جس جگہ آب نہیں ہوتا شجر ہوتے نہیں سوکھے دریا کے کناروں پہ نگر ہوتے نہیں کیسے نکلوں گا میں ان حبس بھری گلیوں سے شہرِ ہجراں کی فصیلوں میں تو در ہوتے نہیں تیرے جانے پہ حقیقت یہ کھلی ہے مجھ پر اپنے دِکھتے ہیں یہاں لوگ، مگر ہوتے نہیں یہ نہیں ہے کہ اکیلا ہی نکل جاتا ہوں شام کے وقت مرے دوست بھی گھر ہوتے نہیں زندگی کو جو سہاروں کے بِنا جیتے ہیں ان کی آنکھوں میں کبھی موت کے ڈر ہوتے نہیں اپنی دستار گرا…
Read MoreCategory: آج کی غزل
آفتاب خان ۔۔۔ دو غزلیں
نہ آدمی پہ خدا کی زمین تنگ کرو اگر ہو جنگ ضروری ، ضرور جنگ کرو جمی ہوئی ہے سیاہی طویل مُدّت سے کبھی تو دِل کے مکاں پر سفید رنگ کرو حیات جس نے گزاری ہے بندگی میں سدا نہ ہمکنار اُسے دستِ تیغ و سنگ کرو ہے جس پہ عُمر بِتانی ، چُنو وہی بستر جو نیند بخشے ، وہی منتخب پلنگ کرو عقیدتوں کی بَلندی پہ لوگ رشک کریں دھمال ناز کرے ، خود کو یوں ملنگ کرو جو لوگ بابِ تحیّرکی سمت جا نہ سکے اُنھیں…
Read Moreعابد معروف مغل ۔۔۔ دو غزلیں
اب حسیں سامنے سے گزرتا نہیں پھر بھی دل کیوں سنبھالے سنبھلتا نہیں خوف چھایا ہے ایسا مرے شہر میں اب گھروں سے کوئی بھی نکلتا نہیں ساتھ چھوٹا ہے جب اس حسیں شخص کا خواب آتے نہیں دل بہلتا نہیں میں نے بچپن سے ہے جو سنبھالا ہوا کھوٹا سکہ کہیں اب وہ چلتا نہیں سہمے سہمے سبھی لوگ ہیں شہر کے اب خوشی سے کوئی بھی اچھلتا نہیں یہ بڑھاپے کی ہے اک علامت کہ اب دل حسیں دیکھ کر بھی مچلتا نہیں ۔۔۔ مقتل سے دیکھنا وہی…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ
ہمیں پہ شہر میں اُٹھا ہے سنگ آوازہ ہمیں نے رُخ پہ ملا خونِ گرم کا غازہ اُداسیوں کی کڑی دُھوپ مجھ پہ رحم نہ کھا گئے دنوں کی وفا کا یہی ہے خمیازہ ہے تار تار کچھ اتنا لباسِ حال مرا شعورِ ذات بھی کسنے لگا ہے آوازہ مجھے بھی دے گا کوئی شہر میں کبھی ترتیب ہے کوئی آنکھ کہ بکھرا ہوا ہے شیرازہ یہ اور بات کئی حسن دلفریب ملے کھلا نہ ہم پہ کسی کی ادا کا دروازہ ہر ایک دُکھ کو بڑے صبر سے سہا…
Read Moreاصغر علی بلوچ ۔۔۔ خواب گر لوگ خواب ہونے لگے
خواب گر لوگ خواب ہونے لگے اب تو موسم عذاب ہونے لگے اس کی آنکھیں تو اس کی آنکھیں ہیں اب تو پانی شراب ہونے لگے رقص کرنے لگیں جواں سوچیں اور جذبے رباب ہونے لگے حاشیے میں جو بار پاتے تھے آج وہ انتساب ہونے لگے ریگ زاروں پہ کیا عروج آیا سب کے سب آفتاب ہونے لگے راز دنیا پہ کھل گیا اصغر وہ مرا انتخاب ہونے لگے
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔۔ تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے
تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے ظلمت کی شب سے برسرِ پیکار ہم ہی تھے گو اِبتدا میں نام گوارا نہ تھا انہیں پھر یوں ہوا کہ محورِ گفتار ہم ہی تھے جیسے کوئی چراغ ہوائوں کی زد پہ ہو ایسے دیے کے ساتھ ہراِک بار ہم ہی تھے اِس پار بھی گھڑے کی کہانی وفا کی تھی اُس پار بھی وفاؤں کا معیار ہم ہی تھے جرمِ وفا کے واسطے مشقِ ستم ہوئی جرمِ وفا کے آخری اوتار ہم ہی تھے ہم پر تھے حق نوائی کے…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز
نقشِ خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز وہ سر جو تیری راہ گزر میں تھا سجدہ ریز میں نے کسی قدم پہ جھکایا نہیں ہنوز محرابِ جاں میں تو نے جلایا تھا خود جسے سینے کا وہ چراغ بجھایا نہیں ہنوز بے ہوش ہو کے جلد تجھے ہوش آ گیا میں بد نصیب ہوش میں آیا نہیں ہنوز مر کر بھی آئے گی یہ صدا قبرِ جوش سے بے درد میں نے تجھ کو بھلایا نہیں ہنوز
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا
کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا وہ اور بات تھی جس سے مجھے قرار نہ تھا شبِ وصال وہ کس ناز سے یہ کہتے ہیں ہمارے ہجر میں سچ مچ تجھے قرار نہ تھا بگھارتا ہے جو اب شیخ زہد کی باتیں تو کیا یہ عہدِ جوانی میں بادہ خوار نہ تھا فقط تھی ایک خموشی مرے سخن کا جواب نہیں نہیں تجھے کہنا ہزار بار نہ تھا یہ مجھ کو دیکھتے ہی تو نے کیوں چرائی آنکھ نگاہِ لطف کا کیا میں امیدوار نہ تھا…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہے
نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہے دشت کہتے ہیں کسے‘ کون ہوں میں‘ تو کیا ہے روح گھائل ہے بھلا کیسے بدن کو سمجھائے اس کڑی دھوپ میں تسکین کا پہلو کیا ہے تجھ سے اک پل بھی جدا ہوں تو تڑپ اُٹھتا ہوں اے مرے پیار کی آسودہ خلش! تو کیا ہے کونپلیں شاخ پہ پھوٹیں بھی تو جل جاتی ہیں پیڑ حیراں ہیں‘ نمو چیز ہے کیا‘ لُو کیا ہے تو فرشتہ ہے نہ جب قادرِ لغزش احمدؔ یہ اَنا کیا ہے تری اور یہ تری…
Read Moreمیتھیو محسن ۔۔۔ ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں
ہم اگر یونہی جدا ہو جائیں قید الفت سے رہا ہو جائیں ہم اندھیروں سے الجھ کر شاید صبحِ ارماں کی ضیا ہو جائیں وہ جنھیں اِذنِ پرستش نہ ملا ان کے ہونٹوں کی دعا ہو جائیں بڑھتی جاتی ہے عقیدت اُن سے یوں نہ ہو وہ بھی خدا ہو جائیں ہم ستم جھیلنے والے محسن اب زمانے کی صدا ہو جائیں
Read More