کر دیا کیوں آئنہ گر کے سپُرد؟ آئنہ کرنا تھا پتھّر کے سپُرد! پیاس ہم سہتے رہے کچھ سوچ کر کر کے اِک دریا سمندر کے سپُرد کرب جتنا ہے، مری قسمت میں ہے راحتیں سب اُس کے پیکر کے سپُرد ساحلوں سے اب ہمیں لینا ہے کیا؟ کشتیاں اپنی سمندر کے سپُرد! شِدّتِ شوقِ نظارہ کے سبب آنکھ ہی کر دی ہے منظر کے سپُرد! ہم ہیں زندہ کس زمانے میں نسیمؔ بیل پھولوں کی ہے کیکر کے سپُرد!
Read MoreCategory: آج کی غزل
فیض رسول فیضان ۔۔۔ پیاسی نظر کو یار کی جب دید ہو گئی
پیاسی نظر کو یار کی جب دید ہو گئی سچ پوچھیٔے تو اپنی وہیں عید ہو گئی جب عید ہو گئی تو سمجھ لو کہ اس طرح عہد ِوفا کی خیر سے تجدید ہو گئی دل اور آنکھ کا ہی یہ سارا ہے تال میل تجسیم ہو گئی کبھی تجرید ہو گئی پہلی نظر نے ہی مجھے کُندن بنا دیا تمہید ہی خلاصۂ توحید ہو گئی آنے لگی ہے پیش رُکاوٹ قدم قدم اُن کی طرف سے بھی مری تائید ہو گئی کچھ دیکھنے کا عزم کیا، پردے پڑ گئے…
Read Moreندیم ملک ۔۔۔ دو غزلیں
ناز نخروں سے جو پلی ہوئی ہے اسی پاگل سے دل لگی ہوئی ہے پاؤں زخمی ہوئے ہیں پانی میں کیسی نادان زندگی ہوئی ہے آپ سے کوئی واسطہ نہیں تھا آپ نے پھر بھی بات کی ہوئی ہے شہر میں نام گونجتا ہے مرا آپ سے جب سے دوستی ہوئی ہے پھول ، اور سنگ و خشت ہیں یکجا آئنے میں نظر کری ہوئی ہے رنگ تتلی کے ہو گئے مدھم چاند پر آنکھ جم گئی ہوئی ہے میری چادر میں چھید تھے پھر بھی آپ نے سر پہ…
Read Moreشریف ساجد ۔۔۔ نا رسیدہ طرب کا کیا کیجے
نا رسیدہ طرب کا کیا کیجے گریۂ نیم شب کا کیا کیجے ہاتھا پائی پہ وہ اُتر آئے ایسے پاسِ ادب کا کیا کیجے اپنی وحشت ہے اپنا غم، اُن کے خندئہ بے سبب کا کیا کیجے شیخ رندوں سے بڑھ گئے صاحب احترامِ نسب کا کیا کیجے کچھ کہا ہو، ہوا سے لڑنے لگے بے جہت اس غضب کا کیا کیجے خود نمائی کو ان کی کیا کہیے دیدئہ بے ادب کا کیا کیجے نارسائی بھی رایگانی ہے جدوجہد و طلب کا کیا کیجے اب مسیحا مشیر رکھیں گے…
Read Moreڈاکٹر عزیز فیصل ۔۔۔ بھنور سے کہہ دو کہ دریا مرا محافظ ہے
بھنور سے کہہ دو کہ دریا مرا محافظ ہے میں ریگ زاد ہوں، صحرا مرا محافظ ہے اسے عدو کے عزائم میں کیا بتاؤں بھلا اسے خبر ہے وہ کتنا مرا محافظ ہے گزند کیسے اٹھاوں میں اس کے ہاتھوں سے یہ عشق سارے کا سارا مرا محافظ ہے جو دوسروں سے میں عزت سے پیش آتا ہوں یہ رنگ ڈھنگ، یہ جذبہ مرا محافظ ہے ہوں جس سے حالتِ جنگ وجدال میں فیصل حقیقتاً وہی خفیہ مرا محافظ ہے
