سرفراز عارض ۔۔۔ المدد پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا

المدد پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا سر زمیں پہ مارتے سانپ کی طرح میں تھا تیغِ عشق نے کیا تن مِرا دو نیم جب الاماں پُکارتے سانپ کی طرح میں تھا عشق جب تھا کر رہا دوسر ا میں آپ سے کینچلی اُتار تے سانپ کی طرح میں تھا جب ہجومِ اشقیا پِل پڑا تھا مجھ پہ آہ ظُلم کو سہارتے سانپ کی طرح میں تھا عارضِ جمال پر جب تلک تھا پہرہ دار زُلف کو سنوارتے سانپ کی طرح میں تھا

Read More

محمد اشرف کمال ۔۔۔ جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے

جو ستارے کبھی آنکھوں سے اٹھائے گئے تھے لہو روتے ہوئے مٹی میں بجھائے گئے تھے آنکھ میں ٹوٹے ہوئے کانچ کے ٹکڑوں سے ہیں ہائے وہ لوگ جو خوابوں میں بسائے گئے تھے اپنی تکمیل کو پہنچے ہی نہیں ہیں اب تک جانے ہم کونسی مٹی سے بنائے گئے تھے اس قدر خوف تھا باتوں کا ہماری کہ نہ پوچھ ہم زباں کاٹ کے دربار میںلائے گئے تھے اس زمیں پر جو ہمیں بھیجا گیا تھا تو ہم آسمانوں کی زمینوں سے اٹھائے گئے تھے رستہ ہموارانھوں نے ہی…

Read More

دلشاد احمد ۔۔۔ ہجر

ہجر ۔۔۔ ہجرتوں کے موسم میں چاہتوں کی اَن بَن میں یاد کے دریچوں سے اک ترے تصور کا واہمہ سا ہوتا ہے اور اِسی تصور میں خواب ٹُوت جاتا ہے خواب کے بکھرنے سے خوش گمان لمحوں کا مان ٹُوٹ جاتا ہے اس بھرم کے رکھنے کو زندگی کی پلکوں پر آنسوؤںکی برکھا جب گیت گنگنائے تو صبح ہو ہی جاتی ہے رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!

Read More

کوکی گل ۔۔۔ کڑی سی دھوپ میں تو، دل مرا گھبرا گیا ہے

کڑی سی دھوپ میں تو، دل مرا گھبرا گیا ہے مرے آنچل کا سایا میرے من کو بھا گیا ہے ترے لہجے کے خنجر نے، مرا دل چیر ڈالا یہی اک روگ ہائے! میرے دل کو کھا گیا ہے نجانے کیا تھا اس کے دل میں جو بولا نہیں پر وہ باتیں کرتے کرتے ایک دم شرما گیا ہے سلامی دے رہے ہیں پھول پودے آج گل کو کوئی نقشہ بہاروں کا، انہیں دکھلا گیا ہے

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے

کمال کیسے، ہنر کیا سے کیا دکھاتی ہے غزل دماغ کو بھی دل بنا دکھاتی ہے لہو میں جاگ اٹھے جب چراغِ عشق کی لَو شبوں میں آپ ہوا راستہ دکھاتی ہے زمانوں بعد جو ہونا ہو، کوئی موجِ خیال سب اُس کے عکس نگاہوں میں لا دکھاتی ہے کسی نے میری بصارت پہ کیا فسوں پھونکا کہ آئنے میں کوئی دوسرا دکھاتی ہے میں ایسی دانشِ مجہول کا نہیں قائل جو عشق و جنگ میں سب کچھ رَوا دکھاتی ہے نگاہ جب بھی اٹھاتا ہوں آسماں کی طرف کوئی…

Read More

احمد جلیل ۔۔۔ چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں

چاند ، سورج ، ستارے دیکھتے ہیں آ کے تم کو وہ سارے دیکھتے ہیں دیکھتے ہیں وہ تم کو بت بن کر جو بھی جلوے تمہارے دیکھتے ہیں تم بھی پڑھ لو نوشتۂ دیوار ہم تو کب سے اشارے دیکھتے ہیں ہر طرف لاشے ، سوختہ خیمے جا بجا غم کے مارے دیکھتے ہیں ہر طرف حسن ہے جلیل اُس کا ہر سو اس کے نظارے دیکھتے ہیں اب بھی قدموں پہ ہم کھڑے ہیں جلیل ہم کو دشمن ہمارے دیکھتے ہیں

Read More

عبدالرئوف زین ۔۔۔ دو غزلیں

کیا خاک خود کو اڑانے کی خاطر وہی روگ دل کے مٹانے کی خاطر رہی ہے مچل کب سے وحشت یوں دل کی نیا شور اندر مچانے کی خاطر مری مسکراہٹ کا کیا پوچھتے ہو یہ ہے زخمِ دل کو چھپانے کی خاطر پلا اپنی آنکھوں سے الفت کی صہبا نہیں آیا پیاسا میں جانے کی خاطر گرا ہوں کبھی کھا کے ٹھوکر اگر تو نہیں آیا کوئی اٹھانے کی خاطر ۔۔۔۔۔۔ حبس موسم میں مرنے لگا ہوں میاں رات گہری سے ڈرنے لگا ہوں میاں زندگی ایسے کیسے کٹے…

Read More

نادیہ سحر ۔۔۔ کاغذی کشتیاں بنانے میں

کاغذی کشتیاں بنانے میں کٹ گئی عمر جی لگانے میں اب نہ دل ہے نہ درد باقی ہےتُو ملا بھی تو کس زمانے میں اک بھرم تھا سو وہ بھی ٹوٹ گیا کیا ملا تجھ کو آزمانے میں کچھ تو کردار آپ کا بھی ہے درمیاں فاصلے بڑھانے میں سارے موسم گزر گئے مجھ میںدیر کر دی نا مجھ تک آنے میں صاف دھڑکن سنائی دیتی ہے جیسے دل ہے مرے سرہانے میں نیند یا خواب کے جھروکوں میں میں کہاں ہوں ترے فسانے میں رایگاں کر دی ہم نے…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں

جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں ہم کیوں اپنے ہونے پر شرمانے لگے ہیں نیل کا فرعونوں سے ہُوا جب سے سمجھوتہ جتنے حقائق تھے سارے افسانے لگے ہیں غاصب اُس کے ہاتھوں میں بارود تھما کر لَا وارث بچے کو لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہلانے لگے ہیں دھونس جما کر ہاں ۔ ۔ ۔ ریوڑ سے دُور بھگا کر بھیڑ یے بھیڑ پہ اپنی دھاک بٹھانے لگے ہیں وہ جب چاہیں میں اُن کا لقمہ بن جاؤں جابر مجھ سے عہد نیا…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں

سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں ڈوب کیوں جاتے ہیں منظر رات میں کس نے لہرائی ہیں زلفیں دور تک کون پھرتا ہے کھلے سر رات میں چاندنی پی کر بہک جاتی ہے رات چاند بن جاتا ہے ساغر رات میں چوم لیتے ہیں کناروں کی حدیں جھوم اٹھتے ہیں سمندر رات میں کھڑکیوں سے جھانکتی ہے روشنی بتیاں جلتی ہیں گھر گھر رات میں رات کا ہم پر بڑا احسان ہے رو لیا کرتے ہیں کھل کر رات میں دل کا پہلو میں گماں ہوتا نہیں آنکھ بن جاتی…

Read More