میں پیدا ہوئیں۔ بہت عرصہ تک ریڈیو پاکستان میں سینئر پروڈیوسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔چوں کہ ریڈیو سے وابستہ رہی ہیں تو بچوں کی کہانیاں اور ڈرامے بھی لکھے۔قلم سے رشتہ استوار کیے اُنہیں کئی دہائیاں بیت چکی ہیں اور اُن کا شمار کہنہ مشق فکشن نگاروں میں کیا جاتا ہے۔مزید براں ایک معروف کالم نگار بھی ہیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’پتھریلے چہرے‘‘ کے نام سے ۱۹۸۲ء میں منظر عام پر آیا۔ بعد ازاں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ تنویر انور خان ( مضمون)

تنویر انور خان کراچی میں مقیم معروف افسانہ نگار تنویر انور خان ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔اُن کے شریکِ حیات ڈاکٹر محمد انور خان بھی ایک با ذوق شخصیت اور جانے پہچانے آئی سرجن ہیں۔حال ہی میں اُن کی دو تازہ افسانوی کتب کانچ کے ٹکڑے اور ٹوٹا پتہ کے نام سے منظر عام پر آئی ہیں۔ قبل ازیں اُن کے آٹھ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں زنجیریں، پرچھائیں اور عکس، پانی کا بلبلہ،میت رے،ہلالی کنگن، بے قیمت،شگون کے پھول، وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیرا رحمان (مضمون)

حمیرا رحمان ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ادبی منظر نامے پر ابھرنے والی شاعرات میںسے ہیں۔کالج کے مشاعرے اورریڈیو پاکستان ملتان سے بی بی سی اور پھر وہاں سے ہوتی ہوئیں نیو یارک میں جا بسیں۔ ایک شاعرہ کی حیثیت سے تیزی سے ادبی منظر نامے پر ابھری تھیں مگر امریکا منتقل ہو گئیں۔اُن کا پہلا مجموعۂ غزل و نظم ’’اندمال‘‘ ۱۹۸۵ء میں اشاعت پذیر ہوا۔ جب کہ ’’انتساب‘‘ (۱۹۹۷ء) میں منظر عام پر آیا۔انہوں نے لہجے اوراسلوب کو بر قرار رکھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ شعر گوئی میں ایک…

Read More

ما بعد جدیدیت ( اردو کے تناظر میں) ۔۔۔ گوپی چند نارنگ

اردو میں مابعد جدیدیت کی بحثوں کو شروع ہوئے کئی برس ہو چکے ہیں۔  اہل علم جانتے ہیں کہ جدیدیت اپنا تاریخی کردار ادا کر کے بے اثر ہو چکی ہے اور جن مقدمات پر وہ قائم تھی وہ چیلنج ہو چکے ہیں۔  وہ ادیب جو حساس ہیں اور ادبی معاملات کی آگہی رکھتے ہیں، ان کو اس بات کا احساس ہے کہ مابعد جدیدیت کا نیا چیلنج کیا ہے اور اردو کے تناظر میں مابعد جدیدیت کے اثرات کے تحت پیدا ہونے والے نئے سوالات کیا ہیں۔ اس بارے…

Read More