یونہی آ سکتی تھی باتوں میں روانی یہ کہاں نہر کی بولی سے مَیں سیکھی ہے دریا کی زباں عیش و عشرت میں کمیداں ہُوئے ایسے مصروف طاقِ نسیاں پہ دھری رہ گئیں شمشیر و سناں اِس میں ظاہر ہُوئے کچھ تازہ شگوفے تو کھُلا میرے گلدان پہ تہمت تھی یہ تصویرِ خزاں مجھے آتا ہے حریفوں کو بھی تابع رکھنا میرا سکہ ابھی بازار میں چلتا ہے میاں سب کو معلوم نہیں کوچۂ جاناں کا پتا کوئی کوئی ہے جسے اذنِ رسائی ہے یہاں
Read MoreCategory: آج کی غزل
گلزار بخاری ۔۔۔ ڈال کر پانی میں کشتی شاد ہونا چاہیے
ڈال کر پانی میں کشتی شاد ہونا چاہیے شرط ہے مانجھی کو ساحل یاد ہونا چاہیے ہو اگر انسان سچ کے راستے پر گامزن اس کے لب پر ہرچہ باد اباد ہونا چاہیے کاٹ کر کہسار جوئے شیر پیدا کر سکے بندہ شیریں کے لیے فرہاد ہونا چاہیے چارسُو فرعون کے پَرتُو نظر آنے لگے اِک نہ اِک موسیٰ کا بھی ہمزاد ہونا چاہیے کہہ رہے ہیں دیدہ ور کیوں عدلیہ ہوتے ہوئے عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے فرد کی کھوئی توانائی کو واپس لاسکے چارجر ایسا بھی…
Read Moreجمشید چشتی ۔۔۔ بات لگتی ہے پرانی برسوں
بات لگتی ہے پرانی برسوں ہوئے ، برسے ہوئے پانی، برسوں یہ وہی بیج اُگا ہے ، جس نے بات مٹّی کی نہ مانی برسوں میں نے دیکھی ہے اِسی ساحل پر خشک دریا کی روانی برسوں ایک موسم ہے ، گزر جائے گا یاد آئے گی جوانی برسوں سر کٹاتا ہے کوئی دم بھر میں اور چلتی ہے کہانی برسوں کوئی انعام ہَوا کو ، جس نے کی ہے پیغام رسانی برسوں! وہ تو جمشید بس اک ذرّہ تھا خاک جس دشت کی چھانی برسوں
Read Moreآفتاب خان ۔۔۔ وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے
وہ ہم سے خاک نشینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے مکان اپنے مکینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے ہمارا سارا اثاثہ تھا پہلی منزل پر شکستہ بام کے زینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے نئے وطن میں بھی پہلا خمار جا نہ سکا ہم اپنی کھوئی زمینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے فرار ہو گئے محبوب مہ جبین و رقیب غُلامِ شاہ بھی تینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے اُنھی کے دم سے ولایت کا راستہ کُھلتا جو چند سجدے جبینوں کو ڈھونڈتے ہی رہے تھی جِس کے خون میں رنگت سفید پتّھر کی وہ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے
سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نے وگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے بھلا ہو چاند کا آتے ہی نور پہنچایا ستارے ہوتے تو آنکھیں چرا گئے ہوتے جوان جسموں کو ٹھنڈا نہ کر سکے لیکن ہوا کے…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے
ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے وہ دامانِ مہِ کنعاں ہے یہ دستِ زلیخا ہے ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کی الٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے کھلونا تو نہایت شوخ و رنگیں ہے تمدن کا معرف میں بھی ہوں لیکن کھلونا پھر کھلونا ہے مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کا کنارِ آب رکنا باد و گلگشتِ مصلےٰ…
Read Moreاعجاز دانش ۔۔۔ جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے
جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے وہ شخص ہے فنکار ، قلمکار نہیں ہے دعویٰ ہے اگر مجھ سے محبت کا تجھے بھی مجھ کو بھی ترے پیار سے انکار نہیں ہے یہ غم کی کہانی میں کسے جا کے سناؤں دشمن ہیں بہت کوئی مرا یار نہیں ہے عاشق تو بنا پھرتا ہے ہر شخص یہاں پر جاں دینے کو لیکن کوئی تیار نہیں ہے میں جانتا ہوں میرے خدا تیرے علاوہ دینا میں مرا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے بے خوف گزر جاؤں گا اس راہ گزر…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں
زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں ڈھونڈتا پھرتا ہُوں جنت میں کرائے کا مکاں یوں تو مِلتی ہیں ہزاروں ہی مقلد گاہیں شہر بھر میں نہیں اِک صاحبِ رائے کا مکاں اپنی پرچھائیں میں بھی سر نہ چھپائیں لیکن دھوپ میں دیکھنا پڑ جاتا ہے سائے کا مکاں اُس کی آنکھوں میں بہت دیر رہے ہیں لیکن راس آیا نہ کبھی ہم کو پرائے کا مکاں ہم سے گمناموں کو رہتی ہے یہ حسرت خاور ہو میسر ہمیں شہرت علی رائے کا مکاں
Read Moreعقیل عباس ۔۔۔ اشوک و پورس و گوتم کی سرزمین سے میں
اشوک و پورس و گوتم کی سرزمین سے میں حضور آپ کا خادم ہوں منکرین سے میں سنہری جالیاں چھوتا ہوں اور سوچتا ہوں ملے بغیر چلا جائوں گا مکین سے میں قسم ہے شانِ کریمی کی کبریائی کی لپٹ کے رو نہیں پڑتا مرے امین سے میں حضور آپ کی سیرت مطالعہ ہے مرا حضور ڈرتا نہیں ہوں کسی لعین سے میں حضور امتیں جس روز ساری جمع ہوئیں تو صاف جان لیا جائوںگا جبین سے میں اڑن کھٹولے پہ نکلا حجازِ اقدس کو فلک پہ آ گیا ہوتا…
Read Moreثمر جمال ۔۔۔ جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں
جو کوئی وقعتِ تجدید سمجھتا ہی نہیں میں اُسے قابلِ تقلید سمجھتا ہی نہیں آج کے دور کا انسان بہت ضدی ہے کُھل کے کرتے رہو تنقید، سمجھتا ہی نہیں وہ ترے دل میں چُھپی بات کہاں سمجھے گا؟ جو ترے لفظوں کی تعقید سمجھتا ہی نہیں کوئی بھی بات طوالت سے بُری لگتی ہے میں کسی قسم کی تمہید سمجھتا ہی نہیں تیرے ہونے کا گماں، دل کو جواں رکھتا ہے تو کہ اِس بات کو بے دید! سمجھتا ہی نہیں اُن کو تہوار مبارک جنہیں سب حاصل ہے…
Read More