یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی شاید اسے نصیب فراغت نہیں ہوئی مصرع سمجھ کے میں نے اٹھا تو لیا اسے مشکل زمین تھی سو ریاضت نہیں ہوئی مقصود دست ِ یار پہ طعنہ زنی نہیں کیوں ایک زخم پر ہی قناعت نہیں ہوئی ایسا بھی کوئی اجنبی ملنا محال ہے خود سے ملا ہوں اور مجھے وحشت نہیں ہوئی ہنستے رہے ہیں دامن ِ صد چاک پر رفیق محسوس ہی رفو کی ضرورت نہیں ہوئی لائیں کوئی ثبوت ِ اطاعت ہی سامنے کہتے جو ہو جہاں سے بغاوت…
Read MoreCategory: آج کی غزل
آصف ثاقب ۔۔۔ فلک پہ ہے نظارا روشنی کا
فلک پہ ہے نظارا روشنی کا چمک اُٹھا ستارا روشنی کا لہو اپنا رواں اس میں کیا ہے تعلّق ہے ہمارا روشنی کا بڑھایا ہم نے دل کا نور ایسا اُدھر پانی اتارا روشنی کا جھلکتی ہے تو چھپ جاتی ہے پہلے یہ کیسا ہے اشارہ روشنی کا نگاہوں میں اجالا کر رہا ہے بہت اونچا منارہ روشنی کا پڑھوں تو نظم بن جاتا ہے ثاقب ہر آنسو ہے شمارہ روشنی کا
Read Moreمیتھیو محسن ۔۔۔ نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے
نہ جانے کیوں ہے یہ دل بے قرار کیا کہیے خوشی ہی راس نہ غم ساز گار کیا کہیے تمام رات ستاروں نے خون چھڑکا ہے کیا ہے کیسے ترا انتظار کیا کہیے ہر ایک یاد سے زخموں کے پھول کھلتے ہیں تباہ دل کے چمن کی بہار کیا کہیے ہجومِ جلوۂ رنگیں میں کھو گئی ہے نظر بہارِ حسن کا دل کش نکھار کیا کہیے یہ کس مقام پہ چھوڑا ہے زیست نے محسن نہ کوئی غم نہ کوئی غم گسار کیا کہیے
Read Moreمحمد انیس انصاری ۔۔۔ جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے
جِس سے ہر شخص ہے بیزار ، بدل ڈالیں گے ہم سیاست کا یہ معیار بدل ڈالیں گے جس نے لُوٹا ہے مرے دیس کی مٹّی کا سہاگ اِس کہانی سے وہ کردار بدل ڈالیں گے تو نے سینچا ہے جسے اپنے لہو سے برسوں یہ تو پل بھر میں وہ گلزار بدل ڈالیں گے میں نہ کہتا تھا کہ یہ لوگ تو سوداگر ہیں ترے اجداد کی اقدار بدل ڈالیں گے سُن اے نیلام گھروں تک ہمیں لانے والے! ہم ترا مصر کا بازار بدل ڈالیں گے ہم نے…
Read Moreخالق آرزو ۔۔۔ عمر بھر ایک شرر یاد آیا
عمر بھر ایک شرر یاد آیا ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا ہر طرف خاک مرے اُڑنے لگی جب بھی وہ دشت وہ سر یاد آیا میں کہاں اس کو بھلا بھول سکا ہاں تکلف سے مگر یاد آیا جب بھی آیا مجھے دنیا کا خیال ایک ممنوعہ شجر یاد آیا سن کے ہوتا ہے تعجب مجھ کو آرزو آپ کو گھر یاد آیا
Read Moreمحمد یوسف ۔۔۔ جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں
جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں زندگی یہ تِری سزا تو نہیں جانے کِس موڑ پر بچھڑ جائے ہم سفر نے ابھی کہا تو نہیں ہم مسافر ہیں ، آخرِ شب کے چل پڑیں ، کب ، کہیں ، پتا تو نہیں کوئی ویران کر گیا ہے شہر لوگ کہتے ہیں کچھ ہوا تو نہیں یہ مِرا گھر ہے یا کوئی صحرا پھول آنگن کوئی کِھلا تو نہیں وہ جو کب کا بچھڑ گیا یوسف شہرِ جاں سے ابھی گیا تو نہیں ۔۔۔۔ شور ایسا مری بستی کی فضا…
