آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب آرزو میرے دل کی بر آئے سب کا پورا کرے خدا مطلب کر نہ مجھ کو سبک رقیبوں میں یوں ہنسی میں نہ تو اڑا مطلب رک گئی بات تا زباں آ کر دل کا دل ہی میں رہ گیا مطلب ضد ہی ضد شیخ و برہمن کی تھی ورنہ دونوں کا ایک تھا مطلب میری اک بات میں ہیں سو پہلو اور سب کا جدا جدا مطلب غیر کی اور اس قدر تعریف ہم سمجھتے…
Read MoreCategory: آج کی غزل
شوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں
کبھی زندگی کی خواہش ، کبھی آرزو اجل کی کبھی راس دشتِ ویراں ، کبھی جستجو محل کی مرے سامنے سے گزرا ، نہ کیا سلام جس نے مرے ہاتھ چومتا تھا ، ابھی بات ہے یہ کل کی وہی کامیاب ٹھہرا ہے جہانِ تاز و تگ میں جو کرے صمیمِ دل سے ، سدا پیروی عمل کی یہ عجیب سانحہ ہے ، وہ مجھے بھلا چکا ہے کبھی رکھتا تھا خبر تک ، جو مرے ہر ایک پل کی نہ ثبات ہے کسی کو ، نہ دوام ہے کسی…
Read Moreعباس ممتاز ۔۔۔ دو غزلیں
اب جو پیروں پہ ہم کھڑے ہوئے ہیں ایک دنیا سے ہم لڑے ہوئے ہیں دیکھ ہم کو کہانیاں نہ سنا ہم اسی شہر میں بڑے ہوئے ہیں خود کو برباد کر لیا ہم نے اپنی ضد پر مگر اڑے ہوئے ہیں کوئی تو ہم کو تھامنے آئے کوئی دیکھے کہ ہم کھڑے ہوئے ہیں ایک سادہ سی بات تھی، لیکن کتنی مشکل میں ہم پڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ جدائی کے ستم ڈھانے سے پہلے پلٹ آؤ بکھر جانے سے پہلے خوشی تھی، رنگ تھے، رعنائیاں تھیں تمہارے شہر میں…
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں
زین گھوڑوں پہ ہے اور زرہیں اتاری نہیں ہیں ہاتھ تلوار پہ ہیں ہمتیں ہاری نہیں ہیں ہم کہ حالات کے چکر میں ہیں آئے ہوئے لوگ پیشہ ور مانگنے والے تو بھکاری نہیں ہیں ہم پہ یوں مرضی مسلط نہیں کی جا سکتی ہم ترے کھیت مزارع نہیں، ہاری نہیں ہیں آگے جنگل ہے جہاں شیر ہیں چیتے ہیں میاں لوٹ جائیں وہ یہیں سے جو شکاری نہیں ہیں حکم ربی ہے تو کر دیتے ہیں رخصت ورنہ کون سی بیٹیاں کس باپ کو پیاری نہیں ہیں تیری ہر…
Read Moreسیّد ریاض حسین زیدی ۔۔۔ قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو
قلب و جاں پر کوئی زوال نہ ہو اے خدا گھر یہ پائمال نہ ہو زندہ رہنا ہے دوریوں میں بھی مر نہ جائیں اگر وصال نہ ہو ہے یہ اچھا کہ خود پہ کھل جائیں غمِ دنیا کا احتمال نہ ہو ہے تمنا خود آگہی سے جئیں سر نگوں ہو کے کچھ سوال نہ ہو عہدِ ماضی کہ حال مستقبل بے اماں کوئی ماہ و سال نہ ہو چشمِ حیراں ہو چار سو نگراں زخم وہ جس کا اندمال نہ ہو آن قائم رہے بہر صورت جان جائے تو…
Read Moreنبیل احمد نبیل ۔۔۔ دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے
دُھندلے دُھندلے سے ہیں کیوں شمس و قمر کون کہے کس نے پامال کیا حُسنِ سحر کون کہے کون سمجھے گا یہاں دل کے دھڑکنے کی صدا اُن سے احوالِ جگر ، دیدئہ تر کون کہے کون ایسا ہے جو دریا کی تہوں میں اُترے سیپ سے کس نے نکالے ہیں گہر کون کہے کس نے رکھے ہیں در و بام ، دریچے اُلٹے کس نے عجلت میں بنایا ہے یہ گھر کون کہے دیکھ سکتا ہے یہاں کون کسی کی جانب کون اس شہر میں ہے اہلِ نظر کون…
Read Moreسجاد حسین ساجد ۔۔۔ کچھ اس لیے نہ بن سکے پہچان راستے
کچھ اس لیے نہ بن سکے پہچان راستے ہم نے چنے تھے پیار کے انجان راستے منصف کو ذاتیات سے فرصت نہ مل سکی اہلِ جفا نے کر دیے ویران راستے بچھڑے تو پھر نہ مل سکے ایسے جدا ہوئے میں اور میرے شہر کے سنسان راستے رخصت کیا تو باپ نے بیٹے کو دی دعا مالک کرے سبھی ترے آسان راستے اذنِ سفر ملا تو منازل کی ٹھان لی پھر راستوں نے ہم کو کیے دان راستے اب تک ہیں مجھ کو یاد وہ گیسو، وہ سرخ لب وہ…
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا
تو میرے باب میں کچھ اختصار کر کے دکھا شمار کی مجھے دُھن ہے، شمار کر کے دکھا میں عشق ٹھیک،بہت ٹھیک کرنا چاہتا ہوں سو میرا عشق مجھے ایک بار کر کے دکھا نہ جانے کب تجھے تنہا یہ کام کرنا پڑے تو میرے ساتھ مرا انتظار کر کے دکھا بنا تو پھرتا ہے پیراک اپنے آپ میں تُو ذرا خرابۂ دُنیا بھی پار کر کے دکھا تُو جلتا بجھتا ہوا ہی نظر میں ٹکتا ہے یہ روشنی ہی مجھے بار بار کر کے دکھا پتا چلے کہ میں…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر خوباں کیوں نہ ہو
فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکرِ خوباں کیوں نہ ہو خاک ہونا ہے تو خاکِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو دہر میں اے خواجہ ٹھہری جب اسیری ناگزیر دل اسیرِ حلقۂ گیسوئے پیچاں کیوں نہ ہو زیست ہے جب مستقل آوارہ گردی ہی کا نام عقل والو پھر طوافِ کوئے جاناں کیوں نہ ہو جب نہیں مستوریوں میں بھی گناہوں سے نجات دل کھلے بندوں غریقِ بحرِ عصیاں کیوں نہ ہو جب خوش و ناخوش کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ہاتھ ہم نشیں پھر بیعتِ جامِ زر افشاں…
Read Moreحماد ریاض ۔۔۔ کنایہ ہو کے رہنا ہے، اشارہ ہو کے رہنا ہے
کنایہ ہو کے رہنا ہے، اشارہ ہو کے رہنا ہے مجھے تاریک راتوں میں ستارہ ہو کے رہنا ہے تمھارے شہر کی گلیوں میں جلنا اور بجھنا ہے مجھے جگنو کی صورت اک شرارہ ہو کے رہنا ہے زمانے میں بنوں گا میں محبت کی مثال ایسی تمھیں اپنا بنانا ہے، تمھارا ہو کے رہنا ہے یہی نسبت مجھے کافی، یہی دولت مجھے کافی تُْو راوی ہے مجھے تیرا کنارا ہو کے رہنا ہے یقیں ہوتا چلا جاتا ہے مجھ کو دم بدم حمّاد کہ اک دن حسنِ زیبا کا…
Read More