بُجھے ہوئے تھے کئی دل، چراغ جَل رہے تھے ہم اپنے چہرے نہیں آئینے بدل رہے تھے کوئی وہاں سے مکاں چھوڑ کر چلا گیا تھا ہم اُس گلی میں بہت دور تک نکل گئے تھے زمیں ، زمانہ ،زیاں کی زبان بولتا تھا یقیں کی ڈور میں اُلجھے گُماں پھسل رہے تھے ہوائیں مِل کے اندھیرے سے بین کررہی تھیں چراغ اپنی لَویں تھام کر سنبھل رہے تھے کسی کا حُسن بہت پاس سے بُلا رہے تھا کسی کے دِل کو کئی مسئلے مسَل رہے تھے کوئی کنویں سے…
Read MoreCategory: آج کی غزل
علی تاصف ۔۔۔ دو غزلیں
اس بار ہاتھ تھام کے موقع پرست کا دیکھا ہے خواب رینگنے والے نے جست کا نزدیک آ چکی ہے وہ آواز دور کی اب وقت ہی کہاں ہے کسی بندوبست کا بہتر یہی کہ خود سے کیے جاؤں میں ادھار احسان کیوں اٹھاؤں کسی چیرہ دست کا آتا ہوں اس طرف بھی تماشہ تو دیکھ لوں وعدہ ہر ایک یاد ہے یومِ الست کا اس بار آئنہ ہے مقابل سو خود کو میں عادی بنا رہا ہوں ابھی سے شکست کا سچ جس کو ناگوار ہو اٹھ جائے شوق…
Read Moreصغیر احمد صغیر ۔۔۔ اتنا خراب ہو کے بھی اچھا نہیں لگا
صغیر احمد صغیر کی یہ غزل کرب کی شدت اور حسنِ بیان کی لطافت کو یوں ہم آغوش کرتی ہے کہ قاری کے دل و دماغ پر ایک دیرپا اور گہرا تاثر ثبت ہو جاتا ہے۔
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے
بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے گھروں کا نور زندہ ہو گیا ہے تمھیں جانا تھا حسنِ گفتگو سے تمھارا بول بالا ہو گیا ہے پڑھے ہیں ہم نے دل سے میر و غالب ہمارا شوق پورا ہو گیا ہے نہیں لکھنا ہیں اب تعویذ اس کو ہمارا پیر اندھا ہو گیا ہے پرانے جاننے والے کہاں ہیں ہمارے بیچ جھگڑا ہو گیا ہے بہت اچھا ہوا ہے آج ثاقب کسی کا عشق رسوا ہو گیا ہے
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے
(نذرِ غالب) گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے اس طور خود کو بے سر و ساماں کیے ہوئے بے زور ہیں، پہ رہتے ہیں، ہر آن خود سے ہم صد حیلہ ہائے دست و گریباں کیے ہوئے کیا اصلِ مدعا ہے کوئی جانتا نہیں یہ ہم جو لغزشوں کو ہیں عریاں کیے ہوئے فرصت جو دے یہ دنیا ، تو آئیں اِدھر کو بھی مدت ہوئی ہے ، آپ سے پیماں کیے ہوئے نشتر سے کم نہیں ہے ، جو نکلے ہے منہ سے بات رکھتے ہو، حرف…
Read Moreاسد رضا سحر ۔۔۔ تو اگر ہم نشین ہو جائے
تو اگر ہم نشین ہو جائے زندگی پر یقین ہو جائے آسماں بعد کی کہانی ہے پہلے میری زمین ہو جائے آنکھ پر بھی کریگا پی ایچ ڈی آشنائے جبین ہو جائے پھونک پڑھ پڑھ کے سورۂ یوسف تاکہ بیٹا حسین ہو جائے اسکو مسند پہ بھی بٹھائیں گے قابلِ آستین ہو جائے
Read Moreسرور فرحان ۔۔۔ یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا
