ساحلِ غم کی ریت پر کس کی صدا کا خون ہے کس کو پکارتا رہا، کل کوئی ڈوبتا ہوا
Read MoreCategory: س
سلیم احمد
سلیم! نفع نہ کچھ تم کو نقدِ جاں سے اُٹھا کہ مال کام کا جتنا تھا سب دکاں سے اُٹھا
Read Moreظفر اقبال
سوال یہ ہے کہ سیدھا کھڑے کھڑے ہی ظفر درخت کیوں مجھے اُلٹا دکھائی دینے لگا
Read Moreجگر مراد آبادی
سب کو مارا جگر کے شعروں نے اور جگر کو شراب نے مارا
Read Moreقتیل شفائی
ساری دنیا کی نظروں میں جھوٹے ہیں اندر سے ہم لوگ جو ٹوٹے پھوٹے ہیں
Read Moreسجاد بلوچ
سمٹا ہی تھا کہ موجِ ہوا پھر پلٹ پڑی تقسیم کر گئی ہے مجھے پھر یہاں وہاں
Read Moreکاشف حسین غائر
سیر کرنے سے، ہَوا لینے سے کام ہے دل کو مزہ لینے سے
Read Moreمنیر سیفی
سوچنا بھی محال ہے جس کا نقش وہ بھی مشاہدے میں ہے
Read Moreحسرت موہانی
سر کہیں، بال کہیں، ہاتھ کہیں، پائوں کہیں اُن کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو
Read Moreیزدانی جالندھری
ساحل سے رابطہ ہی نہیں ٹوٹتا کبھی کیسے سمندروں میں اُتارے گئے ہیں ہم
Read More