خاور اعجاز ۔۔۔ موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے

موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے گلے پڑتے تھے جو گرداب تو پڑتے رہتے شعر کہنا کوئی آساں نہیں میرے نقّاد !  ہم تِری طرح سے پنسل نہیں گھڑتے رہتے ایک دن مان لی اُس کی سو بہت خوار ہُوئے کام بن جاتے اگر روز بگڑتے رہتے اور بھی رہتا اگر تن پہ لباسِ ہستی داغ دھبے مِری پوشاک  پہ پڑتے رہتے آدھا آدھا کیا جاگیر کو تب  چین ہُوا کب تلک بھائی سے بیکار جھگڑتے رہتے

Read More

استاد قمر جلالوی

غلط ہے شیخ کی ضد ساقیٔ محفل سے ٹوٹے گی قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے، قافلے والو! اگر ہمت تمھاری دوریٔ منزل سے ٹوٹے گی غرورِ نا خدائی  سامنے آ جائے گا اک دن یہ کشتی یک بہ یک  ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل سے ٹوٹے گی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو  خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک…

Read More

سعید سادھو … میں کیونکر نظم کہتا ہوں

"میں کیونکر نظم کہتا ہوں” غزل پابند کرتی ہے مجھے بس نظم ہی آزاد رکھتی ہے کسی پیچیدہ جُوڑے میں اُڑس لینا گُلابوں کا مجھے اچھا تو لگتا ہے کھُلے بالوں کا لہرانا مکمل نظم جیسا ہے ۔۔۔ میں چڑیا گھر میں سارے جانور تو دیکھ لیتا ہوں مگر جنگل کی ۔۔۔۔ سائَیں سائَیں ۔۔۔۔۔ سائِیں اور ہوتی ہے ۔۔۔ اے شالا مار کی ترتیب۔۔۔!!!!! تجھ میں بیٹھتا ہوں تو مجھے ناران بے ترتیب کیونکر ہانٹ کرتا ہے کہ بے ترتیب چیزوں میں بھی آخر کوئی تو ترتیب  ہوتی ہے…

Read More

علی اصغر عباس ۔۔۔ خدا  نے بندے کو حیران کردیا تو پھر

خدا  نے بندے کو حیران کردیا تو پھر جو خلق پھر نیا انسان کردیا تو پھر کشاکش آدم و ابلیس کی مٹا کر سب تمھاری دنیا پہ احسان کردیا تو پھر خدا  کے بارے میں سارے تصورات کے ساتھ گمان و ظن ہی کو ایقان کردیا تو پھر کھنکتی مٹی کا پتلا غرورِ عجز میں ہے شکوہِ عبد نے شیطان کردیا تو پھر جو کائناتوں کے بخیے ادھیڑ ڈالے اور شہود حیطۂ امکان کر دیا تو پھر لپیٹا وقت کے دورانیے کو ساعت میں ابد سمیٹ کے اک آن کردیا…

Read More

یزدانی جالندھری ۔۔۔   پس منظر

           پس منظر        ۔۔۔۔۔۔۔ وقت کا  رخش ِ رواں ہے تیز گامسانس، لمحے، دِن، مہینے اور سالاتنی تیزی سے گزرتے ہیں                کہ رہ جاتا ہے انساں دم بخودآج بھی اِک سال بِیتاتلخ و شیریں کتنی یادیںاور کتنے زخم دے کروقت کے گہرے سمندر میں گِرا اور مِٹ گیا اور ابھرا آفتاب ِ سال ِ نوکتنی امیدیں لئے، کتنے سنہرے خواب کرنوں میں سجائےاور میں۔۔۔اِس سوچ میں گُم ہوں                کہ اِن کرنوں کے پس منظر میں کتنے زخم ہیں !

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔ کہیں مٹایا گیا تو کہیں بنایا گیا

کہیں مٹایا گیا تو کہیں بنایا گیا میں اُتنا یاد رہا جس قدر بھلایا گیا تری تلاش میں چھانی ہے کائنات تمام میں اپنی ذات کے اندر بھی کتنا آیا گیا کوئی زمیں نہیں نا سازگارِ عشق یہاں یہ پھول وہ ہے جو آنکھوں میں بھی کھلایا گیا بفیضِ پائے تخیل، بزورِ فکرِ رسا جہاں میں تھا ہی نہیں، اس جگہ بھی پایا گیا کچھ آفتاب صفت لفظ میری پشت پہ ہیں سو آنے والے دنوں میں بھی میرا سایہ گیا ہمارے لفظ سے معنی تلک جو حائل تھا نظر…

Read More

شہاب اللہ شہاب ۔۔۔ گُر محبت میں مجھے آتا نہیں تدبیر کا

گُر محبت میں مجھے آتا نہیں تدبیر کا اس لئے محبوس ہوں میں حلقۂ زنجیر کا روز ہی ملنے کو کہتے ہو مگر آتے نہیں سو یقیں مجھ کو نہیں ہے آپ کی تحریر کا جو تجھے منظور ہے، مجھ کو وہی منظور ہے ڈر مجھے کوئی نہیں ہے پیار کی تعزیر کا لاکھ کوشش کر کے بھی خوش کر نہیں پایا ذرا کچھ دوا درماں نہیں ہے اس دلِ دَلگیر کا خواب دیکھے تھے سُہانے ساتھ جینے کے مگر تو نہ ہو تو کیا سُہانے خواب کی تعبیر کا…

Read More

محمد یوسف وحید ۔۔۔ محسن نقوی ___تعارف وکلام

محسن نقوی  …تعارف وکلام شعر و ادب کی دنیا کا ایک معتبر نام محسن نقوی 5 مئی 1947ء میں سید چراغ حسین شاہ کے ہاں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔والدین نے ان کا نام غلام عباس رکھا ۔ ان کا تعلق ایک عام اور کم آمدنی والے گھرانے سے تھا۔ ان کے والدپہلے لکڑی کا کام اور بعد ازاں ایک ہوٹل پر کام کرتے تھے۔ محسن نقوی کے چھ بہن بھائی تھے۔ پرائمری تعلیم گھر کے قریب واقع پرائمری سکول نمبر 6 میں حاصل کی۔میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر…

Read More