یہ الگ بات کہ ہر پل مجھے ٹالا ہو گا پھر بھی ہر شعر ترے ہجر کا نالہ ہو گا آج بھی بھوکے ہی مزدُور کے بچے سوئے کل پہ اُجرت کو کسی شخص نے ٹالا ہو گا تجھ کو کیا علم بچھڑتے ہو ئے تجھ سے میں نے کیسے کیسے دلِ مُضطر کو سنبھالا ہو گا کر کے رُسوا مجھے صحرا میں جو لے آئی ہے زندگی یہ بھی ترے بُغض کا چالا ہو گا ظلم دیکھیں گے مگر بول نہیں پائیں گے یوں سبھی لوگوں کے ہونٹوں پہ…
Read Moreمستحسن جامی ۔۔۔ تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے
تم نے دیکھا ہے جسے وہ مری پرچھائی ہے اس سے بڑھ کر کوئی وحدت ہے نہ سچائی ہے اس لیے خال زمانے سے جدا ہیں میرے ان کو کیا علم کہ مٹی مری صحرائی ہے پہلے سرسبز بہاروں کے یہاں پھیرے تھے اب وہی حجرہ ہے اور چاروں طرف کائی ہے ایک مصرعے نے بدل ڈالی ہے رنگت اْس کی وہ جو کہتا تھا غزل قافیہ پیمائی ہے کوچۂ قلب میں آ جاؤ کسی روز اگر کوئی گہرائی ہے اس سمت، نہ اونچائی ہے پوچھتے کیا ہو مری عمرِ…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ دوستو وقت ہے پھر زخم جگر تازہ کریں
یہ غزل ایک نویدِ تجدیدِ وفا ہے، جہاں شاعر اہلِ درد کو پکار کر دلوں کے زخموں کو تازگی، اور نگاہوں کو نئی روشنی کی دعوت دیتا ہے۔
ہر شعر میں فکری تموّج، تہذیبی سرفرازی، اور روحانی احیاء کی لہریں محسوس ہوتی ہیں، گویا غروب و طلوع کے پیمانے پر دل و نظر کی تطہیر ہو رہی ہو۔
"کلۂ فقر” اور "تاج و کمر” جیسے استعارے شجاعت، انا، اور فقرِ قلندرانہ کے حسین امتزاج کی علامت ہیں۔
شاعر ماضی کے جمالیاتی شعور کو شغلِ پارینہ کہہ کر ایک نئی سخن خیزی کا پیغام دیتا ہے، جس میں عشق، فن، اور دانش کی رونق پھر سے تازہ کی جائے۔
آخری شعر میں جوش اپنے لیے "شاہِ سخن” کا خلعتِ افتخار طلب نہیں کرتا، بلکہ اسے دل و دینِ سخن کا تازہ خون عطا کرنے کی تمنا کرتا ہے۔
ظہور چوہان ۔۔۔ مثالِ ابر کڑی دھوپ میں بھی سایہ کرے
ظہور چوہان کی یہ غزل جدائی، تنہائی، اور داخلی کشمکش کی گہری کیفیات کو شاعرانہ پیرائے میں بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی غیر موجودگی میں بھی اس کے سائے کی خواہش رکھتا ہے، اور فراق کی اس کیفیت کو "بامِ ہجر” جیسے علامتی استعارے سے مجسم کرتا ہے۔ وہ محبوب سے دوری میں بکھر جانے کے احساس سے دوچار ہے اور اس کی موجودگی کو بھی ناقابلِ برداشت پاتا ہے۔
غزل کا ہر شعر خواب و حقیقت، روشنی و تاریکی، اور قرب و فاصلہ جیسے متضاد کیفیات کو ہم آہنگ کرتا ہے۔ آخری شعر میں "فلک پہ صبح کو سورج ظہور ہونے تک” جیسا شعری اظہار شاعر کے وجودی کرب اور شب گزیدہ تمناؤں کی علامت ہے۔
یہ غزل ظہور چوہان کی فکری گہرائی، شعری نرمی، اور جذباتی شدت کی بہترین مثال ہے۔
Read More