اسلم انصاری

ساحلِ غم کی ریت پر کس کی صدا کا خون ہے کس کو پکارتا رہا، کل کوئی ڈوبتا ہوا

Read More

سلیم احمد

سلیم! نفع نہ کچھ تم کو نقدِ جاں سے اُٹھا کہ مال کام کا جتنا تھا سب دکاں سے اُٹھا

Read More

جگر مراد آبادی

سب کو مارا جگر کے شعروں نے اور جگر کو شراب نے مارا

Read More

قتیل شفائی

ساری دنیا کی نظروں میں جھوٹے ہیں اندر سے ہم لوگ جو ٹوٹے پھوٹے ہیں

Read More

حسرت موہانی

سر کہیں، بال کہیں، ہاتھ کہیں، پائوں کہیں اُن کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو

Read More

یزدانی جالندھری

ساحل سے رابطہ ہی نہیں ٹوٹتا کبھی کیسے سمندروں میں اُتارے گئے ہیں ہم

Read More