Read Moreنبیل احمد نبیل ۔۔۔ دو غزلیں
ایک لمحہ ہے ترے حُسنِ نظر کا جاگنا عشق ہے لیکن مسلسل عمر بھر کا جاگنا زندگی کے چاک پر گردِش کو رکھتا ہے رواں کُوزہ گر کے ہاتھ میں شوقِ ہنر کا جاگنا بنتا جاتا ہے تلاشِ آب و دانہ کا سبب صبح سے پہلے ہر اِک شاخِ شجر کا جاگنا کر گیا مجھ کو نئی سمتوں کی حیرانی میں گم منزلِ گم گشتہ سے عزمِ سفر کا جاگنا پھر کوئی پُرنم اُداسی دے گیا مجھ کو نبیل صفحۂ دل پر کسی رنگِ اثر کا جاگنا ۔۔۔۔۔ زندگی یوں…
Read Moreدلشاد احمد ۔۔۔ دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے
دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے میلے میں آ کے بھی کوئی تنہا لگا مجھے مسکاں منافقت کی مرا دل جلا گئی دشمن کا منہ پہ بولنا اچھا لگا مجھے ہر سانس جیسے وجہِ شکستِ وجود ہے ہر لمحہ ایک گھن کی طرح سا لگا مجھے جیسے ٹریڈ مل پہ ہوں اور چل نہیں رہا ایسا بھی ہو رہا ہے کچھ ، ایسا لگا مجھے آتا گیا قریب تو کھلتا چلا گیا اک شخص جو کہ دُور سے اچھا لگا مجھے دیکھا اُسے جو پیار کا چشمہ اتار کر…
Read Moreرضا اللہ حیدر ۔۔۔ بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے
بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے شاخِ احساس پہ تنویر سجا کر نکلے اور پھر بارشِ انوار سے بھر دے دامن تھامے بادل کی کلائی کوئی رہبر نکلے وہ جو گردابِ بلا ٹھیل گئے جھیل گئے بحرِ ہستی کے تلاطم میں شناور نکلے جن کے سینے میں دھڑکتا نہیں ریزہ کوئی دوست ایسے ہی مری راہ کے پتھر نکلے وہ کہ جو قوتِ بازو پہ بہت نازاں ہے آج آ جائے مقابل مرے ، باہر نکلے بد گمانی نے کئی چہرے بجھا رکھے تھے آزمائے تو رضا سرو…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ گدازِ دل سے باطن کا تجلی زار ہو جانا
یہ غزل باطن کی تجلی، روح کی بیداری، اور محبت کی معنوی تطہیر کا شعری مظہر ہے، جہاں ہر شعر اک اشکِ فکر، اک صداے دل معلوم ہوتا ہے۔
جوشؔ نے اپنے مخصوص خطیبانہ آہنگ میں حسن، وفا، اور معاشرتی اقدار پر نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ انہیں روحانی کشف و جذب کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔
اشعار میں اندیشہ و وجد کی وہ چنگاری موجود ہے جو دل کو لرزاں و ترساں رکھتی ہے—خصوصاً جب نویدِ عیش کے پیچھے نئی مصیبت کی آہٹ سنائی دے۔
شاعر حسن کے تغافل، ضبطِ شوق کی زہرناکی، اور اہلِ دنیا کی بے حسی پر شعلہ بیانی کے ساتھ اظہارِ افسوس کرتا ہے۔
یہ غزل جوشؔ کی عشقِ آگیں، فکرِ دروں بیں، اور سچ کہنے کی بیباک روایت کا درخشندہ استعارہ ہے، جہاں ہر لفظ بجائے خود تپش رکھتا ہے۔