Read Moreعقیل عباس ۔۔۔ سانپ نے غار میں رہائش کی
سانپ نے غار میں رہائش کی اور دیدار کی گزارش کی سبزگی نے غلاف کاڑھ لیا اور نعلین کی ستائش کی پیش رو بارگاہ میں پہنچے یعنی بارِ دگر سفارش کی کوئی کاریز احمدِ مرسل زیرِ پائے مراد بخشش کی عالمِِ سکر میں بھی ہونٹوں نے مدحتِ مصطفی میں جنبش کی
Read Moreراحت سرحدی ۔۔۔ کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں
کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں مجھے تو لگتا ہے یہ آسماں ہمارا نہیں مرے خیا ل میں وہ وقت رائگاں گزرا تمھارے حسن کے سائے میں جو گزارا نہیں اگرچہ ہوتی ہے ہر شے کی انتہا کوئی سرابِ عشق کا لیکن کہیں کنارہ نہیں جو وقت پڑنے پہ ڈھے جائے آپ سے پہلے وہ ایک بوجھ تو ہو سکتا ہے سہارا نہیں کسی کے تل کا بدل جا کے کہنا حافظ سے ہے کائنات ثمر قند اور بخارا نہیں یہ آئنہ ابھی پوری طرح نہیں ٹوٹا تجھے…
Read Moreنعمان فلک ۔۔۔ ویسے مالک سے یہ شکوہ تو نہیں بنتا ہے
ویسے مالک سے یہ شکوہ تو نہیں بنتا ہے نوجواں بیٹے کا مرنا تو نہیں بنتا ہے رب نے بتلایا کہ میں ہوں مرے موسیٰ ورنہ اس طرح پانی میں رستہ تو نہیں بنتا ہے روز کچھ خواب مری آنکھ میں مر جاتے ہیں تم یہ کیوں کہتے ہو؟ کتبہ تو نہیں بنتا ہے گر بناؤں تو اْمڈ آتی ہیں آنکھیں میری کینوس پر ترا چہرہ تو نہیں بنتا ہے دل بھی پاگل ہے، کہیں پر بھی مچل جاتا ہے ورنہ کچھ لوگوں پہ مرنا تو نہیں بنتا ہے
Read Moreراجہ عبدالقیوم ۔۔۔ جب مچل اٹھتے ہیں جذبات تو میں لکھتا ہوں
جب مچل اٹھتے ہیں جذبات تو میں لکھتا ہوں تپنے لگتے ہیں خیالات تو میں لکھتا ہوں حبس و گرمی سے سلگتے ہوں شب و روز کہ پھر ٹوٹ کر برسے جو برسات تو میں لکھتا ہوں دور ماضی کے کسی بند دریچے سے کبھی جھانکنے لگتے ہیں لمحات تومیں لکھتا ہوں ضبط کی حد میںاگر ہوں تو انہیں سوچتا ہوں حد سے بڑھ جاتے ہیں صدمات تو میں لکھتا ہوں بات جو کہہ نہیں پاتا ہوں کسی سے برسوں دل میںچبھتی ہے وہی بات تو میں لکھتاہوں بات کہنی…
Read Moreمنظور ثاقب ۔۔۔ گفتگو لاجواب بیچیں گے
گفتگو لاجواب بیچیں گے پانی کہہ کر سراب بیچیں گے یاد رکھنا سدا کے یہ بھوکے اپنا گھوڑا رکاب بیچیں گے دیکھ لینا یہ ڈالروں کے عوض بارشوں کا عذاب بیچیں گے یہ جوعالی جناب کہتے ہیں کل یہ عالی جناب بیچیں گے غم کی قیمت تو ہونے دو معلوم لوگ خوشیاں شتاب بیچیں گے حرف و دانش کے ہم امیں ثاقب خوب دیکھیں گے خواب بیچیں گے
Read More