کسی مطرب نہ مسیحا نہ ادا کار کے ساتھ شام دیتی ہے مزہ یارِ طرح دار کے ساتھ شوق سے سر پہ پہن اس کو مگر یاد رہے لوگ لٹکا بھی دیا کرتے ہیں دستار کے ساتھ مجھ کو حیرت سے نہ دیکھو کہ میں تصویر نہیں غم لگا دیتا ہے انسان کو دیوار کے ساتھ جان بھی اس میں چلی جائے تو افسوس نہیں کوئی سمجھوتا نہ ہو گا کبھی معیار کے ساتھ یوں مرے گرد اٹھائی ہیں فصیلیں اس نے دائرہ کھینچا ہو جیسے کسی پرکار کے ساتھ…
Read MoreCategory: آج کی غزل
نوید صادق ۔۔۔ کچھ خاص خواہشات سے صرفِ نظر کیا
کچھ خاص خواہشات سے صرفِ نظر کیا خود سے گریز بنتا نہیں تھا، مگر کیا خود داریوں کی اوٹ میں کیا جانے کس طرح ہم نے بھی ایک ساتھ بہت دن سفر کیا سورج نے یہ جو ہم سے رعایت کبھی نہ کی صحرا نے کون روز یہاں درگذر کیا کیا کہیے کون لوگ تھے منظر کی اوٹ میں دیوانہ وار ہم نے سفر در سفر کیا آہٹ سی کوئی دھیان میں گونجی تھی ایک روز دل نے کسی گماں میں ہمیں در بہ در کیا اہلِ زمانہ اور طرف…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی
یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی نغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی ہونکی ہیں بادِ صبح کی رو میں بھی آندھیاں ابلا ہے ساحلوں سے بھی طوفاں کبھی کبھی بڑھتا چلا گیا ہوں انہی کی طرف کچھ اور یوں بھی ہوا ہوں ان سے گریزاں کبھی کبھی آنچوں میں گنگناتے ہیں گلزار گاہ گاہ شعلوں سے پٹ گیا ہے گلستاں کبھی کبھی لے سے نکل پڑی ہے کبھی ہچکیوں کی فوج آہیں بنی ہیں راگ کا عنواں کبھی کبھی دامانِ گل رخاں کی اڑا دی ہیں…
Read Moreطاہر ناصر علی ۔۔۔ دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے
دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے چھوڑ کر ہم بھی اپنا گھر آئے ایسا لگتا تھا کر رہے ہوں وداع راہ میں جو گھنے شجر آئے یاد کرتے ہوئے اُسے آخر اُس کے کوچے سے ہم گزر آئے جس کو دیکھو وجود میں اپنے تنہا تنہا یہاں نظر آئے شیشۂ اعتبار کیا ٹُوٹا دل کی مسند سے ہم اُتر آئے جس سے آئیں نئی نئی چیزیں تھے پرانے جو گھر نکھر آئے آسماں اشکبار ہوتا ہے دل کی آہوں میں جب اثر آئے ہو گئے دُور ایک لمحے میں ساتھ…
Read Moreشبہ طراز ۔۔۔ ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے
ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہیں کوئی کمی رہتی ہے وقت بھی راکھ ہوا ، خاک ہوئی اس کی لگن کوئی چنگاری مگر دِل میں دبی رہتی ہے تیرے آ جانے کی ساعت نہ کہیں کھو بیٹھوں سوتے سوتے بھی مری آنکھ کھُلی رہتی ہے آئنہ خانے میں اب میَں نہیں تُو بستا ہے تیرے ہونے سے مرے گھر میں خوشی رہتی ہے راستے اب بھی ترے واسطے بچھ رہتے ہیں اور منڈیروں پہ تری یاد جلی رہتی ہے آتا ہے جب بھی…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی
ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی جی کا ملال ، روح کی راحت نہیں ملی صد شکر غم نے رکھ لی مری زندگی کی لاج خوش ہو کے جی لوں ایسی سہولت نہیں ملی میری بھی آرزو تھی کہ دل کھول کے ہنسوں لیکن ترے غموں سے اجازت نہیں ملی رخسارِ یار پر نہیں تمثیلِ گل روا پھولوں کو اس قدر تو صباحت نہیں ملی برسوں کے بعد دیکھا جو سوئے دیارِ دل کوئی وہاں پرانی عمارت نہیں ملی ہر رات مجھ کو لوٹ کے آنا پڑا ہے…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک
للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک پیر ہے جسم مگر طبع جواں ہے اب تک برف باری ہے مہ و سال کی سر پر لیکن خون میں گرمئ پہلوئے بتاں ہے اب تک سر پہ ہر چند مہ و سال کا غلطاں ہے غبار فکر میں تاب و تبِ کاہکشاں ہے اب تک کب سے نبضوں میں وہ جھنکار نہیں ہے پھر بھی شعر میں زمزۂ آبِ رواں ہے اب تک للہ الحمد کہ دربارِ خرابات کی خاک سرمۂ دیدۂ صاحب نظراں ہے اب تک زندگی کب…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔۔ مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے
مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے سفر کا موسم ترے اشارے کا منتظر ہے اسی لیے ہم زباں پہ لائے ہیں ذکر تیرا بیان کا حسن استعارے کا منتظر ہے روا نہیں مصلحت پسندی تری طلب میں خلوص اپنے لیے خسارے کا منتظر ہے تری نظر کی تپش سے شعلے بھڑک نہ جائیں بدن کا ایندھن کسی شرارے کا منتظر ہے تلاش کرتے ہیں خواب تعبیر اپنی اپنی صدف گہر کا، سفینہ دھارے کا منتظر ہے تجھے تو گلزار پار کرنا تھا دوسروں کو مگر تو اپنے لیے کنارے…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے
نہ چھیڑ شاعر ربابِ رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگارِ فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمانِ پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیرِ فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیبِ نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریمِ…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی
سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی فرازِ کوہ پہ ماہِ تمام ہے ساقی چنے ہوئے ہیں پیالے جھکی ہوئی بوتل نیا قعود نرالا قیام ہے ساقی بہ ناز ِمغچگان و بہ فیض نعرۂ ہو ہمائے ارض و سما زیرِ دام ہے ساقی فضا پہ نہر پرافشانِ تابِ حور و طہور غنا میں شہرِ قصور و خیام ہے ساقی یہ کون شاہدِ مستی فروش و نغمہ نواز نفس کے تار پہ گرمِ خرام ہے ساقی نہ اسم و جسم نہ حرف و نفس نہ سایہ و نقل یہ کیا…
Read More